سوال 7191

گھر میں ملازم ہے وہ مسیحی ہے۔ کیا اسے قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے؟

جواب

جن کفار سے اسلام اور اہل اسلام کو کسی قسم کا نقصان نہیں نہ ہی وہ متعصب و ظالم ہیں تو ان کے ساتھ نیک سلوک، اور ان کے حق میں رب العالمین کی طرف سے انصاف کی اجازت دی گئ ہے۔
دیکھئے الممتحنة:(8)
اور اس حدیث کا شان نزول دیکھیے صحیح البخاری :(5978) باب صلة الوالد المشرك
اسی طرح اہل شرک،اہل کتاب،غیر مسلم کو فرض زکوۃ نہیں دے سکتے البتہ نفلی صدقہ انہیں دے سکتے ہیں
تو قربانی علی الراجح سنت مؤکدہ ہے سو اس کا گوشت انہیں دے سکتے ہیں اگر وہ مساکین و فقرا سے ہیں
قرآن کریم کی عمومی ترغیب وارشاد میں یہ لوگ بھی شامل ہیں خاص طور پر جو رشتہ دار وخاندان سے ہوں۔
امام ابراہیم نخعی سے پوچھا گیا تو فرمایا:
ﺃﻣﺎ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻓﻼ ﻭﺃﻣﺎ ﺇﻥ ﺷﺎء ﺭﺟﻞ ﺃﻥ ﻳﺘﺼﺪﻕ ﻓﻼ ﺑﺄﺱ۔
مصنف ابن أبي شيبة :(10703)
الأموال لابن زنجويه میں فرض زکوۃ اہل شرک وکفر کو نہ دینے کے متعلق دلائل وآثار ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:
ﻭﻻ ﺑﺄﺱ ﺃﻥ ﺗﻮﺻﻞ ﺃﺭﺣﺎﻣﻬﻢ، ﻭﻳﺘﻄﻮﻉ ﻋﻠﻴﻬﻢ، ﻭﻳﻮﺻﻰ ﻟﻬﻢ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ اﻟﻮاﺟﺐ
الأموال لابن زنجويه :3/ 1210(2289)
مزید أبو أحمد کہتے ہیں:
……..ﻭﻻ ﺑﺄﺱ ﺃﻥ ﻳﻌﻄﻮا ﻣﻦ اﻟﺘﻄﻮﻉ۔
الأموال لابن زنجويه:(2295)
اسی طرح اس نیت و ارادہ سے بھی ان پر نفلی صدقہ کر سکتے ہیں کہ وہ اس نیک سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیں ۔
المختصر:
انہیں فرض زکوۃ و وراثت میں سے کبھی کچھ نہیں دیا جائے گا البتہ نفلی صدقہ وخیرات ان پر کر سکتے ہیں۔
اور والدین ،اقرباء سے اگر کوئی کافر ومشرک ہے تو اس پر خرچ کرنا اور اس کا خیال رکھنا واجب ہے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ