اہلِ حدیثو! ابھی بھی وقت ہے، سنبھل جاؤ!
اہلِ حدیثو! خدارا ذرا غور کرو، معاملہ محض کسی ایک فرد کی حمایت یا مخالفت کا نہیں، بلکہ جماعت کے مسلک، منہج، نظم اور اجتماعی وقار کا ہے۔
اگر کسی شخص کے بارے میں جماعت کے ذمہ داران یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی سرگرمیاں جماعت کے متفقہ مسلک و منہج، نظم یا اجتماعی فیصلوں سے متصادم ہیں تو پھر معاملہ واضح ہونا چاہیے۔ یا تو اسے باقاعدہ طور پر جماعتی نظم سے بے دخل کیا جائے، یا پھر کھل کر اسے جماعت کا نمائندہ اور مسلک و منہج کا ترجمان تسلیم کیا جائے۔ یہ دوغلی کیفیت کہ بظاہر بائیکاٹ بھی ہو اور عملی طور پر پہلے سے زیادہ مرکزی پروگرام بھی اسی موصوف کے زیرِ اہتمام ہوتے رہیں، کارکنان اور عوام کے لیے شدید ابہام کا باعث بنتی ہے۔
سننے میں آیا تھا کہ چوک بیگم کوٹ کانفرنس کے حوالے سے موصوف کا بائیکاٹ کیا گیا ہے، لیکن زمینی صورتِ حال کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ موصوف سے پہلے کی نسبت زیادہ پروگرام مرکزی سطح پر یا مرکزی شخصیات کی موجودگی میں منعقد ہو رہے ہیں۔ اگر یہ تاثر درست نہیں تو جماعتی ذمہ داران کو وضاحت کرنی چاہیے، اور اگر درست ہے تو پھر بائیکاٹ کے اعلان اور عملی رویے میں یہ واضح تضاد کیوں؟
اہلِ حدیثو! ذرا اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرو!
ہمارے اسلاف نے کتاب و سنت کی سربلندی، توحید و سنت کے تحفظ اور منہجِ سلف کی پاسبانی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ مشکلات برداشت کیں، قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، مخالفتیں برداشت کیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی جانوں تک کی قربانیاں پیش کر دیں، لیکن اپنے اصولوں اور منہج پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے ورثے کی حفاظت کریں۔
جماعتی نظم و ضبط، مسلکی اصول اور اجتماعی فیصلے کسی فرد کی ذات سے بڑے ہیں۔
اگر کوئی شخص جماعت کا حصہ ہے تو اس کے ساتھ جماعتی اصولوں کے مطابق معاملہ ہونا چاہیے، اور اگر وہ جماعتی نظم سے باہر ہے تو پھر اسے جماعت کے نام، پلیٹ فارم اور مرکزی پروگراموں کے ذریعے غیر واضح حیثیت نہ دی جائے۔
یاد رہے ہم کسی فرد کی تحقیر یا تضحیک کے قائل نہیں؛ اختلاف ہو تو دلیل سے، فیصلہ ہو تو اصول کے مطابق، اور احتساب ہو تو انصاف کے ساتھ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جماعتیں افراد سے نہیں، اصولوں سے قائم رہتی ہیں۔
اگر اصول سب کے لیے یکساں نہیں ہوں گے تو کارکنان کا اعتماد مجروح ہوگا اور آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب مسلک و منہج کی حفاظت کا وقت تھا تو ہم نے مصلحت کو ترجیح کیوں دی؟
اہلِ حدیثو! ابھی بھی وقت ہے، سنبھل جاؤ!
اپنے اسلاف کے ورثے کی حفاظت کرو، جماعتی فیصلوں میں وضاحت پیدا کرو، اصولوں کو شخصیات پر مقدم رکھو اور ایسا طرزِ عمل اختیار کرو جس سے کارکنان کے دلوں میں انتشار نہیں بلکہ اعتماد پیدا ہو۔
مسلک و منہج کسی فرد کی جاگیر نہیں، اور جماعتی نظم کسی شخصیت کی مرضی کا محتاج نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام…………………….
✍️ یاسر مسعود بھٹی


