سوال 7417
السلام عليكم و رحمة الله و برکاته
شيخ محترم جہمیہ کی تکفیر کس بنیاد پر کی گئی ہے؟ کیا ان پر اتمام حجت کیا گیا تھا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جہمیہ کی تکفیر کے بارے میں پڑھا اور سنا ہے، لیکن تفصیل میں کبھی نہیں دیکھا۔ اتمامِ حجت سے کیا مراد ہے؟ کیا ایک ایک بندے کو پکڑ کر حجت تمام کی جائے؟ کیونکہ فرداً فرداً تو تکفیر نہیں کی گئی۔ اجمالاً کہا گیا، جہمیہ کے حوالے سے جو بھی فتویٰ لگا، اجمالاً لگا کہ ایسے اعتقادات کا حامل شخص ہو، یا فرد ہو، یا جماعت ہو، وہ کافر ہے۔
تو اتمامِ حجت سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔
ایک ایک بندے کو پکڑ کر سمجھایا جائے کہ وہ آج سوال کرے، جواب لے لے، کل پھر آ جائے، پھر سمجھا دیں، پھر سوال لے کر آ جائے؟ تو یہ مطلب تھوڑی اتمامِ حجت کا ہے۔
ابوجہل کو، عتبہ کو، شیبہ کو، ابولہب کو ایسے سمجھایا گیا تھا کہ روزانہ ان کو ایک سوال کا جواب دیا جاتا، پھر جواب دیا جاتا، پھر جواب دیا جاتا؟
جو اللہ رب العالمین کو اس کی صفات کے ساتھ نہیں مانتا، یا اس کی صفات میں سے دلائل کے باوجود منکر ہے، تو اس کو اس طرح اتمامِ حجت تھوڑی کروایا جاتا ہے جیسے ہم چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ہر بندے کو پکڑ کر اتمامِ حجت کیا جائے، وہ سو سوال لے کر آئے، ہم جب تک سو کے سو سوالوں کے جواب نہ دے دیں، ہم اس کی تکفیر نہیں کر سکتے۔
ہاں، یہ ہے کہ تکفیر ہر خص و ناقص نہ کرے۔ جن کی ذمہ داری ہے، وہ کریں اور اجمالاً کریں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
شیخ محترم پاکستان میں عموما کبار اہل علم کی وہی رائے جو آپ نے اختیار فرمائی ہے۔
سائل جن کا ذکر کر رہے ہیں، یہ چند نئے فضلاء اور طلبہ ہیں، جن کا یہ رجحان ہے کہ معاصر مسائل میں کبار کی رائے قرآن وسنت کے خلاف ہے، جبکہ بزعم خود وہ قرآن وسنت اور منہج سلف پر قائم ہیں۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: شیخ عبد اللّٰه ناصر رحمانی صاحب نے شیخ بدیع الدین شاہ راشدی کے حوالے سے یہی نقل کیا ہے کہ وہ اس کے قائل نہیں تھے، کیا علماء متفق نہیں ہیں اس معاملے پر، خاص طور پر عرب ممالک کے علماء؟
شیخ عبد الباسط فهیم حفظه اللّٰه سے بھی غالباََ یہی سنا ہے احتجاجوں کے حوالے سے۔
جواب: بالکل متفق نہیں ہیں.
عرب علماء میں بھی مظاہرات کے حوالے سے اہل علم کا وہ موقف موجود ہے، جو اوپر نقل کیا گیا ہے۔
بالکل شیخ عبدالباسط فہیم حفظہ اللہ کا بھی عدم جواز کا موقف ہے… کیونکہ وہ بھی پاکستان کے ان قلیل اہل علم میں سے ہیں، جو یہ رجحان رکھتے ہیں بعض عرب اہل علم کے فتاوی من و عن ہر جگہ نافذ کر دیے جائیں.
جبکہ عموما اہل علم کا یہ رجحان ہے کہ جس ملک یا ماحول سے متعلق مسئلہ ہے، وہاں اہل اجتہاد موجود ہیں، تو ان کی رائے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: اتمام حجت میں عذر بالجھل کو ختم کرنا اور تأویل توڑنا ہر بندہ نہیں انکے سرکردہ افراد پر حجت تمام کی کہ نہیں؟
کسی گروہ کی تکفیر معین تکفیر کہلاتی ہے۔ سلف نے جھمیہ گروہ کی تکفیر کی ہے نام لے لے کر۔
جواب: سلف نے اگر نام لے کر تکفیر کی ہے تو ٹھیک ہے کیا ہو گیا اس میں؟ کیا نام لے کر تکفیر ہو نہیں سکتی؟ اتمام حجت بھی وہی کرے گا جو نام لے کر تکفیر کرے گا۔ اس کی ذمہ داری ہے۔ اب وہ اتمام حجت کا دائرہ کتنا وسیع رکھتا ہے یا کتنا محدود رکھتا ہے یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ ہم نے تو یہ کہا کہ جہمیہ اگر تکفیر ہوئی ہے تو من حیث الجماعہ مجموعی طور پر تکفیر کی گئی ہوگی اور کی گئی ہے اور آج بھی ایسے ہی کی جاتی ہے تقریباً کہ ایک ایک فرد کا نام تو نہیں لیا جاتا۔ من حیث الجماعہ تکفیر کی جاتی ہے۔ ہاں الا یہ کہ کوئی ایسا موقع محل بن جائے جیسے مرزا قادیانی کا بنا۔ پھر اور بات ہے بہرحال تکفیر کا باب اگرچہ بہت محدود ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ تکفیر ہے ہی نہیں۔ یہ بھی ایک گمراہی ہے ہماری نظر میں تو۔ ورنہ قادیانیت کے بارے میں کیا کہیں گے پھر؟ ہماری بات کا خلاصہ تو یہ ہے کہ جامعہ کی تکفیر کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جیسے کہ آپ کے سوال کے مطابق اس کو تلاش کیا جائے کہ کس انداز سے اس موضوع کو لیا گیا یا من حیث الجماعہ بس اجمالاً ذکر کر دیا گیا۔ اس تفصیل کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ضرورت کیوں ہے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس وقت ایسے سوال اور ایسے جواب کی کیا ضرورت پڑ گئی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ


