سوال 7660

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ڈاکٹر صاحب! ایک مسئلے میں رہنمائی مطلوب ہے۔ ہم ریاض سے جدہ جا رہے ہیں اور ہمارا پروگرام ہے کہ جدہ میں دو دن قیام کریں، اس کے بعد عمرہ ادا کرنے کا ارادہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ عمرے کے لیے احرام جدہ میں قیام کی جگہ سے باندھیں گے یا اس حوالے سے کوئی اور شرعی حکم ہے؟
براہِ کرم احرام کے معاملے کی وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ آفاقی لوگ ہیں، اس لیے جہاں سے میقات مقرر ہے، وہیں سے احرام کے ساتھ گزرنا ہوگا۔ جدہ سے پہلے جو میقات آتا ہے، یعنی یلملم، وہاں سے احرام باندھ کر آگے جائیں گے۔
اب جدہ میں ایک دن رہنا ہے یا دو دن، احرام کے ساتھ ہی رہیں گے اور احرام کی پابندیوں کا خیال رکھیں گے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے سے مکہ کے لیے گئے تو آپ ذوالحلیفہ سے احرام باندھ کر گئے تھے۔ راستے میں کئی دن لگے، لیکن آپ احرام ہی کی حالت میں رہے۔
اسی طرح یہ لوگ بھی احرام کے ساتھ جدہ جائیں گے، وہاں ایک، دو یا تین دن قیام کریں گے، پھر اسی احرام کے ساتھ عمرہ ادا کریں گے۔
البتہ اگر یہاں سے بغیر احرام کے جدہ چلے گئے تو پھر عمرے کے لیے میقات پر جانا پڑے گا، مثلاً قرن المنازل، جو طائف کے قریب ہے، یا کسی دوسرے مناسب میقات سے احرام باندھنا ہوگا۔ یلملم سے بھی احرام باندھ کر واپس آ سکتے ہیں۔
لیکن بہتر طریقہ یہی ہے کہ یہاں سے احرام باندھ لیں اور یلملم پہنچ کر “اللهم لبيك عمرة” کہہ دیں۔ پھر اسی احرام میں رہتے ہوئے اس کی پابندیوں کا خیال رکھیں اور اسی احرام کے ساتھ عمرہ ادا کریں۔

فضیلۃ الشیخ محمد ادریس اثری حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماشاءاللہ مفتی ادریس اثری حفظہ اللہ نے بہترین وضاحت کر دی ہے۔ صرف اس میں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔
آپ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ریاض سے جدہ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے عمرہ کرنا چاہتے ہیں، تو اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ جدہ جانے کا مقصد کیا ہے۔
اگر سفر ہی عمرے کے ارادے سے ہے، خواہ جدہ میں ایک دو دن قیام ہو یا زیادہ، تو میقات سے احرام کے بغیر آگے گزرنا جائز نہیں۔ احرام میقات ہی سے باندھنا ہوگا، ورنہ دم دینا پڑے گا۔
لیکن اگر جدہ جانے کا مقصد کوئی اور کام یا ضرورت ہے، مثلاً کسی کام کے سلسلے میں جانا ہے اور وہاں ایک دو دن قیام کے بعد عمرہ کرنے کا ارادہ بنتا ہے، تو کام مکمل کرنے کے بعد عمرے کے لیے میقات جانا ہوگا، جیسا کہ شیخ ادریس حفظہ اللہ نے فرمایا۔ پھر وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے گا۔
لہٰذا اصل اعتبار سفر کی نیت اور مقصد کا ہے۔ اگر ابتدا ہی سے حج یا عمرے کا ارادہ ہے تو میقات سے بغیر احرام گزرنا درست نہیں، چاہے جدہ میں دو دن قیام ہی کیوں نہ ہو۔
جزاکم اللہ خیراً، والسلام

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر وہ عمرے کی نیت سے گیا ہے تو جیسے شیخین کریمین نے ارشاد فرمایا، اسے احرام باندھ کر جانا پڑے گا۔ بے شک اسے جدہ میں ایک، دو یا تین دن کسی کام کے لیے رکنا ہو، رک سکتا ہے، لیکن احرام کی حالت میں۔ اگر وہ بغیر احرام کے جدہ پہنچ گیا تو اس پر دم ہوگا۔
لیکن اگر وہ کام کاج، کسی سے ملنے یا کسی اور مقصد سے جدہ گیا ہے اور وہاں جا کر عمرے کی نیت بنی ہے، تو پھر وہ جدہ ہی سے عمرے کا احرام باندھے گا، جہاں سے جدہ والے احرام باندھتے ہیں۔

«وَلِمَنْ أَتَىٰ عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ هُنَّ لَهُنَّ»

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محمد ادریس عصری صاحب نے جو جواب دیا ہے، اس سے قطع نظر میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ریاض سے جدہ جاتے ہوئے یلملم نہیں آتا۔
ریاض سے جدہ جائیں، خواہ بذریعۂ ہوائی جہاز جائیں یا بذریعۂ سڑک، راستے میں طائف آتا ہے، جسے قرن المنازل کہا جاتا ہے اور آج کل اسے سیلِ کبیر کہا جاتا ہے۔
یلملم بحری راستے سے پاکستان، ہندوستان وغیرہ سے آنے والوں کا میقات تھا، تاہم آج کل ان کے لیے بھی یہ صورت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اب ان کے ہوائی جہاز بھی طائف کے اوپر سے گزر کر جدہ میں اترتے ہیں، لہٰذا ان کے لیے بھی میقات قرن المنازل ہی ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ