سوال 7178
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام، مشائخ عظام ایک مسئلہ درپیش ہے کہ ایک بڑے جانور میں سات حصے دار ہیں۔ ایک علیحدہ گاؤں سے بقیہ مختلف چکوک/ علاقوں کے ہیں تو ایک کے ہاں عید کا وقت پہلے ہے اور بقیہ کچھ کا بعد میں ہے تو کیا وہ قربانی کر لے گا یا انتظار کرے گا۔
اگر وہ ذبح کر لے تو بقیہ گناہ گار تو نہیں ہوں گے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، جہاں جانور ذبح ہوگا، اعتبار بھی اسی جگہ کے وقت اور وہاں کی عید کی نماز کا ہوگا۔
لہذا اگر اسی مقام کے اعتبار سے عید کی نماز کے بعد جانور ذبح (نحر) کر دیا جاتا ہے، تو تمام حصے داروں کی طرف سے قربانی ادا ہو جائے گی، چاہے وہ مختلف علاقوں یا دیہات سے تعلق رکھتے ہوں۔
اس صورت میں پریشانی کی کوئی بات نہیں، اور بقیہ حصے دار گناہ گار نہیں ہوں گے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




