مؤرخِ اہلِ حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کامختصر تعارف
قسط: اوّل
برصغیر کی علمی، دینی، صحافتی اور تہذیبی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی محض ایک فرد کی زندگی نہیں رہتی، بلکہ وہ اپنے عہد کی ایک مکمل تصویر بن جاتی ہے۔ ان کی ذات میں ایک زمانے کی علمی روایت، ایک نسل کی فکری تربیت، ایک جماعت کی جدوجہد، ایک معاشرے کے تغیرات اور ایک پورے عہد کی یادیں سمٹ آتی ہیں۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ صرف عالم، ادیب، صحافی یا مؤرخ نہیں تھے، بلکہ اپنے عہد کے مشاہد، راوی، محقق اور محفوظ کنندہ بھی تھے۔ انہوں نے برصغیر کے آخری دورِ غلامی، تحریکِ آزادی، ریاستی جبر، قید و بند، تقسیمِ ہند، ہجرت اور قیامِ پاکستان کے ابتدائی حالات کو قریب سے دیکھا۔ بعد ازاں جماعتی، صحافتی، علمی اور تصنیفی میدان میں طویل عرصہ کام کرتے ہوئے اپنے مشاہدات، تجربات اور اہلِ علم کی زندگیوں کو قلم بند کیا۔ ان کی شخصیت میں علم کے ساتھ مشاہدہ، مطالعے کے ساتھ حافظہ، قلم کے ساتھ کردار، تحقیق کے ساتھ وسعتِ نظر اور سنجیدگی کے ساتھ شگفتگی جمع تھی۔ یہی اوصاف آگے چل کر ان کی تاریخی اور شخصی تحریروں کا امتیاز بنے۔ ان کی تصنیفی زندگی تقریباً سات دہائیوں پر محیط رہی اور تاریخ، سیرت، تذکرہ، سوانح، صحافت اور خاکہ نگاری ان کے قلم کے نمایاں میدان رہے۔
خاندانی پس منظر اور آبائی ماحول:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس میں دیانت، شرافت، دین داری، مطالعہ اور دینی ذوق کی روایات موجود تھیں۔
ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے:
محمد اسحاق بن عبدالمجید بن محمد بن دوست محمد، المعروف میاں دسوندھی، بن منصور بن خزانہ بن جیوا۔
ان کے جدِ امجد میاں جیوا کا تعلق مشرقی پنجاب کے علاقے ہنڈایا سے ہے اور وہ مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے وابستہ رہے۔ بعد کی نسلیں روزگار کے سلسلے میں مختلف علاقوں میں پھیل گئیں اور خاندان کے متعدد افراد کوٹ کپورہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہوئے۔
ان کے پردادا میاں دوست محمد، المعروف میاں دسوندھی، اپنے زمانے کے طبیب اور معزز شخصیت تھے، جبکہ ان کے دادا میاں محمد دینی ذوق رکھنے والے نیک اور متقی بزرگ تھے۔ مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے ابتدائی دینی تعلیم انہی سے حاصل کی۔ قرآنِ مجید کے ناظرہ کے ساتھ اردو اور پنجابی کی دینی کتابوں سے ان کا ابتدائی تعارف بھی گھر ہی میں ہوا۔ ان کی علمی زندگی کی پہلی بنیاد کسی بڑے مدرسے میں نہیں بلکہ گھر کے دینی اور علمی ماحول میں قائم ہوئی، جہاں بزرگوں کی صحبت، کتاب اور دینی تربیت ایک دوسرے سے مربوط تھے۔
ولادت اور ابتدائی بچپن:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ 15 مارچ 1925ء کو کوٹ کپورہ، ریاست فریدکوٹ، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔
ان کی ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے دادا میاں محمد سے ہوا۔ تقریباً پانچ برس کی عمر میں قرآنِ مجید کا ناظرہ اور اردو پڑھنا شروع کیا، جبکہ ساتھ ہی سرکاری اسکول میں بھی داخل ہوئے اور ابتدائی جماعتوں کی تعلیم حاصل کی۔
بچپن ہی میں ان کے اندر کتاب، علم اور دینی مطالعے سے گہرا تعلق پیدا ہوگیا تھا، جو آگے چل کر ان کی پوری علمی زندگی کی بنیاد بنا۔
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی صحبت:
1933ء میں جب وہ ابھی کم سن طالب علم تھے ان کے دادا انہیں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی خدمت میں لے گئے جو اس زمانے میں کوٹ کپورہ میں دینی تعلیم و تدریس سے وابستہ تھے۔یہ ملاقات مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی زندگی کا ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔ مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ نے ان کی علمی استعداد کو محسوس کیا اور انہیں اپنی علمی تربیت میں لے لیا۔
1933ء سے 1940ء تک انہوں نے مختلف مراحل میں ان سے قرآنِ مجید کا ترجمہ، حدیث، فقہ، اصول، عربی زبان و ادب، صرف و نحو اور دیگر مروجہ علوم کی کتابیں پڑھیں۔ اسی عرصے میں وہ مرکز الاسلام لکھوکے میں بھی زیرِ تعلیم رہے، جہاں مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ سے علمی استفادہ جاری رکھا۔
فیروزپور میں علمی استفادہ:
تحصیلِ علم کے اسی مرحلے میں مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ فیروزپور کی جامع مسجد گنبد والی میں بھی مقیم رہے اور وہاں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کے علاوہ مولانا محمد شفیع ہوشیارپوری اور مولانا ثناء اللہ ہوشیارپوری رحمہما اللہ جیسے اہلِ علم سے بھی استفادہ کیا۔ یہ مرحلہ ان کی علمی تربیت میں اس اعتبار سے اہم تھا کہ انہیں مختلف اساتذہ، مختلف علوم اور مختلف علمی مجالس سے براہِ راست استفادے کا موقع ملا۔
گوجرانوالہ میں تکمیلِ تعلیم:
1940ء میں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کے مشورے اور ہدایت پر مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ گوجرانوالہ تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ اور مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے انہوں نے حدیث کی اہم کتابوں، بالخصوص صحیح بخاری، صحیح مسلم اور موطأ امام مالک وغیرہ کا درس لیا، جبکہ مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ سے تفسیر، فقہ، ادب اور دیگر درسی علوم سے استفادہ کیا۔ یوں ان کی مروجہ دینی تعلیم کا اہم حصہ گوجرانوالہ میں مکمل ہوا اور انہیں باقاعدہ علمی فراغت حاصل ہوئی۔
ان کے نمایاں اساتذہ میں بالخصوص یہ بزرگ شامل ہیں:
1. مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ
2. حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ
3. مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ
4. مولانا محمد شفیع ہوشیارپوری رحمہ اللہ
5. مولانا ثناء اللہ ہوشیارپوری رحمہ اللہ
ان میں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی حیثیت ان کے لیے صرف استاد کی نہیں بلکہ مربی، رہنما اور علمی سرپرست کی بھی تھی۔
تدریس اور عملی زندگی کا آغاز:
تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ سرکاری ملازمت بھی کی۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے محکمہ انہار، ہیڈ سلیمانکی میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت کی، تاہم یہ ملازمت زیادہ عرصہ جاری نہ رہی۔ اس کے بعد مارچ 1943ء سے وہ مرکز الاسلام، لکھوکے میں تدریسی خدمت سے وابستہ ہوگئے اور قیامِ پاکستان تک تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔
کم عمری میں قومی و سیاسی شعور:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کا ابتدائی زمانہ برصغیر کی سیاسی بے چینی اور آزادی کی جدوجہد کا دور تھا۔ چنانچہ ان کی زندگی صرف درس گاہ تک محدود نہ رہی، بلکہ کم عمری ہی میں انہیں اپنے گردوپیش کے سیاسی اور اجتماعی حالات سے واسطہ پڑا۔
1939ء میں فیروزپور میں انہیں قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کے زمانے میں آزادی کی جدوجہد کے سلسلے میں انہیں ریاست فریدکوٹ میں بھی قید کیا گیا۔ یوں ان کی جوانی کا ایک حصہ ایسے ماحول میں گزرا جس میں آزادی کی تحریکیں، ریاستی پابندیاں اور سیاسی سرگرمیاں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی تھیں۔
ریاست فریدکوٹ کی پرجا منڈل اور آزادی کی جدوجہد:
ریاست فریدکوٹ میں آزادی کی جدوجہد کے دوران پرجا منڈل ایک اہم سیاسی پلیٹ فارم تھا۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ بھی اس سرگرمی میں عملی طور پر شریک ہوئے۔
1946ء سے 1947ء تک وہ ریاست فریدکوٹ کی پرجا منڈل کے جنرل سیکریٹری رہے۔ اس تنظیم کے صدر گیانی ذیل سنگھ تھے، جو بعد میں ہندوستان کے صدر بنے۔اس سرگرمی کے نتیجے میں انہیں ریاستی دباؤ اور قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان حالات نے ان کے عملی تجربے اور تاریخی مشاہدے میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا۔
ہجرت اور پاکستان میں نئی زندگی:
قیامِ پاکستان کے وقت مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے بھی اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی۔ ایک روایت کے مطابق 21 اگست 1947ء کو وہ کوٹ کپورہ سے ایک بڑے قافلے کے ساتھ قصور پہنچے اور بعد ازاں اکتوبر 1947ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئے۔
پاکستان میں ان کا قیام چک نمبر 53 گ ب، ڈھیسیاں منصورپورہ، تحصیل جڑانوالہ، ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد) میں ہوا۔
ہجرت کے بعد ان کی زندگی میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ اس دور میں انہوں نے تدریس، جماعتی نظم و نسق اور صحافت سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیں اور بالآخر ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اہلِ حدیث جماعت کی علمی و صحافتی خدمت کے لیے وقف ہوگیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ سے ملاقات:
تقسیمِ ہند سے چند روز قبل مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ دہلی گئے، جہاں انہیں مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس ملاقات میں ریاست فریدکوٹ کے مسلمانوں کے حالات اور ان کے تحفظ کے امکانات کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ یہ ملاقات مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی زندگی کے ان واقعات میں شمار ہوتی ہے جن سے ان کے وسیع سیاسی و سماجی مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ ایسے نازک دور کے عینی مشاہد تھے جب برصغیر کی سیاسی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی اور چند ہی دن بعد تقسیمِ ہند کا عظیم انسانی المیہ رونما ہونے والا تھا۔
پاکستان میں جماعتی زندگی کا آغاز:
قیامِ پاکستان کے بعد برصغیر کے اہلِ حدیث حلقوں کو نئی مملکت میں اپنی جماعتی اور تنظیمی سرگرمیوں کو ازسرنو منظم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
24 جولائی 1948ء کو لاہور میں دارالعلوم تقویۃ الاسلام کے مقام پر مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ کی صدارت میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث مغربی پاکستان کے قیام کا مرحلہ مکمل ہوا۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ اس جماعتی نظم کے ابتدائی رفقاء میں شامل تھے اور دسمبر 1948ء میں انہیں مرکزی جمعیت کے دفتر کی ذمہ داری سونپی گئی۔یہ مرحلہ ان کی زندگی میں ایک نئے عملی دور کا آغاز تھا۔ اب ان کی سرگرمیوں کا دائرہ ذاتی معاشی زندگی اور تدریس سے بڑھ کر جماعتی نظم، دینی خدمت اور اجتماعی ذمہ داریوں تک پھیل گیا۔ اسی دور میں ان کا تعلق مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ سے مزید مضبوط ہوا۔ بعد کے برسوں میں ان کی رفاقت مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی علمی، جماعتی اور عملی زندگی کا اہم حصہ رہی۔
صحافت سے گہرا تعلق:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک نہایت اہم باب صحافت سے وابستہ ہے۔
19 اگست 1949ء کو گوجرانوالہ سے ہفت روزہ الاعتصام کا اجرا ہوا۔ ابتدائی زمانے میں مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ کے ساتھ صحافتی کام میں حصہ لیا۔ ان کی ذمہ داریاں صرف تحریر اور ادارت تک محدود نہ تھیں۔ اخبار کے محدود وسائل کے باعث وہ بیک وقت کلرک، منیجر، پروف ریڈر، منتظم اور مدیر کی متعدد ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔
15 مئی 1951ء کو مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ سے وابستہ ہوگئے تو الاعتصام کی ادارت مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے سپرد ہوگئی۔ وہ تقریباً پندرہ برس اس اخبار کی ادارت سے وابستہ رہے۔
1952ء میں اخبار کا دفتر لاہور منتقل ہوا، جہاں مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی صحافتی سرگرمیاں مزید وسیع ہوئیں۔
ان کے دورِ ادارت میں حجیتِ حدیث نمبر، 1857ء نمبر، آئین نمبر اور متعدد خصوصی و عید نمبر شائع ہوئے، جن میں ان کی علمی دلچسپی اور اداراتی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔
صحافت کا منفرد انداز:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے ہاں صحافت محض روزمرہ خبروں یا سیاسی تبصروں کا نام نہیں تھی۔ ان کی صحافتی تحریروں میں علمی مطالعہ، تاریخی شعور، زبان و بیان کی پختگی اور موضوع سے گہری واقفیت نمایاں تھی۔ وہ عبارت کی صحت، اسلوب کی روانی اور مضمون کے علمی وزن کا خاص خیال رکھتے تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود ان کی تحریر میں علمی وقار اور شائستگی کا پہلو نمایاں رہتا تھا۔صحافت کے اسی تجربے نے آگے چل کر ان کی تاریخی، سوانحی اور شخصی تحریروں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔
سہ روزہ ’’منہاج‘‘:
جنوری 1958ء میں مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے اپنا سہ روزہ اخبار منہاج جاری کیا، جو تقریباً اگست 1959ء تک شائع ہوتا رہا۔
اس عرصے میں وہ اپنی صحافتی فکر اور تحریری اسلوب کو ایک نسبتاً مستقل پلیٹ فارم پر پیش کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بعض دوسرے اخبارات و رسائل میں بھی مضمون نویسی اور کالم نگاری کی۔ اس طرح ان کا صحافتی تجربہ ایک ہی ادارے تک محدود نہ رہا، بلکہ مختلف مطبوعات تک پھیلتا گیا۔
’’الاعتصام‘‘ سے علیحدگی اور ہفت روزہ ’’توحید‘‘:
30 مئی 1965ء کو مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے ہفت روزہ الاعتصام کی ادارت سے استعفا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے سید ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ کے ساتھ مل کر ہفت روزہ توحید جاری کیا۔یہ رفاقت زیادہ طویل نہ رہی اور 11 ستمبر 1965ء کو مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے ’’توحید‘‘ سے بھی علیحدگی اختیار کرلی۔یوں 1949ء سے 1965ء تک کا دور ان کی صحافتی زندگی کا نہایت اہم مرحلہ تھا، جس میں انہوں نے تحریر، ادارت، پروف خوانی، انتظام، مضمون نویسی اور صحافتی منصوبہ بندی سمیت عملی صحافت کے مختلف پہلوؤں کا براہِ راست تجربہ حاصل کیا۔
ادارہ ثقافتِ اسلامیہ سے وابستگی:
صحافت سے طویل وابستگی کے بعد مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی علمی زندگی میں ایک نہایت اہم موڑ آیا۔ 21 اکتوبر 1965ء کو وہ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور سے ریسرچ فیلو کی حیثیت سے وابستہ ہوئے۔یہ ادارہ اس زمانے میں متعدد ممتاز محققین اور اہلِ قلم کا علمی مرکز تھا۔ یہاں انہیں صحافت کے ساتھ ساتھ تحقیق، تدوین، ترجمہ، تصحیح، مقدمہ نگاری اور علمی و تاریخی مواد کی ترتیب کے وسیع میدان میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ میں ان کی علمی صلاحیتیں ایک نئے انداز میں سامنے آئیں۔ ان کے مطالعے کا دائرہ وسیع ہوا اور قدیم و جدید علمی مواد سے براہِ راست واسطہ پڑا۔ وہ اس ادارے سے تقریباً 32 برس وابستہ رہے اور 16 مارچ 1996ء کو سبک دوش ہوئے۔
’’المعارف‘‘ کی ادارت:
ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ کے علمی مجلے المعارف سے بھی مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کا گہرا تعلق رہا۔ وہ اس کے مدیر رہے اور اس دوران اداریے، تحقیقی و علمی مقالات، کتابوں پر تبصرے اور دید و شنید کے عنوان سے حالات و واقعات پر تحریریں لکھتے رہے۔ المعارف کی ادارت نے ان کے تحقیقی اور ادبی ذوق کو مزید جِلا بخشی۔ یہاں تحقیق، صحافت اور ادب کے تجربات ایک دوسرے سے مربوط ہوئے اور ان کی نثر میں وہ سادگی، شگفتگی اور روانی مزید نمایاں ہوئی جو بعد میں ان کی شخصیات نگاری کی شناخت بنی۔
صحافت سے تحقیق تک: ایک نئے علمی دور کا آغاز:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی زندگی میں 1949ء سے 1965ء تک صحافت اور اس کے بعد ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ میں تحقیق و تدوین دو الگ مگر باہم مربوط مراحل تھے۔ صحافت نے انہیں زبان، اسلوب، واقعات، شخصیات اور معاصر معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا، جبکہ ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ نے انہیں تحقیق، تدوین، تاریخی مصادر اور علمی ترتیب کے وسیع میدان میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہی علمی اور صحافتی تجربات آگے چل کر اس شخصیت کی تشکیل کا ذریعہ بنے جسے اہلِ علم نے برصغیر کے اہلِ حدیث علماء، محدثین، فقہاء، اہلِ قلم اور دینی شخصیات کے حالات محفوظ کرنے والے اہم مورخ اور تذکرہ نگار کے طور پر پہچانا۔
علمی و ادبی مجالس اور اہلِ علم سے تعلق:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو اہلِ علم، اہلِ قلم اور علمی و ادبی شخصیات سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ ان کی طویل زندگی میں بے شمار اہلِ علم اور اہلِ قلم آئے جن سے انہوں نے ملاقات کی، ان کی صحبت اختیار کی اور ان کے علمی و شخصی اوصاف کو قریب سے دیکھا۔ان کی تحریروں کی ایک بڑی خصوصیت یہی ہے کہ وہ جن شخصیات کا تذکرہ کرتے ہیں، ان کے بارے میں محض سنی سنائی معلومات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جہاں ممکن ہو اپنے مشاہدے، ملاقات اور ذاتی تجربے کو بھی محفوظ کرتے ہیں۔اسی وجہ سے ان کے سوانحی خاکوں میں شخصیت صرف ایک نام یا عہدہ نہیں رہتی، بلکہ اس کا ماحول، گفتگو، عادات، مزاج اور انسانی پہلو بھی سامنے آجاتا ہے۔
ریڈیو پاکستان سے وابستگی:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی علمی سرگرمیاں مطبوعہ صحافت تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے ریڈیو پاکستان کے ذریعے بھی دینی، تاریخی اور علمی موضوعات کو عام سامعین تک پہنچایا۔ ایک روایت کے مطابق ریڈیو پاکستان سے ان کی پہلی تقریر 25 دسمبر 1965ء کو نشر ہوئی۔ اس کے بعد ان کی ریڈیائی تقریروں کا سلسلہ تقریباً 1997ء تک جاری رہا۔
اس دوران انہوں نے مختلف پروگراموں میں قرآن، حدیث، سیرت، علمی شخصیات، کتابوں اور دینی و تاریخی موضوعات پر گفتگو کی۔ ان پروگراموں میں صراطِ مستقیم، آیاتِ بینات، فوجی بھائیوں کا پروگرام، سیرتِ طیبہ، کتابوں پر تبصرے اور مختلف مذاکرے سمیت متعدد سلسلے شامل تھے۔ ریڈیو کے ذریعے ان کا علمی مطالعہ اہلِ علم کی محفلوں سے نکل کر عام سامعین تک پہنچا۔
’’رحمۃ للعالمین‘‘ کی ریڈیائی تلخیص:
ریڈیو پاکستان پر انہیں قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ کی معروف سیرت رحمۃ للعالمین کی تلخیص پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔ یہ پروگرام اردو میں نشر ہوا اور بعد ازاں اسی نوعیت کا پروگرام پنجابی زبان میں بھی پیش کیا گیا۔یہ کام محض ایک معروف کتاب کے مضامین کو مختصر کرکے پیش کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک علمی تصنیف کے بنیادی مباحث کو عام سامعین کے لیے قابلِ فہم انداز میں منتقل کرنا تھا۔ اس میں ان کی علمی استعداد کے ساتھ ان کی ابلاغی صلاحیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔
’’زندہ و تابندہ‘‘ اور اکابر اہلِ علم کا تذکرہ:
ریڈیو پاکستان کے پروگرام زندہ و تابندہ میں انہیں ان اہلِ علم اور دینی شخصیات کے حالات بیان کرنے کے لیے مدعو کیا گیا جو دنیا سے رخصت ہوچکے تھے، مگر ان کی علمی و دینی خدمات زندہ تھیں۔مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے اس پروگرام میں مسلسل 45 دن گفتگو کی۔ ان میں سید عبداللہ غزنوی، مولانا عبدالجبار غزنوی، مولانا عبدالواحد غزنوی، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، مولانا عبدالقادر قصوری، مولانا محی الدین احمد قصوری، حافظ عبداللہ روپڑی، مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہم اللہ اور دیگر اہلِ علم کا ذکر شامل تھا۔یہ پروگرام ان کی محفوظ یادداشتوں اور علمی مشاہدات کو ایک وسیع تر سامعین تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنا۔
ٹیلی وژن سے وابستگی:
ریڈیو کے بعد مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی علمی و دینی موضوعات پر گفتگو کی۔ جولائی 1972ء میں انہیں پروگرام بصیرت میں شرکت کا موقع ملا۔
ان کی علمی گفتگو کا دائرہ ریڈیو سے آگے بڑھ کر ٹیلی وژن تک پہنچا اور انہوں نے جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی اپنے علمی تجربے اور مطالعے کو لوگوں تک منتقل کیا۔
علمی تعلقات کی وسعت:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے تعلقات کسی ایک علمی یا جماعتی حلقے تک محدود نہیں تھے۔ ان کی صحبت اور قلم میں مختلف علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا ذکر ملتا ہے۔انہوں نے اہلِ حدیث علماء کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے، لیکن اپنی سوانحی اور شخصی تحریروں میں دوسرے مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی علمی و ادبی شخصیات کو بھی موضوع بنایا۔ ان کے سوانحی خاکوں میں اہلِ حدیث شخصیات کے ساتھ ساتھ دیگر مکاتبِ فکر کی بعض شخصیات پر بھی سوانحی خاکے تحریر کیے۔
یہ وسعت ان کے مشاہداتی اور تاریخی مزاج کا حصہ تھی۔ وہ شخصیت کو محض اس کی جماعتی نسبت سے نہیں بلکہ اس کے علمی، ادبی، انسانی اور تاریخی پہلوؤں سے دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔
سادہ مزاجی، ملنساری اور خوش طبعی:
علمی مقام اور وسیع تعلقات کے باوجود مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی طبیعت میں سادگی نمایاں تھی۔ معاصرین نے ان کے بارے میں محبت و خلوص، انسان دوستی، ملنساری، مہمان نوازی، سادگی، مروّت اور خوش طبعی جیسے اوصاف بیان کیے ہیں۔ان کی مجلس میں علمی گفتگو کے ساتھ شگفتگی بھی موجود رہتی۔ سنجیدہ موضوعات کو بھی وہ ایسے پیرائے میں بیان کرسکتے تھے کہ مجلس خشک اور بوجھل نہ ہونے پائے۔ ان کی خوش طبعی اور بذلہ سنجی ان کی فطری طبیعت کا حصہ تھی اور اسی کا عکس ان کی نثر میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
اہلِ قلم نے ان کی نثر میں سادگی، روانی، شستگی اور شگفتگی کو نمایاں خصوصیات کے طور پر محسوس کیا۔
مشاہدہ اور حافظہ: شخصیات نگاری کا سرمایہ:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک بنیادی وصف ان کی قوی یادداشت اور مشاہداتی قوت تھی۔ وہ اپنے زمانے کی متعدد علمی و جماعتی شخصیات سے براہِ راست ملے تھے اور ان ملاقاتوں اور مجالس کے بہت سے واقعات طویل عرصے تک ان کے حافظے میں محفوظ رہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد اور جماعتی تاریخ کے متعدد واقعات ان کے ذہن میں محفوظ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کسی شخصیت کا خاکہ لکھتے تو اس میں صرف پیدائش، تعلیم اور تصانیف کی معلومات نہیں ہوتیں بلکہ شخصیت کا انسانی پہلو بھی سامنے آجاتا۔کسی عالم کی گفتگو، کسی مجلس کا ماحول، کسی شخصیت کی عادت یا کسی واقعے کی چھوٹی سی جزئیات بھی ان کی تحریر میں محفوظ ہوجاتی تھی۔ یہی حافظہ اور مشاہدہ ان کی شخصیات نگاری کا ایک اہم سرمایہ بن گیا۔
اختلاف میں علمی وقار:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی طویل علمی و صحافتی زندگی میں اختلافِ رائے کے مواقع بھی آئے، تاہم ان کی تحریروں میں علمی شائستگی اور تاریخی پس منظر کو اہمیت دینے کا رجحان نمایاں ہے۔وہ واقعات اور شخصیات کو صرف مدح یا مذمت کے دائرے میں محدود کرنے کے بجائے ان کے حالات، خدمات اور انسانی پہلوؤں کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
زندگی کے آخری ادوار:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی زندگی کا بڑا حصہ کتاب، قلم، اہلِ علم کی صحبت اور علمی سرگرمیوں میں گزرا۔ عمر کے آخری حصے تک ان کا علمی تعلق قائم رہا اور انہوں نے اپنے مشاہدات و یادداشتوں کو تحریری شکل دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی زندگی تقریباً ایک صدی پر محیط ایسے دور کی گواہ تھی جس میں برصغیر نے نوآبادیاتی ہندوستان، آزادی کی تحریک، تقسیمِ ہند، ہجرت، قیامِ پاکستان، دینی جماعتوں کی تنظیمِ نو، صحافت کے مختلف ادوار اور ذرائع ابلاغ کی جدید صورتوں تک کا سفر دیکھا۔
ایک شخصیت، کئی جہتیں:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کو کسی ایک عنوان میں محدود کرنا آسان نہیں۔ وہ
– ایک دینی ماحول کے تربیت یافتہ فرد تھے
– جلیل القدر اہلِ علم کے شاگرد تھے
– آزادی کی جدوجہد کے کارکن رہے
– قید و بند سے گزرے
– ہجرت کے مسافر بنے
– پاکستان کے ابتدائی حالات کے شاہد رہے
– جماعتی نظم میں خدمات انجام دیں
– صحافی اور مدیر رہے
– تحقیقی ادارے سے وابستہ رہے
– ریڈیو کے مقرر اور ٹیلی وژن کے اہلِ گفتگو رہے
– اہلِ علم کی صحبتوں کے امین تھے
– شخصیات کے حالات کے شناسا تھے
– اور اپنے مشاہدات و تجربات کو تحریری سرمایہ بنانے والے مؤرخ و تذکرہ نگار تھے۔
ان تمام جہتوں کا اجتماع ہی مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی شخصیت کو منفرد بناتا ہے۔
وہ صرف تاریخ لکھنے والے نہیں، تاریخ کے مشاہد بھی تھے:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی شخصیت کا اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی تاریخی معلومات کا ایک بڑا حصہ زندہ مشاہدے اور براہِ راست تعلق سے آیا۔ انہوں نے برصغیر کا آخری دورِ غلامی دیکھا، آزادی کی تحریک کے حالات سے گزرے، تقسیمِ ہند اور ہجرت کا تجربہ کیا، پاکستان کے ابتدائی دور کو دیکھا، اہلِ حدیث جماعت کی تنظیمی زندگی میں حصہ لیا، صحافت کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیا اور اپنے زمانے کے متعدد اکابر اہلِ علم سے براہِ راست ملاقاتیں کیں۔بعد میں یہی مشاہدات ان کی تحریروں میں منتقل ہوئے۔ اس اعتبار سے ان کے پاس صرف کتابی تاریخ نہیں تھی بلکہ زندگی سے حاصل کیا ہوا تاریخی تجربہ بھی تھا۔ یہی چیز ان کی تحریروں میں وہ انسانی رنگ پیدا کرتی ہے جو محض دستاویزی تاریخ میں کم نظر آتا ہے۔
علمی دنیا کے ایک عہد کے امین:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ایک ایسا شخص رخصت ہوا جس کے حافظے میں برصغیر کی دینی و علمی زندگی کی کئی دہائیوں کی یادیں محفوظ تھیں۔ جن بزرگوں کو بعد کی نسلیں صرف کتابوں میں پڑھتی ہیں، ان میں سے بہت سے ان کے لیے محض کتابی شخصیات نہ تھے وہ ان کے استاد، رفیق، ہم مجلس یا واقف کار تھے۔
انہوں نے ان شخصیات کو قریب سے دیکھا، ان کی مجالس میں بیٹھے، ان کی گفتگو سنی اور پھر اپنے قلم کے ذریعے ان کے حالات اگلی نسلوں تک پہنچائے۔ اسی لیے ان کی شخصیت کو صرف ایک صحافی، مصنف یا مؤرخ کے عنوان سے مکمل طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ اپنے عہد کے مشاہد، راوی اور حافظِ تاریخ بھی تھے۔
ان کی سب سے بڑی خصوصیات میں یہ بات نمایاں ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے کو صرف دیکھا نہیں بلکہ اسے سمجھا، یاد رکھا اور قلم کے ذریعے محفوظ کردیا۔ ان کے ہاں علمی وقار کے ساتھ سادگی، تاریخی شعور کے ساتھ انسانی بصیرت، سنجیدگی کے ساتھ شگفتگی اور تحقیق کے ساتھ مشاہدے کی قوت جمع ہوگئی تھی۔
اسی لیے ان کی تحریروں میں صرف واقعات نہیں ملتے بلکہ ان واقعات کے پیچھے موجود لوگ، مجالس، ماحول اور ایک گزرا ہوا عہد بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک ایسے دور کے امین تھے جس کی بہت سی شخصیات، مجلسیں اور یادیں آج صرف کتابوں میں باقی ہیں؛ اور ان یادوں کو محفوظ کرنے میں مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کا قلم ایک اہم تاریخی حافظ بن کر سامنے آتا ہے۔
وفات اور اگلی قسط:
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی وفات 22 دسمبر 2015ء کو ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی علم، تحقیق، صحافت اور اہلِ علم کی خدمات کے لیے وقف کیے رکھی۔
ان کی وفات، آخری ایام، تصنیفی و تحقیقی خدمات اور علمی ورثے کی تفصیلات آئندہ قسط میں ملاحظہ کیجیے۔
جاری ہے۔۔۔ قسط دوم میں ملاحظہ کیجیے
اللہ تعالیٰ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی و قلمی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




