سوال 7504
بسم اللہ الرحمن الرحیم
علماء کرام سے شرعی رہنمائی مطلوب ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک مالی/کاروباری معاملے میں فریق اوّل اور فریق دوم کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ اس معاملے کا کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں۔ البتہ ایک شخص گواہ کے طور پر موجود ہے جس نے یہ سودا کروایا تھا، اور وہ خود بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ فریق دوم کے ساتھ معاملے میں کچھ ناانصافی/دھوکا ہوا ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف ہے کہ سودا طے ہونے سے پہلے فریق دوم کو تمام اہم باتیں واضح طور پر بتا دی گئی تھیں، جن میں 45 لاکھ روپے کی فائل/سودا اور 5 لاکھ روپے کے استعمال سے متعلق باتیں بھی شامل تھیں۔
جبکہ فریق دوم کا مؤقف ہے کہ یہ باتیں اسے اس طرح واضح نہیں کی گئیں کہ وہ مکمل حقیقت جان کر رضامند ہوتا۔ مزید یہ کہ اصل مالک سے اس کی ملاقات نہیں کروائی گئی، مالک کو سامنے بٹھا کر معاملہ واضح نہیں کیا گیا اور نہ ہی اصل فائل/متعلقہ کاغذات دکھائے گئے۔
اب فریق اوّل اپنے مؤقف پر قائم ہے جبکہ فریق دوم اس کی تردید کرتا ہے۔
میرا سوال علماء کرام سے یہ ہے:
1. چونکہ کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں، کیا اس صورت میں فریق اوّل سے حلف/قسم لیا جا سکتا ہے کہ اس نے سودا طے ہونے سے پہلے مذکورہ تمام اہم باتیں فریق دوم کو واضح طور پر بتا دی تھیں؟
2. براہِ کرم اس صورت میں شریعت کے مطابق انصاف پر مبنی تصفیے کا مناسب طریقہ بھی بتا دیں۔
میرا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ شرعی طریقے سے حقیقت واضح کرکے معاملہ انصاف کے ساتھ حل کرنا ہے۔
جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
شرعاً عدالتی کاروائی کی جائے تو فریق دوم جو کہ مدعی ہے اسکے پاس ایک گواہ ہے لہذا ساتھ میں ایک قسم اٹھالے تو اسکے حق میں فیصلہ ہوگا۔
یا کسی پنچائیت میں فیصلہ کروائیں۔
“قضی بالشاھد والیمین”
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک گواہ جو ہے وہ دکھائی دے رہا ہے تو اس گواہ کو بنیاد بنا کر تصفیہ کرا دیا جائے کسی عالم یا کسی اور بڑے کے پاس بٹھا کر اور دونوں ہی کچھ نرمی کا معاملہ رکھیں یہ دنیا ہے اونچ نیچ انسان سے ہی ہوتی ہے۔ کمی کوتاہی ایک دوسرے کی درگزر کریں اور حلف اٹھوانے کی نوبت ہے تو اٹھوایا جا سکتا ہے اس میں بھی کوئی شرعی طور پہ قباحت نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے جو سوال لکھا ہے، اس کے مطابق محض تحریری معاہدہ نہ ہونا اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ معاملہ ناقابلِ فیصلہ ہوگیا ہے۔ شریعت کی طرف رجوع کرتے ہیں تو شریعت نے ہمیں ایسے معاملات کے حل کے لیے بنیادی اصول بتایا ہے کہ:
«الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ»
جو دعویٰ کرتا ہے، دلیل دینا اس کی ذمہ داری ہے، اور جو شخص اس دعوے کا انکار کرے، وہ قسم کھائے۔
لہٰذا سب سے پہلے یہ تعین کیجیے کہ کون سا فریق کیا دعویٰ کر رہا ہے اور کس بات کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اگر فریقِ اول یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نے سودا مکمل حقیقت واضح کرکے فریقِ دوم کی رضامندی سے کیا تھا، اور فریقِ دوم اس بات سے انکار کرتا ہے، تو محض فریقِ اول کا دعویٰ کافی نہیں ہوگا۔ اس دعوے کی تائید میں گواہ، پیغامات، رسیدیں، آڈیو، تحریری گفتگو یا دیگر قرائن سے اس کا تعین کیا جانا لازم ہے۔
نمبر دو: کیا فریقِ اول، جس نے دعویٰ کیا ہے، اس سے قسم لی جا سکتی ہے؟ تو ہم کہہ سکتے ہیں: جی ہاں۔ اگر فریقِ دوم اپنے دعوے پر کوئی معتبر بینہ پیش نہ کر سکے اور معاملہ کسی پنچایت کے سامنے ہو تو صورتحال کے مطابق منکر فریق سے حلف لیا جا سکتا ہے۔
لیکن قسم کو یوں نہیں لیا جانا چاہیے کہ: “کیا آپ قسم کھاتے ہیں کہ آپ نے کوئی دھوکا نہیں کیا؟” بلکہ اصل اختلاف یا تنازع جس بات پر ہے، اسی کو قسم میں لایا جائے۔
مثال کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے:
“کیا آپ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر قسم کھاتے ہیں کہ سودا طے ہونے سے پہلے آپ نے فریقِ دوم کو 45 لاکھ روپے کی فائل اور پانچ لاکھ روپے کے استعمال سے متعلق تمام اہم حقائق واضح طور پر بتا دیے تھے اور فریقِ دوم نے ان معلومات سے باخبر ہو کر رضامندی ظاہر کی تھی؟”
یہ میں نے ایک مثال دی ہے۔ آپ اپنے اس کیس کے حوالے سے قسم کے حتمی الفاظ اور قسم کا طریقہ، جو پنچایت یا قاضی ہے، وہ طے کرے گا کہ کن الفاظ کے ساتھ قسم لی جائے۔
اچھا، تیسری بات جو آپ نے ذکر کی ہے، وہ بہت اہم ہے کہ سودا کروانے والا شخص خود موجود تھا اور یہ اقرار بھی کرتا ہے کہ فریقِ دوم کے ساتھ ناانصافی، یعنی دھوکا ہوا ہے۔ یہ بات بھی فیصلہ کرتے وقت سامنے لائی جائے۔
اگر یہ شخص واقعی عینی گواہ ہے اور اسے معلوم ہے کہ کیا بات کس فریق کو، کب اور کس طرح بتائی گئی، تو اس کا یہ بیان ایک شرعی شہادت کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ شخص عمومی طور پر صرف یہ کہتا ہے کہ میرے خیال میں ناانصافی ہوئی ہے، تو یہ عینی شہادت نہیں ہے، یہ گواہی نہیں ہے۔
اس لیے جو سوالات کیے جانے چاہییں، میری رائے کے مطابق، پورا سوال پڑھنے کے بعد یہ ہیں:
سودا کس قیمت پر طے ہوا تھا؟
45 لاکھ والی بات کس کے سامنے ہوئی تھی؟
پانچ لاکھ روپے کے استعمال کی بات کب ہوئی تھی؟
فریقِ دوم کو یہ بات کس الفاظ میں بتائی گئی؟
کیا اصل مالک موجود تھا؟
کیا اصل کاغذات دکھائے گئے؟
فریقِ دوم نے کس بات پر رضامندی ظاہر کی؟
اور کیا فریقِ دوم کو مکمل حقیقت معلوم تھی؟
اچھا، اس کے بعد ایک معاملہ آتا ہے کہ اصل مالک سے ملاقات نہیں ہوئی اور فائل نہیں دکھائی گئی۔ یہ بات میں یہاں واضح کر دوں کہ صرف اصل مالک کا سامنے نہ آنا یا فائل کا نہ دکھایا جانا، بذاتِ خود دھوکا ثابت نہیں کرتا۔
لیکن اگر یہ چیزیں ایسی اہم معلومات تھیں کہ جن کے علم کے بغیر فریقِ دوم حقیقتاً سودا کرنے پر رضامند نہ ہوتا، تو پھر یہ معاملہ کچھ شکوک و شبہات کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔
اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ خرید و فروخت میں بات واضح ہونی چاہیے، رضامندی ہونی چاہیے اور دھوکے سے اجتناب ہونا چاہیے۔
«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»
تو ایسی حقیقت کو جان بوجھ کر چھپانا جس کے علم سے خریدنے والے کے فیصلے پر اثرات مرتب ہو رہے ہوں، یہ شرعاً معیوب بات ہے۔
قرآن نے تو ایک اصول اور بھی دیا ہے:
﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾
یہاں «عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ» کے الفاظ ہیں، یعنی حقیقی رضامندی۔ اور رضامندی تو اسی وقت ہوگی کہ فریق کو معاملے کی جو حقیقت ہے، اس کا مکمل طور پر علم ہو۔
اگر کوئی بات چھپائی جا رہی ہو اور غلط بیانی سامنے ہو تو پھر یہ معاملہ شرعی اعتبار سے قابلِ تحقیق ہے۔
لہٰذا اس معاملے میں فوری طور پر کسی ایک فریق کو حق پر قرار دینے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ دونوں فریق اپنا اپنا مکمل موقف لکھیں، اور ہر فریق سے وہ سوالات کیے جائیں جو میں نے ابھی آپ کے سامنے بیان کیے ہیں:
اصل سودا کیا تھا؟
کل رقم کتنی تھی؟
45 لاکھ کا معاملہ کیا ہے؟
پانچ لاکھ کس مقصد کے لیے تھے؟
کون سی بات کب بتائی گئی؟
کس شخص کے سامنے بتائی گئی؟
فریقِ دوم نے کس بات پر رضامندی کی؟
اور اس کے ساتھ تمام ثبوت جمع کیے جائیں: گواہوں کے بیانات، رسیدیں، بینک ٹرانزیکشنز، اگر کوئی واٹس ایپ میسجز ہیں، ایس ایم ایس ہیں، آڈیو یا ویڈیو ہے، فون ریکارڈز کی دستیاب قانونی تفصیل ہے، ان کو سامنے رکھا جائے۔ فائل اور اصل کاغذات لیے جائیں، مالک کا بیان لیا جائے، جو بروکر یا درمیانی شخص ہے، اس کا بیان بھی سامنے رکھا جائے۔
گواہ کو دونوں فریقوں کے سامنے لا کر اس سے سوالات کیے جائیں۔
ٹھیک ہے، اب سب سے آخر میں بلکہ یہی بات ہے کہ اسی طریقے سے معاملہ، ان شاء اللہ العزیز، حل ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ خیر کرے گا۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ




