سوال 7270
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی، کیا اسی طرح آج کوئی شخص حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما، اہلِ بیت رضی اللہ عنہم یا کسی دوسرے بزرگ کے نام پر کوئی جانور قربان کر سکتا ہے؟ یا ان کے نام پر پانی کی سبیل، کھانا یا دیگر اشیاء تقسیم کر سکتا ہے؟
کیا یہ عمل شرعاً جائز ہے؟ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امت کے لیے کی گئی قربانی اور آج کسی شخصیت کے نام پر نیاز یا سبیل دینے میں کیا فرق ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قربانی بندے کی طرف سے ہوتی ہے بندے کے نام پر نہیں ہوتی اس فرق کو سمجھ لینا چاہیے بندے کی طرف سے ہوتی ہے بندے کے نام پر نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی طرف سے کی یہ نبی علیہ السلام کا خاصہ تھا کسی بھی صحابی نے بعد میں کسی بھی تابعی نے نبی علیہ السلام کی طرف سے یا اپنے فوت شدگان کی طرف سے کبھی قربانی نہیں کی۔ تیسری بات یہ ہے کہ کیا سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہمارے ایصال ثواب کی ضرورت ہے وہ تو جنت کے شہزادے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ صاحب جنت کے شہزادے ہیں بالکل اور اسی طرح جنت کے شہزادوں کو اعلیٰ درجات کے لیے دعا تو کی جا سکتی ہے نا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہم دعا کرتے ہیں۔ اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم۔ یہ دعا کرتے ہیں۔ تو اسی طرح ہم اپنی نیکیوں کے اندر ان کو شامل کریں تاکہ ان کے درجات اللہ اس سے بھی زیادہ کر دے۔ درجات تو پہلے بہت زیادہ ہیں لیکن دعا تو کر سکتے ہیں ان کے لیے کچھ ایسے اعمال تو کر سکتے ہیں۔ جزاک اللہ خیر راہ نمائی فرمائیں۔
جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اللہ برکت دے آپ کو۔ جب ہم درود پڑھتے ہیں تو ہم نبیﷺ کا کوئی بھلا نہیں کر رہے ہوتے۔ نبی کے اعمال میں اضافہ ہم کر ہی نہیں سکتے۔ درود پڑھنے سے ہمیں اجر ملتا ہے ہمارے درجات بڑھتے ہیں ہمارے گناہ بخشے جاتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



