فضیلۃ الشیخ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کامختصر تعارف
اسلامی تاریخ میں ہر دور میں اللہ رب العزت نے ایسے رجالِ علم پیدا فرمائے جنہوں نے کتاب و سنت کی خدمت، تعلیم، ترویج اور دفاع کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ برصغیر کی معاصر علمی تاریخ میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ بھی انہی ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔
آپ ایک صاحبِ علم، وسیع المطالعہ، محقق اور صاحبِ قلم عالم تھے۔ تفسیر و علومِ قرآن، حدیث، فقہ، عقیدہ، سیرت و تاریخ، دفاعِ سنت، دینی صحافت،ردِ باطل، معاشرت، خواتین کے مسائل اور تصنیف و تحقیق کے میدانوں میں آپ نے نمایاں خدمات انجام دیں۔
خاندانی پس منظر:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کا اصل نام حافظ محمد یوسف بن حافظ عبدالشکور بن عبدالرزاق بن محمد اعظم تھا۔ آپ کے والدِ گرامی حافظ عبدالشکور رحمہ اللہ نے اپنے استادِ محترم مولانا محمد یوسف جے پوری، مصنفِ ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ کی نسبت سے اپنے بیٹے کا نام ’’محمد یوسف‘‘ رکھا تھا۔ بعد ازاں حافظ صاحب نے اپنے نام کے ساتھ ’’صلاح الدین‘‘ کا اضافہ کیا اور اسی نام سے علمی دنیا میں شہرت پائی۔
ولادت:
آپ اگست 1945ء میں ریاستِ جے پور، راجستھان، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حافظِ قرآن تھے، قرآن مجید کا ترجمہ بھی پڑھا تھا اردو کی بعض کتابوں سے واقفیت رکھتے تھے اور دینی مسائل کا ضروری علم رکھتے تھے۔ وہ اہلِ حدیث منہج سے وابستہ اور علمائے اہلِ حدیث سے گہرا تعلق رکھنے والے نیک اور دیندار شخص تھے۔ خاندان میں باقاعدہ تعلیم و تعلم کا عمومی رواج زیادہ نہ تھا اس لیے حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی ابتدائی علمی تربیت کسی رسمی تعلیمی ادارے کے بجائے گھر ہی سے شروع ہوئی۔
ہجرت اور کراچی آمد:
تقسیمِ ہند کے بعد حافظ عبدالشکور رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ جے پور ہی میں قیام کیا۔ 1949ء میں ان کے بڑے بیٹے محمد ایوب پاکستان میں بیمار ہوگئے تو اہلِ خانہ ان کی عیادت اور دیکھ بھال کے لیے پاکستان آئے۔ ابتدا میں حیدرآباد سندھ میں قیام ہوا پھر خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی عمر اس وقت تقریباً دس، گیارہ سال تھی اور کراچی ہی ان کی باقاعدہ دینی تعلیم کا مرکز بنا۔
ابتدائی اردو تعلیم آپ نے اپنے والدِ محترم سے حاصل کی اور ’’دستور المتقی‘‘ کا کچھ حصہ بھی انہی سے پڑھا۔ کراچی پہنچنے کے بعد مسجد رحمانیہ، بوہرہ پیر کے علمی ماحول سے وابستہ ہوئے۔ یہاں قاری عبیداللہ بلتستانی رحمہ اللہ سے عربی قاعدہ پڑھا، جبکہ جامع العلوم سعودیہ میں قاری محمد بشیر تبتی رحمہ اللہ سے ناظرۂ قرآن مکمل کیا۔
حفظِ قرآن کریم:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی علمی زندگی کا پہلا نمایاں سنگِ میل حفظِ قرآن کریم تھا۔ قاری محمد بشیر تبتی رحمہ اللہ نے ان کے اندر قرآن حفظ کرنے کا شوق پیدا کیا اور ان کے والدِ گرامی کو بھی اس جانب متوجہ کیا۔ چنانچہ آپ نے قاری محمد اشفاق رحمہ اللہ سے قرآن مجید حفظ کیا اور تقریباً ایک سال کی مختصر مدت میں حفظِ قرآن مکمل کرلیا۔
حفظِ قرآن کے بعد آپ کے گھر آنے والے اہلِ علم کو قرآن مجید سنانے کا معمول بھی رہا۔ اس طرح قرآن کریم آپ کی ابتدائی تعلیم کی بنیاد ہی نہیں بنا، بلکہ آگے چل کر آپ کی پوری علمی زندگی کا بنیادی محور بھی رہا۔
جامع العلوم سعودیہ اور کراچی کا علمی دور:
حفظِ قرآن کے بعد حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے جامع العلوم سعودیہ، کراچی میں باقاعدہ درسِ نظامی کا آغاز کیا۔ یہ ادارہ ابتدا میں ایک مختصر جگہ پر قائم تھا، بعد ازاں سفید مسجد، سولجر بازار منتقل ہوا اور دارالحدیث رحمانیہ کے نام سے معروف ہوا۔اس علمی مرحلے میں آپ نے بالخصوص مولانا حاکم علی دہلوی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔ وہ منقول و معقول دونوں علوم میں مہارت رکھتے تھے اور ان کی تدریس سے حافظ صاحب نے خاص فائدہ اٹھایا۔ آپ تقریباً ڈھائی سے تین سال ان کے حلقۂ درس میں رہے۔
درسِ نظامی کی درسی کتابوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے علمی، ادبی اور فکری رسائل و جرائد کا وسیع مطالعہ بھی شروع کردیا۔ تجلی، چراغِ راہ، فاران، سیارہ، ترجمان القرآن، میثاق، رحیق، شہاب اور ایشیا جیسے رسائل ان کے مطالعے میں شامل رہے۔ اسی دوران مختلف اہلِ قلم کی کتابوں سے شغف پیدا ہوا اور مطالعے کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا چلا گیا۔
لاہور آمد اور دارالعلوم تقویۃ الاسلام:
کراچی کے علمی مرحلے کے بعد حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ لاہور تشریف لائے اور دارالعلوم تقویۃ الاسلام، شیش محل روڈ لاہور میں داخل ہوئے۔ یہ ادارہ مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ سے علمی نسبت رکھتا تھا۔ یہاں آپ نے درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کی اور 1964ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔
بعد ازاں آپ نے جامعہ مدنیہ لاہور میں بھی مزید علمی استفادہ کیا اور فلسفہ، منطق، بلاغت اور فقہ کی بعض کتب، خصوصاً ’’الہدایہ‘‘ وغیرہ کا مطالعہ کیا۔ اس اضافی علمی مشغولیت نے آپ کے مطالعے اور علمی دائرے کو مزید وسعت دی۔
اساتذہ اور علمی مربیان:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کے علمی سفر میں متعدد اہلِ علم کی صحبت، تدریس اور رہنمائی شامل رہی۔
1. حافظ عبدالشکور رحمہ اللہ — والدِ گرامی اور ابتدائی استاد
2. قاری عبیداللہ بلتستانی رحمہ اللہ
3. قاری محمد بشیر تبتی رحمہ اللہ
4. قاری محمد اشفاق رحمہ اللہ
5. مولانا حاکم علی دہلوی رحمہ اللہ
6. مولانا عبدالرشید ندوی لداخی رحمہ اللہ
7. مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ
8. حافظ محمد اسحاق رحمہ اللہ
9. حافظ عبدالرشید گوہڑوی رحمہ اللہ
10. مولانا عبدالرشید مجاہد آبادی حفظہ اللہ
11. مفتی عبدالحمید رحمہ اللہ
12. مولانا ظہورالحق رحمہ اللہ
ان اساتذہ کے علاوہ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کے ساتھ حافظ صاحب کا تعلق خصوصی علمی سرپرستی اور طویل صحبت کا تھا۔ حافظ صاحب نے ان سے باقاعدہ سبقاً سبقاً کوئی نصابی کتاب نہیں پڑھی، تاہم ان کی صحبت، علمی مشاورت، مکتبہ سلفیہ سے استفادہ اور تحقیقی رہنمائی سے طویل عرصے تک فیض یاب ہوتے رہے۔ یہ علمی تعلق تقریباً پندرہ، سولہ سال تک قائم رہا۔
وسیع مطالعہ اور علمی ذوق کی تشکیل:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی نمایاں خصوصیات میں وسیع مطالعہ اور علمی ذوق شامل تھا۔ ان کا مطالعہ محض رسمی نصاب تک محدود نہیں رہا بلکہ طالب علمی ہی سے انہوں نے دینی، ادبی، فکری اور تاریخی کتابوں اور رسائل کا وسیع مطالعہ شروع کردیا تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد، قاضی سلیمان منصورپوری، مولانا ثناء اللہ امرتسری، علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، مولانا اسماعیل سلفی، مولانا نعیم صدیقی، مولانا مودودی اور دیگر اہلِ قلم کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا۔ اس وسیع مطالعے نے ان کے اندر غوروفکر، تنقیدی نظر اور تحریری اظہار کی صلاحیت کو جلا بخشی۔
1965ء میں ان کی متعدد تحریریں اور مضامین مختلف رسائل میں شائع ہوئے۔ اسی دور میں ان کی تحریری سرگرمیاں ’’الاعتصام‘‘ اور دیگر علمی رسائل تک پہنچنے لگیں اور ان کے تصنیفی سفر کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
’’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘ اور تصنیفی سفر کی ابتدا:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی ابتدائی تصنیفی زندگی میں ’’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
1965ء میں انہوں نے مولانا مودودی کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کے جواب میں متعدد مضامین تحریر کیے، جو ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ میں شائع ہوئے۔ بعد میں حافظ صاحب نے ان تحریروں کو ازسرِنو مرتب کیا، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ سے مشورہ کیا اور مکتبہ سلفیہ سے بھی استفادہ کیا۔ نظرِ ثانی اور مزید ترتیب و تحقیق کے بعد یہ مواد کتابی صورت میں ’’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس وقت حافظ صاحب کی عمر تقریباً بائیس سال تھی۔
تدریس، امامت اور خطابت کا آغاز:
درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ مسجد و مدرسہ دارالعلوم محمدیہ، مدنی روڈ، دھرم پورہ، مصطفیٰ آباد، لاہور سے وابستہ ہوئے۔ یہاں امامت و خطابت کے ساتھ ترجمہ قرآن، تفسیر اور درسِ نظامی کی بعض کتب بھی پڑھائیں۔
باقاعدہ درسِ نظامی کی یہ تدریسی مصروفیت زیادہ طویل نہ رہی، تاہم قرآن و حدیث کا درس، امامت، خطابت اور دعوت ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن گئے۔ مدنی روڈ، دھرم پورہ کی جامع مسجد میں نمازِ فجر کے بعد درسِ قرآن اور نمازِ عشاء کے بعد درسِ حدیث کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1988ء سے وفات تک خطبۂ جمعہ بھی دیتے رہے اور دیگر مساجد و مدارس میں بھی دعوتی و علمی خطابات فرماتے رہے۔
ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کی ادارت:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک اہم باب ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور سے طویل وابستگی ہے۔آپ نے تقریباً 23 سال، یعنی 1970ء سے 1993ء تک اس کے اداراتی فرائض انجام دیے۔
اس طویل عرصے میں آپ نے اداریوں اور ’’علمی مذاکرہ‘‘ کے عنوان سے بڑی تعداد میں علمی و تحقیقی تحریریں قلم بند کیں۔ ان تحریروں میں عقیدہ و منہج، حدیث و سنت، فقہی مسائل، تاریخِ اسلام، معاصر فکری مباحث، ردِ باطل اور اصلاحِ معاشرہ جیسے متنوع موضوعات زیرِ بحث آتے رہے۔
ماہنامہ ’’محدث‘‘ کی ادارت:
ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کے علاوہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے ماہنامہ ’’محدث‘‘ لاہور کی ادارت کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ آپ نے 1998ء میں تقریباً ایک سال اس علمی و تحقیقی مجلے کی ادارت کی۔
اس کے علاوہ البدر، تفہیم الاسلام اور ضیائے حدیث جیسے دینی و علمی رسائل سے بھی مختلف ادوار میں آپ کی اداریاتی وابستگی رہی۔ یوں دینی صحافت آپ کے لیے محض اداراتی ذمہ داری نہیں تھی بلکہ قرآن و سنت کی ترجمانی، علمی مباحث کی وضاحت اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بھی بنی۔
دارالسلام سے وابستگی علمی زندگی کا طویل دور:
1993ء میں دارالسلام کے مدیر مولانا عبدالمالک مجاہد حفظہ اللہ کی دعوت پر حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ دارالسلام کے علمی و تحقیقی کام سے وابستہ ہوئے۔ ابتدا میں آپ نے ریاض میں تقریباً چار ماہ خدمات انجام دیں، بعد ازاں لاہور واپس آکر دارالسلام کے شعبۂ تحقیق، تصنیف و ترجمہ سے وابستہ ہوگئے۔
آپ نے 1993ء سے 2015ء تک تقریباً 22 سال دارالسلام کے شعبۂ تحقیق و تصنیف و ترجمہ میں مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ ان کی علمی زندگی کا ایک طویل اور ثمرآور دور تھا، جس میں قرآن و حدیث سے متعلق متعدد علمی منصوبوں، تراجم، تحقیقات، تصانیف اور مراجعات پر کام کیا گیا۔
ادارہ المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر سے تعلق:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ ادارہ المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کی علمی سرپرستی بھی کرتے رہے۔ اس ادارے سے وابستگی کے ذریعے علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں ان کی رہنمائی اور سرپرستی کا سلسلہ جاری رہا۔
تصنیفی و علمی خدمات:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کا تصنیفی ترکہ دراصل ایک ایسا علمی گلستان ہے جس میں تفسیرِ قرآن، حدیث، عقیدہ، فقہ، عبادات، تاریخ، دفاعِ صحابہ، نکاح و طلاق، خواتین، معاشرت، سیاستِ شرعیہ اور معاصر افکارسب اپنے اپنے رنگ میں نمایاں نظر آتے ہیں؛ اور ان سب کے درمیان قرآن و سنت سے وابستگی، تحقیق، سلاستِ بیان اور اصلاحِ امت کا جذبہ ایک مشترک دھاگے کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کی تصنیفی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے مستقل تصانیف کے ساتھ ساتھ متعدد کتب کے ترجمہ، تخریج، نظرِ ثانی، اضافہ، تنقیح، تسہیل اور علمی مراجعت کی خدمات بھی انجام دیں۔
📖 قرآنِ مجید، ترجمہ اور تفسیر
1۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ
سورۃ الفاتحہ کے معانی، مضامین اور اہم تفسیری نکات پر مشتمل علمی کاوش۔
2۔ تفسیر ’’احسن البیان‘‘
مولانا محمد جوناگڑھی رحمہ اللہ کے ترجمۂ قرآن کے ساتھ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کے تفسیری حواشی
3۔ ترجمۃ القرآن (لفظی)
قرآن مجید کا لفظ بہ لفظ اردو ترجمہ، جس کے ذریعے قرآن کے الفاظ کے براہِ راست مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی۔
4۔ معانی القرآن الکریم
قرآن مجید کے معانی کی توضیح اور فہمِ قرآن کے لیے علمی کاوش، جس میں قرآن کے متن کے ساتھ اس کے مفاہیم کو اردو قالب میں پیش کیا گیا۔
5۔ ترجمہ و تفسیر تیسواں پارہ
جزء عم کے ترجمے کے ساتھ ’’احسن البیان‘‘ سے منتخب تفسیری فوائد کا مجموعہ۔
6۔ تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ نظرِ ثانی
قرآنی و تفسیری مواد کی علمی نظرِ ثانی، اصلاح اور مراجعت میں خدمات۔
7۔ راہِ ہدایت _ نظرِ ثانی
کتاب کے علمی مواد کی نظرِ ثانی، اصلاح اور تنقیح کی خدمت۔
📚 حدیث، تخریج اور تحقیقِ کتبِ حدیث
8۔ ریاض الصالحین — ترجمہ و فوائد
امام نووی رحمہ اللہ کی معروف کتاب کا اردو ترجمہ، تشریحی فوائد اور احادیث کی توضیح۔
9۔ سنن ابی داؤد — 4 جلدیں
نظرِ ثانی، اضافہ اور علمی مراجعت کے ساتھ سنن ابی داؤد کی حدیثی خدمت۔
10۔ سنن ابن ماجہ — 5 جلدیں
نظرِ ثانی، اضافہ اور علمی مراجعت کے ساتھ سنن ابن ماجہ کی خدمت۔
11۔ منحة الباری
امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب الأدب المفرد کا اردو ترجمہ۔
12۔ تنقیح الرواة فی تخریج أحادیث المشکوٰۃ
احادیثِ مشکوٰۃ کے رواۃ، اسانید اور تخریج سے متعلق تحقیقی کام۔
13۔ نمیمۃ الصبی فی ترجمۃ الأربعین
نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی کتاب کے متن کی تسہیل و تنقیح۔
14۔ عظمتِ حدیث اور اس کے تقاضے
حدیثِ رسول ﷺ کی حجیت، مقام و مرتبہ اور اس کے عملی تقاضوں پر علمی تحریر۔
15۔ فکرِ فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات
فراہی فکر کے بعض اصول و افکار کا حدیث و سنت اور فہمِ دین کی روشنی میں تحقیقی جائزہ۔
16۔ فتنۂ غامدیت — ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ
جاوید احمد غامدی کے بعض افکار کا حدیث، سنت اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں علمی تجزیہ۔
17۔ مولانا امین احسن اصلاحی
مولانا امین احسن اصلاحی کے تفسیری و حدیثی نظریات اور علمی منہج سے متعلق جائزہ۔
📚اصلاحِ عقائد اور توحید
18۔ توحید اور شرک کی حقیقت مع مغالطات
کلمۂ توحید، توحید کی حقیقت، شرک کی اقسام اور اس سے متعلق مختلف شبہات کا علمی جائزہ۔
19۔ یا اللہ مدد
دعا، استغاثہ اور عقیدۂ توحید کے متعلق شرعی دلائل کی روشنی میں بحث۔
20۔ قبر پرستی — ایک حقیقت پسندانہ جائزہ
قبر پرستی کے مظاہر اور اس سے متعلق عقائد و اعمال کا تحقیقی جائزہ۔
21۔ قبر پرستی — قبر پرستوں کے دلائل کا جائزہ
قبر پرستی کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل کا علمی و تحقیقی تجزیہ۔
22۔ قبر پرستوں کے جال میں
توحید اور قبر پرستی سے متعلق بعض شبہات کی وضاحت اور ان کے علمی جوابات۔
23۔ ایصالِ ثواب اور قرآن خوانی
ایصالِ ثواب اور قرآن خوانی کے مسئلے کا شرعی و حدیثی جائزہ۔
📚 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تاریخِ اسلام
24۔ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کی تاریخی و شرعی حیثیت
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق بعض مباحث کا تحقیقی جائزہ اور جواب۔
25۔ اسلامی خلفاء و ملوک — غلط فہمیوں کا ازالہ
تاریخِ اسلام اور خلفائے اسلام سے متعلق پیدا ہونے والی بعض غلط فہمیوں کی وضاحت۔
26۔ فضائلِ صحابہ و اہلِ بیت
صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب پر مشتمل علمی مواد۔
📚 عبادات اور احکامِ شریعت
27۔ نمازِ محمدی ﷺ
رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مسنون طریقے پر معروف اور مفید کتاب۔
28۔ نمازِ مسنون مع ادعیہ ماثورہ
نماز کے مسنون طریقے اور نماز سے متعلق ماثور دعاؤں کا مجموعہ۔
29۔ نماز کے بعض اہم مسائل
نماز کے مختلف ضروری اور اہم مسائل کی شرعی وضاحت۔
30۔ آدابِ نماز اور خشوع کی اہمیت و وجوب
نماز کے آداب، خشوع اور اس کی شرعی اہمیت سے متعلق علمی بحث۔
31۔ کیا عورتوں کا طریقۂ نماز مردوں سے مختلف ہے؟
خواتین کی نماز کے طریقے سے متعلق معروف فقہی مسئلے کا تحقیقی جائزہ۔
32۔ نمازِ جنازہ کے احکام و مسائل
نمازِ جنازہ کے مسنون طریقے اور اس سے متعلق ضروری احکام و مسائل۔
33۔ حصن المسلم — اردو ترجمہ
شیخ سعید بن علی القحطانی رحمہ اللہ کی معروف کتاب کا اردو ترجمہ۔
34۔ رمضان — فضائل اور احکام و مسائل
رمضان المبارک کے فضائل، روزے اور اس سے متعلق اہم شرعی مسائل کا بیان۔
35۔ رمضان المبارک — فضائل، فوائد و ثمرات، احکام و مسائل اور کرنے والے ضروری کام
رمضان المبارک کے فضائل، احکام اور عملی رہنمائی پر قدرے مفصل کتاب۔
36۔ فضائلِ عشرۂ ذوالحجہ اور احکامِ عید الاضحیٰ
ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے فضائل اور عید الاضحیٰ کے اہم احکام۔
37۔ رسوماتِ محرم الحرام اور سانحۂ کربلا
محرم الحرام کی رائج رسومات اور واقعۂ کربلا کے تاریخی و شرعی پہلوؤں کا جائزہ۔
38۔ اہلِ سنت اور محرم الحرام
محرم الحرام کے متعلق اہلِ سنت کے منہج اور شرعی موقف کی وضاحت۔
39۔ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ؟
عید میلاد النبی ﷺ کے مسئلے کا تاریخی، حدیثی اور شرعی جائزہ۔
40۔ زکوٰۃ و عشر کے احکام و مسائل و فضائل
زکوٰۃ و عشر کے فضائل، احکام اور متعلقہ مسائل کا جامع بیان۔
41۔ واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات
واقعۂ معراج سے متعلق روایات اور اس کے مختلف مشاہدات کا جائزہ۔
42۔ مسئلہ رؤیتِ ہلال اور بارہ اسلامی مہینے
رؤیتِ ہلال، اسلامی تقویم اور بارہ اسلامی مہینوں سے متعلق احکام و فضائل۔
📚اسلامی معاشرت اور اجتماعی زندگی
43۔ اسلامی معاشرت
اسلامی معاشرت کے بنیادی اصول، آداب اور باہمی تعلقات سے متعلق رہنمائی۔
44۔ حقوق الامہ
امت کے باہمی حقوق اور اجتماعی ذمہ داریوں سے متعلق اسلامی تعلیمات۔
45۔ حقوق العباد
بندوں کے باہمی حقوق، فرائض اور معاشرتی ذمہ داریوں کا بیان۔
46۔ کھانے پینے کے آداب
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کھانے پینے کے آداب و سنن۔
47۔ سونے جاگنے کے آداب
روزمرہ زندگی میں سونے اور بیدار ہونے سے متعلق اسلامی آداب۔
48۔ سلام کے آداب و احکام
سلام کے طریقے، فضائل، آداب اور متعلقہ شرعی احکام۔
49۔ حقوقِ مرداں، حقوقِ نسواں
مرد و عورت کے باہمی حقوق اور ذمہ داریوں کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ۔
50۔ خواتین سے متعلق بعض اہم مسائل — احادیث کی روشنی میں
خواتین سے متعلق مختلف شرعی مسائل کو احادیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔
51۔ عورتوں کے امتیازی مسائل و قوانین — حکمتیں اور فوائد
عورتوں سے متعلق مختلف فقہی و شرعی مسائل، قوانین اور ان کی حکمتوں کا جائزہ۔
52۔ ایامِ مخصوصہ میں عورت کا قرآن پڑھنا اور چھونا
حیض کے ایام میں قرآن مجید کی تلاوت اور مصحف کو چھونے سے متعلق شرعی مسئلے کی تحقیق۔
53۔ اسلامی آدابِ معاشرت — صحیح احادیث کی روشنی میں
اسلامی معاشرت کے آداب کو صحیح احادیث کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔
54۔ اسلامی لباس — آداب و احکام
لباس، ستر، حجاب اور اسلامی وضع قطع سے متعلق شرعی احکام و آداب۔
📚خاندان، نکاح اور طلاق
55۔ حقوق الوالدین
والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں پر مشتمل اصلاحی و علمی کتاب۔
56۔ حقوق الاولاد
اولاد کے حقوق اور والدین کی ذمہ داریوں کی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وضاحت۔
57۔ حقوق الزوجین
میاں بیوی کے باہمی حقوق، فرائض اور ازدواجی زندگی کے اسلامی اصول۔
58۔ حقوق و فرائض
اسلامی معاشرے میں مختلف افراد کے حقوق و فرائض کا جامع بیان۔
59۔ مسنون نکاح اور شادی بیاہ کی رسومات
نکاح کے مسنون طریقے اور معاشرے میں رائج بعض غیر شرعی رسومات کا جائزہ۔
60۔ شادی بیاہ
شادی کے شرعی، معاشرتی اور عملی پہلوؤں سے متعلق رہنمائی۔
61۔ بارات اور جہیز کا تصور — مفاسد اور حل
بارات اور جہیز کی رائج صورتوں سے پیدا ہونے والے معاشرتی مسائل اور ان کے حل کا جائزہ۔
62۔ مفرور لڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں
مفرور لڑکیوں کے نکاح اور ولایتِ نکاح سے متعلق شرعی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ۔
63۔ ایک مجلس میں تین طلاقیں اور اس کا شرعی حل
ایک مجلس میں تین طلاقوں کے مسئلے کی شرعی و فقہی تحقیق۔
64۔ مسئلۂ طلاقِ ثلاثہ اور علماء احناف
طلاقِ ثلاثہ کے مسئلے میں فقہی اختلاف اور علماء احناف کے موقف کا جائزہ۔
📚 سیاستِ شرعیہ، قانون اور نظامِ عدل
65۔ نفاذِ شریعت — کیوں اور کیسے؟
شریعت کے نفاذ کی ضرورت، اس کے اصول اور طریقۂ کار سے متعلق بحث۔
66۔ اجتہاد اور تعبیرِ شریعت کے اختیار کا مسئلہ
اجتہاد، تعبیرِ شریعت اور قانون سازی کے اختیار سے متعلق علمی و فقہی بحث۔
67۔ عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات و مغالطات کا جائزہ
اسلامی سیاسی نظام میں عورت کی سربراہی سے متعلق فقہی دلائل اور پیش کیے جانے والے شبہات کا جائزہ۔
68۔ حدِ رجم کی شرعی حیثیت اور شبہات کا جائزہ
حدِ رجم کی شرعی حیثیت اور اس کے بارے میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کا علمی جائزہ۔
📚 اہلِ حدیث، منہج اور مسلکی مباحث
69۔ اہلِ حدیث اور اہلِ تقلید
اتباعِ سنت، تقلید اور فقہی مناہج کے باہمی تعلق سے متعلق علمی بحث۔
70۔ تحریکِ جہاد اور اہلِ حدیث و احناف
برصغیر کی دینی و علمی تاریخ کے تناظر میں تحریکِ جہاد، اہلِ حدیث اور احناف سے متعلق بحث۔
71۔ اہلِ حدیث کا منہج اور احناف سے اختلاف کی حقیقت و نوعیت
اہلِ حدیث کے منہج اور احناف کے ساتھ فقہی اختلاف کی بنیادوں اور نوعیت کا جائزہ۔ اس میں دیگر اہلِ علم کے مقالات بھی شامل ہیں۔
72۔ گناہوں سے کیسے بچیں؟
گناہوں سے اجتناب، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ عمل کے حوالے سے اصلاحی کتاب، جس میں نظرِ ثانی اور اضافہ بھی کیا گیا۔
وفات:
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی 12 جولائی 2020ء کو لاہور میں وفات ہوئی۔
ان کی وفات سے اردو دینی ادب، تفسیر، تحقیق اور دینی صحافت کے میدان میں ایک صاحبِ قلم عالم کی کمی محسوس ہوئی، ان کی تصانیف، تحقیقات اور علمی تحریریں آج بھی ان کے علمی و فکری کام کی یادگار ہیں۔ نفع بخش علم انسان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی اس کے علمی آثار کے ذریعے باقی رہتا ہے۔
دعا: اللہ تعالیٰ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کی علمی، تفسیری، تحقیقی، تصنیفی اور دعوتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ان کی تصانیف و علمی آثار کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




