🌹 ایک گمنام خادمِ قرآن کی علمی و دینی خدمات کی ایمان افروز داستان 🌹

حضرت حافظ عبد الستار حفظہ اللہ تعالیٰ

الحمد للہ! ہمارے معاشرے میں ایسے اہلِ علم اور خادمانِ قرآن بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام، تعلیمِ قرآن اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دی، مگر شہرت و نام و نمود سے ہمیشہ بے نیاز رہے۔ انہی بزرگوں میں ایک نمایاں نام حضرت حافظ عبدالصتار صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کا ہے، جو جلیل القدر اساتذۂ کرام میں سے ہیں اور ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ کے برادرِ اکبر بھی ہیں۔

📚 جامعہ سے دیرینہ تعلق اور تدریسی خدمات
حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ 1954ء سے مسجد وجامعہ کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد جامعہ سعیدیہ کا آغاز ان کے آبائی گاؤں ہی میں ہوا، جہاں انہوں نے اپنے استادِ محترم کی سرپرستی میں دینی خدمات کا آغاز کیا۔ ابتدا میں وہ درسِ نظامی کے اسباق پڑھاتے رہے، تاہم بعد میں جب مولانا علی محمد سعیدی صاحب نے ادارے کو خانیوال منتقل کیا تو یہاں شعبۂ حفظ کی ذمہ داری ان کے سپرد رہی۔
آپ نے تقریباً ساٹھ سے باسٹھ سال تک قرآنِ کریم کے حفظ کی تدریس کی اور طویل عرصے تک مسجد میں پانچوں نمازوں کی امامت، خطابت اور دیگر دینی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ بڑھاپے اور صحت کے تقاضوں کے باعث گزشتہ دس بارہ برس سے تدریسِ حفظ کا سلسلہ ترک کر دیا ہے، تاہم اپنی استطاعت کے مطابق دینی و علمی مشاغل اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

🤲 اخلاص و بے لوث خدمت کی روشن مثال
حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ کی زندگی کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مسجد کی امامت و خطابت اور تدریسِ قرآن کی خدمات طویل عرصے تک کسی تنخواہ یا معاوضے کے بغیر، خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیں۔ ان کا ذریعۂ معاش تجارت و کاروبار اور علمِ حکمت رہا ہے، جن سے وہ آج بھی اپنی صحت اور عمر کے تقاضوں کے مطابق وابستہ ہیں۔

🌿 شاگردوں کی طویل علمی و قرآنی خدمات
اللہ تعالیٰ نے آپ کی تدریس میں غیر معمولی برکت عطا فرمائی۔ آپ کے شاگردوں میں ایسے اہلِ قرآن شامل ہیں جنہوں نے مختلف شہروں اور ممالک میں کئی دہائیوں تک قرآنِ کریم کی تعلیم و تدریس کی اور آج بھی اس خدمت میں مصروف ہیں۔
ان میں چند نمایاں نام یہ ہیں:
▪️ قاری سیف اللہ صاحب، جو ان دنوں ریاض میں تدریسِ حفظِ قرآن کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
▪️ قاری بشیر صاحب، والدِ محترم قاری طلحہ بشیر صاحب، جو بھی تقریباً چالیس برس سے ریاض میں تدریسِ حفظ سے وابستہ ہیں۔ قاری طلحہ بشیر گزشتہ دو تین سالوں سے مرکز اہل حدیث لارنس روڈ پر تراویح کی امامت کرتے ہیں۔
▪️ قاری حبیب اللہ بسمل صاحب، جنہوں نے فیصل آباد کی شیخ کالونی میں تقریباً پینتالیس برس تک قرآنِ کریم پڑھایا۔
یہ سب بزرگ حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ کے فیض یافتہ ہیں۔ ان کے علاوہ بھی آپ کے متعدد شاگردوں نے اپنی زندگیوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم و اشاعت کے لیے وقف کیا۔

🌺 ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کی تعلیمی سرپرستی
حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ کی علمی و تربیتی خدمات کا ایک اہم باب اپنے چھوٹے بھائی، نامور عالمِ دین ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ کی تعلیم و تربیت اور سرپرستی ہے۔ آپ نے ان کے داخلے اور تعلیمی مراحل میں خصوصی توجہ دی، جامعہ سلفیہ میں ان کے داخلے کا انتظام کیا اور ان کی علمی پیش رفت میں مسلسل رہنمائی فرماتے رہے۔
ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ کی علمی ودینی خدمات کا ذکر ہو تو ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں بڑے بھائی کی اس مخلصانہ سرپرستی کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین!

💝 مستحق طلبہ کی کفالت؛ ایک عظیم صدقۂ جاریہ
حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ کی زندگی کا ایک نہایت قابلِ قدر پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے گاؤں کے ذہین مگر مالی اعتبار سے کمزور طلبہ کی تعلیم کے لیے ذاتی طور پر اخراجات برداشت کیے۔ ایسے متعدد طلبہ کو تعلیم دلوائی جو بعد میں بڑے دینی و علمی اداروں میں اہم ذمہ داریوں پر فائز ہوئے۔
یہ سلسلہ آج بھی اپنی استطاعت کے مطابق جاری ہے۔ آپ کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی ذہین اور مستحق بچے کو کسی مناسب دینی ادارے میں داخل کروا کر اس کے تعلیمی اخراجات میں تعاون کیا جائے۔ بلاشبہ علمِ دین کے حصول میں کسی طالب علم کی مدد کرنا ایسا صدقۂ جاریہ ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ رہتا ہے۔

📜 شیخ شرف الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ سے سندِ اجازت
حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ کو جلیل القدر محدث و عالمِ دین شیخ شرف الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری اور ان سے علمی استفادے کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ شیخ محترم سالانہ آپ کے گاؤں تشریف لاتے اور تقریباً ایک ہفتہ قیام فرماتے تھے۔ اس دوران وہ طلبہ کے امتحانات بھی لیتے تھے، اور حضرت حافظ عبدالصتار صاحب کو ان سے سندِ اجازت حاصل ہوئی۔
یوں حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ کو اس بزرگ علمی روایت سے وابستگی کا شرف حاصل ہے جس کی تفصیلات سے عام لوگ عموماً واقف نہیں تھے۔ حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو کے دوران اس علمی نسبت کا ذکر سامنے آنے کے بعد متعدد اہلِ علم اور شائقینِ اسناد نے بھی آپ کی سندِ اجازت کے حوالے سے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

✨ پیغامِ حیات
حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عظمت شہرت، منصب اور مالی منفعت میں نہیں، بلکہ اخلاص، استقامت، تعلیمِ قرآن، تربیتِ رجال اور خدمتِ خلق میں ہے۔
ایک ایسی زندگی جس کے ثمرات شاگردوں کی صورت میں کئی نسلوں تک پھیلیں، جس میں قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے دہائیوں کی محنت ہو، اور جس میں ضرورت مند طلبہ کی کفالت کا جذبہ مسلسل زندہ رہے، یقیناً قابلِ قدر اور لائقِ تقلید ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت حافظ عبدالستار صاحب حفظہ اللہ کو صحت و عافیت، عمرِ بابرکت اور مزید توفیقِ خیر عطا فرمائے، ان کی تمام دینی و قرآنی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے شاگردوں اور فیض یافتگان کے ذریعے ان کے علمی فیض کو جاری و ساری رکھے۔ آمین یا رب العالمین!

مفتی جماعت حافظ عبد الستار الحماد حفظہ اللہ کی اپنے استادِ گرامی سے محبت و احترام کی بہترین مثال
حضرت مفتی عبد الستار حماد حفظہ اللہ کو ہم نے اپنے استادِ گرامی کے ساتھ جس محبت، عقیدت اور ادب کا مظاہرہ کرتے دیکھا، وہ ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ دادا جان رحمہ اللہ سے متعدد مرتبہ سنا کہ وہ فرماتے تھے: مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ مجھے اتنا احترام دیتے ہیں۔
حضرت مفتی صاحب کا معمول ہے کہ چند دن بعد استادِ محترم کی ملاقات کے لیے ضرور تشریف لے جاتے ہیں۔ دونوں بزرگوں کے مابین محبت و احترام کا یہ خوب صورت تعلق قابلِ رشک اور قابلِ تقلید ہے۔
افسوس کہ آج کل بہت سے طلبہ میں اساتذہ کے احترام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ کاش! ہم سمجھ سکیں کہ علم کی بلندی، استاد کے ادب اور تواضع سے ہے، نہ کہ محض عہدے اور مقام سے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کا حقیقی ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تحریر و ترتیب: حافظ عبد الماجد
پوتا حضرت حافظ عبد الستار صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ

یہ بھی پڑھیں:سیکھنے کے اعتبار سے علم کی پانچ اقسام