پر فتن دور کی تین نایاب چیزیں
امام اوزاعی رحمہ اللہ (١٥٧هـ) فرماتے ہیں، کہا جاتا تھا:
«يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ أَقَلُّ شَيْءٍ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَخٌ مُؤْنِسٌ، أَوْ دِرْهَمٌ مِنْ حَلَالٍ، أَوْ عَمَلٌ فِي سُنَّةٍ».
’’لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں سب سے نایاب چیز کوئی دل کی سننے سنانے والا دوست، یا حلال کا ایک درہم، یا سنت کے مطابق کیا جانے والا عمل ہوگا۔‘‘
(الزهد لأحمد بن حنبل : ٩٦٤)




