علامہ مفسر محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کامختصر تعارف

علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

كُنْتُ إِذَا رَأَيْتُ الشَّيْخَ مُحَمَّدَ الأَمِينِ الشَّنْقِيطِيَّ كَأَنِّي رَأَيْتُ شَيْخَ الإِسْلَامِ ابْنَ تَيْمِيَّةَ، رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ العُلُومُ، يَأْخُذُ مِنْهَا مَا يَشَاءُ.

جب میں شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ کو دیکھتا تو یوں محسوس ہوتا گویا میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو دیکھ لیا ہے۔ وہ ایسے شخص تھے کہ تمام علوم ان کے سامنے موجود ہوتے اور وہ ان میں سے جس علم سے چاہتے، استفادہ کر لیتے۔

علامہ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ چودھویں صدی ہجری کے ان جلیل القدر علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تفسیر، اصولِ فقہ، فقہ، حدیث، عربی زبان و ادب، بلاغت اور عقیدہ جیسے متعدد علوم میں غیر معمولی علمی مقام حاصل کیا۔ آپ کا شمار بلادِ شنقیط سے تعلق رکھنے والے ان ممتاز اہلِ علم میں ہوتا ہے جنہوں نے حجاز پہنچ کر اپنے علم و تحقیق سے عالمِ اسلام کو فیض پہنچایا۔
آپ کی سب سے معروف علمی یادگار
«أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن» ہے،
جو قرآن مجید کی تفسیر قرآن ہی کے ذریعے کرنے، فقہی استدلال، اصولی مباحث، لغوی تحقیقات اور مختلف اقوال کے مابین ترجیح کے اعتبار سے ایک نہایت اہم تفسیر سمجھی جاتی ہے۔آپ کی علمی شخصیت میں قوتِ حافظہ، وسعتِ مطالعہ، نصوصِ شرعیہ سے استدلال، اصولی بصیرت، عربی زبان پر عبور اور مسائل کو دلائل کے ساتھ واضح کرنے کی صلاحیت نمایاں تھی۔

نام و نسب:
آپ کا مکمل نام:محمد الأمين بن محمد المختار بن عبد القادر بن محمد بن أحمد الجكني الشنقيطي رحمہ اللہ ہے۔
آپ کی نسبت شنقیط کی طرف ہے، جو موجودہ موریتانیہ کے علاقے کا قدیم علمی خطہ ہے۔ اسی خطے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے آپ اور وہاں کے متعدد علماء الشنقیطي کے لقب سے معروف ہوئے۔

ولادت اور ابتدائی حالات:
علامہ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کی ولادت 1325ھ مطابق 1907ء میں موریتانیہ کے علاقے کیفہ کے قریب ایک مقام پر ہوئی۔
آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ والد محترم کا انتقال ہوگیا، چنانچہ آپ نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی علمی ماحول عطا فرمایا جس میں قرآن، عربی زبان، فقہ اور علومِ دینیہ سے شغف پیدا ہوا۔
آپ نے کم عمری ہی میں قرآن مجید حفظ کیا اور پھر اپنے علاقے کے معروف علمی مراکز، یعنی محاظرِ شنقیط میں باقاعدہ علمی سفر شروع کیا۔آپ نے عربی رسم الخط، تجوید، فقہ، نحو، صرف، بلاغت، اصولِ فقہ، تفسیر، حدیث، منطق، آدابِ بحث و مناظرہ اور دیگر علوم حاصل کیے۔

محاظرِ شنقیط میں حصولِ علم:
شنقیط کا علاقہ صدیوں سے علمی مراکز اور محاظر کی وجہ سے مشہور تھا۔ شیخ محمد الامین رحمہ اللہ نے اسی علمی ماحول میں اپنے زمانے کے متعدد جلیل القدر علماء سے استفادہ کیا۔آپ کے معروف اساتذہ میں:
1️⃣ محمد بن صالح
2️⃣ احمد الأفرم بن محمد المختار
3️⃣ احمد بن عمر
4️⃣ محمد النعمة بن زيدان
5️⃣ احمد بن مود
6️⃣ احمد فال بن آدو
وغیرہ کے نام آتے ہیں۔
آپ نے ان اساتذہ سے عربی زبان و ادب، فقہ مالکی، اصولِ فقہ، تفسیر، حدیث اور دیگر علوم حاصل کیے۔آپ کے علمی مزاج کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ باقاعدہ اساتذہ سے استفادے کے ساتھ ساتھ مطالعہ، حفظ، تحقیق اور ذاتی علمی محنت کو بھی غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔

قوتِ حافظہ اور علمی استعداد:
اللہ تعالیٰ نے شیخ محمد الامین رحمہ اللہ کو غیر معمولی قوتِ حافظہ عطا فرمائی تھی۔
آپ کو قرآن مجید، احادیث، فقہی مسائل، اصولی قواعد، عربی اشعار، لغوی شواہد اور قبائل و انساب سے متعلق وسیع معلومات حاصل تھیں۔آپ کی علمی ترجمانی میں بالخصوص تفسیر، اصولِ فقہ، عربی زبان اور انساب میں آپ کی غیر معمولی وسعتِ علم کا ذکر ملتا ہے۔یہی علمی وسعت بعد میں آپ کے دروس اور تصانیف میں نمایاں طور پر سامنے آئی۔

حجاز کی طرف سفر:
1367ھ میں شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ حج کی ادائیگی کے لیے حجاز تشریف لائے۔
ابتدائی طور پر یہ سفر مستقل قیام کے ارادے سے نہیں تھا، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے سرزمینِ حجاز میں علمی خدمات کے وسیع مواقع پیدا فرمائے اور آپ نے وہیں سکونت اختیار کرلی۔آپ نے مسجد نبوی ﷺ میں تدریس کا آغاز کیا اور قرآن مجید کی تفسیر کے دروس دیے۔آپ کے ان تفسیری دروس کو بعد میں جمع کیا گیا اور ان کا ایک حصہ:
📚 العذب النمير من مجالس الشنقيطي في التفسير۔ کے نام سے معروف ہوا۔

مسجد نبوی ﷺ میں تدریس:
مسجد نبوی ﷺ میں آپ کے تفسیری دروس کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔
آپ نے قرآن مجید کی مکمل تفسیر بیان فرمائی، پھر دوسری مرتبہ تفسیر شروع کی۔ آپ کے وصال کے وقت دوسری مجلس میں سورۃ براءۃ تک پہنچے تھے۔
آپ کے دروس میں صرف آیت کا ترجمہ یا ظاہری مفہوم بیان نہیں کیا جاتا تھا بلکہ:
🔸 لغت
🔸 نحو و صرف
🔸 بلاغت
🔸 اصولِ فقہ
🔸 فقہی اختلاف
🔸 احادیث
🔸 آثارِ سلف
🔸 عقائد
🔸 استنباطِ احکام
جیسے متعدد علمی پہلوؤں کو یکجا کیا جاتا تھا۔

تدریسی خدمات:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ نے مختلف علمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
آپ نے:
① معاہدِ علمی
② کلیۃ الشریعۃ، ریاض
③ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
جیسے اداروں میں تدریس فرمائی۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے قیام کے بعد آپ اس کے ممتاز اساتذہ میں شامل ہوئے اور وہاں تفسیر و اصولِ فقہ سمیت مختلف علوم کی تدریس فرماتے رہے۔آپ ہیئۃ کبار العلماء کے رکن بھی رہے۔

عقیدہ و منہج:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کے عقائد و منہج کا مطالعہ ان کی تصانیف اور دروس سے کیا جائے تو ان میں کتاب و سنت اور منہجِ سلف کی پیروی نمایاں نظر آتی ہے۔
بالخصوص اسماء و صفات کے مسائل میں آپ سلف کے اصول کو بیان کرتے اور تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل سے اجتناب کی تعلیم دیتے تھے۔آپ کی عقیدے سے متعلق معروف علمی کاوش:
📚1۔ منهج ودراسات لآيات الأسماء والصفات ہے۔
اسی طرح:
📚2۔منع جواز المجاز في المنزل للتعبد والإعجاز
میں بھی نصوصِ شرعیہ کے مفہوم اور تاویل سے متعلق اہم اصولی مباحث موجود ہیں۔

فقہی منہج:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کی ابتدائی فقہی تربیت فقہِ مالکی کے ماحول میں ہوئی اور آپ نے فقہ مالکی کی معروف کتابیں پڑھیں۔تاہم بعد میں مختلف فقہی مذاہب کے دلائل کا وسیع مطالعہ کیا اور مسائل میں دلیل کی بنیاد پر ترجیح دینے کا منہج اختیار کیا۔
آپ کے تفسیری اسلوب میں فقہی مذاہب کے اقوال نقل کرنے، ان کے دلائل کا جائزہ لینے اور پھر دلیل کی روشنی میں ترجیح دینے کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔

شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کے ممتاز تلامذہ
آپ سے بہت سے جلیل القدر علماء نے استفادہ کیا۔آپ کے معروف تلامذہ میں:
1️⃣ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ
2️⃣ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
3️⃣ شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ
4️⃣ شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ
5️⃣ شیخ صالح اللحیدان رحمہ اللہ
6️⃣ شیخ عبداللہ بن غدیان رحمہ اللہ
7️⃣ شیخ عبداللہ بن جبرین رحمہ اللہ
8️⃣ شیخ عطیہ محمد سالم رحمہ اللہ
9️⃣ شیخ بکر بن عبداللہ ابو زید رحمہ اللہ
🔟 شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ
اور دیگر اہلِ علم شامل ہیں۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تمام تلامذہ کا شیخ سے استفادہ ایک جیسی مدت اور ایک ہی نوعیت کا نہیں تھا؛ بعض نے طویل عرصہ استفادہ کیا اور بعض نے مخصوص علوم، دروس یا جامعاتی مراحل میں آپ سے تعلیم حاصل کی۔

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے علمی تعلق:

شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کے تلامذہ میں علامہ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کا نام بھی آتا ہے۔
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے ان سے استفادہ کیا اور اس عظیم مفسر و اصولی کے علمی اثرات ان کی علمی شخصیت میں بھی نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
یوں ایک طرف شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ، شیخ عبداللہ بن حمید رحمہ اللہ اور دیگر اکابر سے استفادہ کیا، تو دوسری طرف محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ جیسے مفسر و اصولی سے بھی علمی فیض حاصل کیا۔
یہ علمی سلسلہ عصرِ حاضر کے اہلِ علم کی ایک اہم علمی کڑی کو واضح کرتا ہے۔

«أضواء البيان» علمی شاہکار:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کی سب سے معروف تصنیف:
📚 أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن ہے۔
اس کتاب کا بنیادی منہج قرآن مجید کی تفسیر قرآن مجید ہی کی دوسری آیات سے کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ

شیخ رحمہ اللہ نے اس اصول کو اپنی تفسیر میں بڑی وسعت کے ساتھ استعمال کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ کتاب میں:
🔸 احادیث
🔸 آثار
🔸 عربی لغت
🔸 نحو و بلاغت
🔸 اصولِ فقہ
🔸 فقہی مذاہب
🔸 عقائد
🔸 فقہی استنباط
🔸 دلائل کا تقابل
جیسے موضوعات بھی نمایاں ہیں۔

«أضواء البيان» کی تکمیل:
ایک اہم علمی وضاحت یہ ہے کہ شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ نے اپنے قلم سے مکمل قرآن کی تفسیر تحریر نہیں کی۔
آپ کی تحریر سورۃ المجادلہ تک پہنچی تھی۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے تلمیذ شیخ عطیہ محمد سالم رحمہ اللہ نے باقی قرآن کی تفسیر مکمل کی۔لہٰذا شیخ کی اصل تفسیر اور اس کے بعد لکھی جانے والی تتمہ کے درمیان علمی امتیاز ملحوظ رکھنا چاہیے۔

اہم تصانیف:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کی متعدد علمی تصانیف اور دروس ہیں، جن میں بالخصوص:

📚 1۔ أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن

📚 2۔ العذب النمير من مجالس الشنقيطي في التفسير

📚 3۔ دفع إيهام الاضطراب عن آيات الكتاب

📚 4۔ مذكرة في أصول الفقه على روضة الناظر

📚 5۔ نثر الورود على مراقي السعود

📚 6۔ آداب البحث والمناظرة

📚 7۔ منهج ودراسات لآيات الأسماء والصفات

📚 8۔ منع جواز المجاز في المنزل للتعبد والإعجاز

📚 9۔ رحلة الحج إلى بيت الله الحرام

اور دیگر علمی رسائل، دروس اور محاضرات شامل ہیں۔
آپ کے علمی آثار کو بعد کے اہلِ علم نے جمع و تدوین بھی کیا، جس سے آپ کی علمی میراث ایک وسیع مجموعے کی صورت میں محفوظ ہوگئی۔

اصولِ فقہ میں مقام:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ صرف مفسر ہی نہیں بلکہ اصولِ فقہ کے بھی جلیل القدر عالم تھے۔آپ کی کتاب:
📚 مذكرة في أصول الفقه على روضة الناظر
اور:
📚 نثر الورود على مراقي السعود
آپ کی اصولی بصیرت کی واضح مثالیں ہیں۔
آپ کے تفسیری مباحث میں بھی اصولِ فقہ کے قواعد کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، خصوصاً عام و خاص، مطلق و مقید، ناسخ و منسوخ، دلالاتِ الفاظ، قیاس اور استنباطِ احکام کے مباحث میں۔

عربی زبان و ادب میں مہارت:
شیخ رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کا ایک امتیاز عربی زبان و ادب پر گہری دسترس تھی۔
آپ تفسیر میں عربی اشعار، لغوی شواہد، قبائل کے کلام اور اہلِ لغت کے اقوال سے استدلال کرتے تھے۔اسی وجہ سے آپ کی تفسیر پڑھنے والا طالب علم صرف تفسیری معلومات ہی حاصل نہیں کرتا بلکہ عربی زبان، اصولِ استدلال اور فقہی تفریع سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔

علمی مجلس اور طرزِ تدریس:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کے درس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ مشکل مسئلے کو مختلف علوم کے باہمی ربط کے ساتھ واضح کرتے۔ایک ہی آیت کے تحت:
لغت → تفسیر → حدیث → اصول → فقہ → عقیدہ → استنباط کے مراحل سامنے آ جاتے۔
یہی جامعیت آپ کے تفسیری اسلوب کو منفرد بناتی ہے۔

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے تعلق:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ اور شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کے درمیان علمی تعلق اور باہمی احترام معروف تھا۔
دونوں نے ریاض کی کلیۃ الشریعۃ میں بھی ایک ہی علمی ماحول میں تدریسی خدمات انجام دیں اور بعد میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بھی علمی رفاقت رہی۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کا ذکر خیر کرتے اور ان کی علمی خدمات سے استفادہ فرماتے تھے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے ان کے انتقال پر تعزیتی پیغام میں انہیں «فقيد الجميع» قرار دیتے ہوئے ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی۔

زہد و تواضع:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو زہد، سادگی اور دنیا سے بے رغبتی تھا۔
ان کی ترجیحات میں ظاہری نمود و نمائش کے بجائے علم، تدریس، تحقیق اور دعوت کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ان سے منسوب ایک معروف جملہ ہے:

«يَا فُلَانُ، الْقَضِيَّةُ لَيْسَتْ بِالثِّيَابِ، وَإِنَّمَا مَا تَحْتَ الثِّيَابِ مِنَ الْعِلْمِ»

’’اے فلاں! اصل معاملہ لباس کا نہیں، بلکہ لباس کے اندر موجود علم کا ہے۔‘‘
یہ جملہ ان کی سادگی اور علم کو ظاہری نمود پر ترجیح دینے والے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

علمی میراث:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی علم کے حصول، تدریس، تفسیر، تحقیق اور دعوت میں گزاری۔
ان کے علمی اثرات کو چند نمایاں دائروں میں سمیٹا جا سکتا ہے:
🔸 تفسیر: قرآن کی تفسیر قرآن سے
🔸 اصولِ فقہ: دلائل اور قواعد کا گہرا استعمال
🔸 فقہ: مذاہب کے اقوال اور دلائل کا تقابل
🔸 عقیدہ: کتاب و سنت اور منہجِ سلف کی وضاحت
🔸 عربی زبان: لغوی و ادبی شواہد سے استدلال
🔸 تدریس: متعدد بڑے اہلِ علم کی تربیت
🔸 تصنیف: متعدد بنیادی علمی کتب و رسائل
🔸 دعوت: قرآن و سنت کی بنیاد پر اصلاح و رہنمائی

وفات:
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ 17 ذوالحجہ 1393ھ، مطابق 10 جنوری 1974ء کو مکہ مکرمہ میں وفات پا گئے۔
آپ حج کی ادائیگی کے بعد علالت میں مبتلا ہوئے اور پھر اسی سال ذوالحجہ کی سترہ تاریخ کو آپ کا انتقال ہوا۔
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے آپ کی وفات کی خبر اور تعزیت میں ذکر کیا کہ آپ کا انتقال 17 ذوالحجہ 1393ھ کی صبح ہوا اور بعد ازاں مسجد حرام میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
آپ کی تدفین مقبرۂ معلّٰی، مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ ان علماء میں سے تھے جن کی زندگی نے یہ حقیقت واضح کی کہ اخلاص کے ساتھ حاصل کیا ہوا علم انسان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔آپ خود دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن آپ کے دروس، تلامذہ، تصانیف اور علمی تحقیقات آج بھی اہلِ علم کے حلقوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں۔بالخصوص «أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن» آپ کی ایسی علمی یادگار ہے جس نے معاصر تفسیری ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
دعا: اللہ تعالیٰ علامہ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، ان کے علم سے اہلِ اسلام کو نفع پہنچاتا رہے، اور ان کے تلامذہ و علمی سلسلے کو کتاب و سنت کی خدمت میں قائم رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔

✍️ناشر: حافظ امجد ربانی