میرے بابا ناراض ہوں گے

 امام ابو بکر المروذی (٢٧٥هـ) بیان کرتے ہیں:
میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (٢٤١هـ) کے پاس گیا اور دیکھا کہ ایک عورت ان کی بیٹی کے بال سنوار رہی ہے۔
میں نے اس عورت سے پوچھا: کیا تم نے اس کے بالوں میں قرامل (بالوں کو زیادہ کرنے کے لیے مصنوعی لٹیں) لگائی ہیں؟
تو عورت نے جواب دیا: بچی مجھے نہیں لگانے دے رہی۔ وہ کہتی ہے کہ میرے بابا نے مجھے منع کیا ہے اور اس سے میرے بابا ناراض ہوں گے۔ (الورع للمروذي: ٥٩٧)

امام احمد رحمہ اللہ کی اس ناراضگی کی بنیاد ان احادیث پر تھی جن میں سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ».

’’سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔‘‘
(صحیح البخاري: ٥٩٣٣، ٥٩٣٧، ٥٩٣٤)
اسی طرح سیدہ اسماء بنت ابی بکر، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں:

«لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ».

’’نبی کریم ﷺ نے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگانے اور لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے۔‘‘
(صحیح البخاري: ٥٩٣٦، ٥٩٤٧، ٤٨٨٧، سنن النسائي : ٣٤١٦)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

«زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا».

’’نبی کریم ﷺ نے سختی سے منع فرمایا کہ کوئی عورت اپنے سر کے بالوں کے ساتھ کوئی چیز (یعنی وِگ وغیرہ) لگائے۔‘‘
(صحیح مسلم: ٢١٢٦)
اسی طرح ابو بکر المروذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک عورت سے سنا کہ ایک عورت ان خواتین میں سے جو بال بناتی ہیں، امام احمد رحمہ اللہ کے پاس آئی۔
اس نے کہا: میں عورتوں کے سر کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑتی ہوں اور ان کے بال بناتی ہوں۔ کیا آپ کے نزدیک میری اس کمائی سے حج کرنا درست ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔
مزید فرمایا کہ حج ایسے مال سے ہونا چاہیے جو اس سے زیادہ پاکیزہ ہو۔ (الورع: ٥٩٢)

… حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ

یہ بھی پڑھیں: تمام مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے لیے ’دشمن‘ نہیں ’سہولت کار’ بنیں!