فضیلۃ الشیخ مفسرِ قرآن مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کا مختصر تعارف
برصغیر کی علمی تاریخ میں بعض اہلِ علم ایسے گزرے ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کی خدمت کو اپنی زندگی کا محور بنایا اور تصنیف و تحقیق، کتابتِ قرآن، دینی تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ بھی انہی اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوش نویسی، کتابتِ قرآن، تصنیف و تالیف، تحقیق، صحافت اور دینی تعلیم جیسے متنوع میدانوں میں خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ ان کی علمی زندگی کا نمایاں ثمرہ ’’تیسیر القرآن‘‘ ہے، جو ان کے قرآنی ذوق، وسیع مطالعے اور تحقیقی مزاج کی ترجمان ہے۔
پیدائش اور ابتدائی خاندانی پس منظر:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ 11 نومبر 1923ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم نور الٰہی تھے، جن کا آبائی تعلق گاؤں حضرت کیلیانوالہ، قربِ علی پور چٹھہ، ضلع گوجرانوالہ سے تھا۔ خاندان کے متعدد افراد اسی علاقے سے وابستہ رہے، جبکہ بعد میں خاندان کے بعض افراد لاہور منتقل ہوگئے۔ مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کے چچا حافظ عبد الحی کیلانی رحمہ اللہ بھی اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی ابتدائی زندگی ایک دینی، محنتی اور اصول پسند ماحول میں گزری۔ تعلیم کے ساتھ گھریلو ذمہ داریوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ کبھی ٹیوشن پڑھا کر اور کبھی والد محترم کے کاروباری معاملات میں ہاتھ بٹا کر گھر کے اخراجات میں تعاون کرتے تھے۔ تعلیمی زندگی میں اچھی کارکردگی کے باعث وظائف بھی حاصل کیے، تاہم گھریلو حالات کے باعث بی اے کی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ اس کے باوجود ذاتی مطالعہ، علمی جستجو اور تحقیق کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوا۔
دیانت داری اور ملٹری سروس:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ اوائل عمری میں پونا (انڈیا) میں ملٹری کے شعبے میں بطور کلرک ملازم تھے اور فوجیوں کی تنخواہوں اور بقایاجات سے متعلق امور انجام دیتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک فوجی کی کافی عرصے سے رکی ہوئی تنخواہ اور بقایاجات کا معاملہ ان کے پاس آیا۔ انہوں نے محنت کرکے اس معاملے کو حل کروایا اور فوجی کے واجبات ادا ہوگئے۔ وہ شخص خوشی کے اظہار کے لیے شام کے وقت مٹھائی کا ڈبہ لے کر آیا، مگر عبد الرحمن کیلانی صاحب نے اسے قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اور فرمایا:
’’میں نے صرف اپنا فرض اور ڈیوٹی پوری کی ہے، اس لیے یہ نہیں لے سکتا۔‘‘
ان کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ اگر آج ایک تحفہ قبول کرلیا جائے تو آئندہ ایسے تحائف کا سلسلہ چل سکتا ہے، جو سرکاری ذمہ داری کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔ بعد ازاں جب ان کی ترقی کا مرحلہ آیا تو افسر نے داڑھی منڈوانے کو ترقی کی شرط قرار دیا۔ عبد الرحمن کیلانی صاحب نے صاف جواب دیا کہ وہ داڑھی نہیں منڈوائیں گے۔ ترقی دینی ہے تو دی جائے، ورنہ وہ اس کے خواہش مند نہیں۔ چنانچہ ان کی ترقی روک دی گئی اور بالآخر انہوں نے اپنے دینی اصولوں پر سمجھوتا کرنے کے بجائے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ واقعہ مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کے خاندانی ماحول میں دیانت، قناعت، خودداری اور دینی اصولوں کی پاسداری کی ایک واضح مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
تعلیم اور اہلِ علم سے استفادہ:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے روایتی انداز میں کسی ایک مدرسے میں طویل عرصے تک باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، تاہم علم حاصل کرنے کا شوق ہمیشہ قائم رہا۔ میٹرک کے امتحان سے فراغت کے بعد تقریباً تین چار ماہ کے تعلیمی وقفے میں گوجرانوالہ میں مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے مدرسے میں داخل ہوئے اور ان سے استفادہ کیا۔
بعد ازاں لاہور آمد پر مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ سے گہرا تعلق قائم ہوا۔ ان کی نشست و برخاست میں رہ کر علمی استفادہ کرتے رہے۔ مطالعہ، اہلِ علم کی صحبت اور ذاتی تحقیق ان کے علمی مزاج کی تشکیل میں اہم ذرائع رہے اور یہی ذوق آگے چل کر ان کی تصنیفی و تحقیقی زندگی میں نمایاں ہوا۔
فنِ کتابت اور خدمتِ قرآن:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے کتابت کے فن کو اپنے معاش کا ذریعہ بنایا۔ 1947ء سے 1965ء تک اردو کتابت کے شعبے سے وابستہ رہے اور معروف اشاعتی ادارے فیروز سنز کے ساتھ کام کرتے رہے۔ اردو کے ساتھ عربی کتابت میں بھی مہارت حاصل کی۔
1965ء میں قرآن مجید کی کتابت کا باقاعدہ آغاز کیا اور تاج کمپنی کے لیے قرآن کریم کے متعدد نسخے تحریر کیے۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے تقریباً 50 نسخوں کی کتابت کی۔ کتابتِ قرآن کا یہ شغف بعد میں ان کی قرآنی تصنیفات، بالخصوص ’’ تیسیر القرآن‘‘ سے بھی مربوط ہوگیا۔
حرمین شریفین میں کتابتِ قرآن:
قرآن کریم کے ساتھ بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ 1972ء کے سفرِ حج کے دوران مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قرآن مجید کی کتابت کا موقع ملا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ مکی سورتوں کی کتابت مکہ مکرمہ اور مدنی سورتوں کی کتابت مدینہ منورہ میں کروں۔ مکہ مکرمہ میں بابِ بلال کے قریب مکی سورتوں اور مدینہ منورہ میں اصحابِ صفہ کے مقام پر مدنی سورتوں کی کتابت کی۔ بعد ازاں یہی کتابت ان کی تفسیر ’’تیسیر القرآن‘‘ میں متنِ قرآن کے طور پر شامل ہوئی۔ یوں کتابتِ قرآن ان کی قرآنی خدمت کا مستقل حصہ بنی اور بعد میں ان کی تفسیری کاوش سے بھی مربوط ہوگئی۔
کتابت کے فن کی تعلیم اور خدمتِ معاش:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے کتابت کے فن کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ خاندان اور برادری کے متعدد افراد کو یہ ہنر سکھایا، جس کے ذریعے انہیں باعزت روزگار حاصل کرنے میں مدد ملی۔ ان کی زندگی میں محنت، حلال روزگار اور خود انحصاری کو نمایاں مقام حاصل تھا۔
سادگی، قناعت اور حسنِ اخلاق:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ علمی مصروفیات کے باوجود سادہ اور بے تکلف زندگی گزارتے تھے۔ نمود و نمائش اور غیر ضروری آسائشوں سے دور رہتے۔ ضرورت مندوں، رشتہ داروں اور مستحق لوگوں کی حتی المقدور مدد کرتے، قرضِ حسنہ دیتے اور بعض مواقع پر مستحق مقروض کا قرض معاف بھی کردیتے تھے۔مزاج میں خوش گوئی اور شگفتگی بھی تھی۔ مختلف طبقات کے لوگوں سے ان کی مناسبت سے گفتگو کرتے اور محفل میں بے تکلفی کا ماحول قائم رکھتے تھے۔
نماز اور مسجد سے تعلق:
نماز سے ان کا خاص تعلق تھا۔ نماز کے اوقات کی پابندی کرتے، وضو کا اہتمام کرتے اور حتی الامکان پہلی صف میں نماز ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی وفات بھی نماز ہی کی حالت میں ہوئی، جو ان کی نماز سے وابستگی کی ایک یادگار مثال ہے۔
علمی سفر، تصنیف و تالیف اور صحافتی خدمات:
وقت کے ساتھ مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی توجہ تصنیف و تحقیق کی طرف بڑھتی گئی۔ انہوں نے قرآن و علومِ قرآن، حدیث، عقیدہ، فقہ، معاشرت، تجارت، معیشت، سیرت اور عصرِ حاضر کے فکری مسائل پر قلم اٹھایا۔
ان کے علمی و تحقیقی مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے، جن میں الاعتصام، الحرمین (جہلم)، منہاج (گورنمنٹ دیال سنگھ لائبریری کا سہ ماہی مجلہ)، ترجمان القرآن اور ترجمان الحدیث شامل ہیں۔ ماہنامہ محدث سے بھی ان کا علمی تعلق رہا اور ان کے متعدد تحقیقی مضامین اس میں شائع ہوئے۔ان کی تحریروں میں علمی تحقیق کے ساتھ اصلاحی پہلو بھی نمایاں تھا، اور وہ مختلف دینی و فکری مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
📚 قرآن و علومِ قرآن
1۔ مترادفات القرآن مع فروق اللغویہ
قرآنِ مجید کے مترادف الفاظ اور ان کے باہمی معنوی فرق سے متعلق اہم علمی کاوش ہے۔
2۔ تیسیر القرآن
قرآنِ مجید کا ترجمہ و تفسیر ہے، جس میں قرآن و حدیث، آثارِ سلف، فقہی مسائل، عقائد اور عصرِ حاضر کے مختلف مسائل کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ اس کا بڑا حصہ ان کی زندگی میں مکمل ہوگیا تھا، جبکہ طباعت ان کی وفات کے بعد ہوئی اور یہ تفسیر چار جلدوں میں شائع ہوئی۔
📚 حدیث، عقیدہ اور فکری مباحث
3۔ آئینۂ پرویزیت
انکارِ حدیث اور فکرِ پرویزیت کے مختلف افکار و نظریات کا علمی و تحقیقی جائزہ ہے۔
4۔ عقل پرستی اور انکارِ معجزات
عقل پرستی، انکارِ معجزات اور اس سے متعلق پیدا ہونے والے فکری شبہات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
5۔ روح، عذابِ قبر اور سماعِ موتیٰ
روح، عذابِ قبر اور سماعِ موتیٰ جیسے اہم اعتقادی مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔
6۔ شریعت و طریقت
عقیدہ و فکر کے موضوع پر اہم تصنیف ہے، جس میں شریعت و طریقت کے باہمی تعلق اور طریقت سے متعلق مختلف نظریات و عقائد کا علمی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
📚 فقہ، معاشرت اور خاندانی مسائل
7۔ احکامِ ستر و حجاب
ستر و حجاب کے شرعی احکام اور متعلقہ مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔
8۔ ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل
ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقوں کے مسئلے اور اس کے شرعی حل سے متعلق بحث ہے۔
9۔ تجارت اور لین دین کے احکام و مسائل
خرید و فروخت، تجارت اور مختلف معاملات کے شرعی احکام و مسائل پر مشتمل کتاب ہے۔
📚 معیشت اور اسلامی فکر
10۔ اسلام میں دولت کے مصارف
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دولت کے استعمال اور اس کے مختلف مصارف کو واضح کیا گیا ہے
11۔ خلافت و جمہوریت
اسلامی نظامِ خلافت اور جمہوری نظام سے متعلق مختلف پہلوؤں کا علمی مطالعہ ہے۔
📚 دیگر علمی موضوعات
12۔ الشمس والقمر بحسبان
سورج اور چاند کی گردش، حساب اور تقویمی امور سے متعلق علمی موضوع پر مشتمل تصنیف ہے۔
📚 سیرتِ نبوی ﷺ
13۔ محمد رسول اللہ ﷺ صبر و ثبات کے پیکرِ اعظم
سیرتِ نبوی ﷺ کے تناظر میں رسول اللہ ﷺ کے صبر، استقامت اور ثابت قدمی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
14۔ نبی کریم ﷺ بحیثیتِ سپہ سالار
رسول اللہ ﷺ کی قیادت و سپہ سالاری اور غزوات و جنگی حکمتِ عملی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ اور قومی سیرت کانفرنسیں:
قومی سیرت کانفرنسوں میں بھی ان کے علمی مقالات پیش ہوئے۔ 1988ء میں ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘ اور 1989ء میں ’’پیغمبرِ اسلام ﷺ داعیِ امن و اخوت‘‘ کے موضوعات پر ان کے مقالات صدارتی اعزاز کے مستحق قرار پائے، جبکہ 1990ء میں ’’لسانی اور گروہی اختلافات کا خاتمہ‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔
خواتین کی دینی تعلیم اور مدرسے کا قیام:
خواتین کی دینی تعلیم کے میدان میں بھی مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کے خاندان نے قابلِ ذکر خدمت انجام دی۔ 1960ء میں ان کی زوجہ محترمہ نےاپنے گھر وسن پورہ میں بچیوں کی دینی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ ابتدا میں گھر کا صحن، پھر ایک کمرہ اس مقصد کے لیے مختص کیا گیا، پھر ضرورت کے پیشِ نظر دو کمروں میں یہ تعلیمی سلسلہ جاری رہا۔ بعد ازاں یہ کام وسعت اختیار کرتا گیا اور باقاعدہ مدرسہ تدریس القرآن والحدیث للبنات، لاہور کی صورت میں سامنے آیا۔ الگ زمین حاصل کرکے ادارے کے لیے باقاعدہ عمارت تعمیر کی گئی اور وقت کے ساتھ یہ تعلیمی سلسلہ تقریباً ایک کنال رقبے پر قائم باقاعدہ مدرسے کی صورت اختیار کرگیا۔ اب اس مدرسے میں درس نظامی، تحفیظ القرآن اور تجوید کا باقاعدہ اہتمام ہے۔ مدرسے میں تقریباً 250 رہائشی بچیاں ہیں جبکہ 100 کے قریب ڈے سکالرز ہیں ۔مدرسے کی دوسری برانچ احمد ہاؤسنگ سوسائٹی نزد اتفاق ٹاؤن۔ لاہور میں پانچ کنال کے رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔ یہ پانچ کنال کا رقبہ ان کے بڑے بیٹے ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی نے وقف کیا تھا۔
اس ادارے میں قرآن و حدیث اور عربی علوم کی تعلیم دی جاتی رہی، جبکہ رمضان المبارک میں دورۂ تفسیر اور عربی گرامر کے مختصر کورسز بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ متعدد طالبات نے یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے علاقوں میں دینی تعلیم کے مراکز قائم کیے۔مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ مدرسے کے تعلیمی امور کے ساتھ انتظامی اور خارجی معاملات میں بھی دلچسپی لیتے اور اپنی استطاعت کے مطابق ادارے کی ضروریات میں تعاون کرتے رہے۔
اولاد اور تربیت:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ اپنی اولاد کی دینی و عصری تعلیم، محنت، خودداری اور خود انحصاری پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ ان کے صاحبزادگان میں:
1۔ ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی
2۔ حافظ ڈاکٹر شفیق الرحمن کیلانی
3۔ پروفیسر نجیب الرحمن کیلانی
4۔ انجینئر حافظ عتیق الرحمن کیلانی
ان کے اہلِ خانہ نے بعد میں مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کے علمی و تصنیفی ورثے کی حفاظت اور اشاعت میں بھی کردار ادا کیا۔
مکتبۃ السلام اور علمی ورثے کی اشاعت:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے اپنی تصانیف کی اشاعت کے لیے مکتبۃ السلام کے نام سے اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے اہلِ خانہ اور متعلقین نے ان کے علمی مسودات اور تحریری سرمایہ محفوظ رکھنے اور شائع کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ان کی متعدد تصانیف بعد کی نسلوں تک پہنچیں۔
آخری دور اور وفات:
زندگی کے آخری دور میں مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی توجہ بالخصوص ’’تیسیر القرآن‘‘ کی تکمیل کی طرف رہی۔
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ 18 دسمبر 1995ء کو وفات پاگئے۔ ان کے آخری لمحات بھی نماز سے وابستہ رہے۔ عشاء کے وقت مسجد تشریف لے گئے اور نمازِ عشاء کی پہلی رکعت کے پہلے سجدے میں ان کا انتقال ہوا۔إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
علمی میراث:
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی علمی زندگی میں کتابتِ قرآن، قرآن فہمی، تصنیف و تحقیق، صحافت، دینی تعلیم، خواتین کی تعلیم اور علمی ادارے کی خدمت کے مختلف پہلو جمع ہوگئے تھے۔’’تیسیر القرآن‘‘ اور ’’مترادفات القرآن مع فروق اللغویہ‘‘ ان کی قرآنی خدمات کی نمایاں یادگاریں ہیں، جبکہ ’’آئینۂ پرویزیت” ’’عقل پرستی اور انکارِ معجزات‘‘، ’’روح، عذابِ قبر اور سماعِ موتیٰ‘‘، ’’شریعت و طریقت‘‘، ’’احکامِ ستر و حجاب‘‘، ’’اسلام میں دولت کے مصارف‘‘، ’’خلافت و جمہوریت‘‘، ’’اسلام میں ضابطۂ تجارت‘‘، ’’الشمس والقمر بالحسبان‘‘ اور سیرتِ نبوی ﷺ سے متعلق ان کی تصانیف ان کے وسیع علمی مطالعے اور متنوع علمی دلچسپیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی تفسیر تیسیر القرآن اور ان کی شخصیت پر متعدد ایم اے اور ایم فل کے مقالہ جات لکھے گئے۔ اس وقت ایک خاتون اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھ رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کوجنت کے باغات میں سے ایک باغ بنائے۔ ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی تصانیف کو نافع بنائے اور ان کے اہلِ خانہ و متعلقین کو ان کے علمی ورثے کی حفاظت اور اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




