سوال 7415

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مشائخ کرام میرا سوال ہے کہ کیا کسی بھی ملک میں رہنے والوں کیلئے اس چیز کی شریعت اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی حکومت کے خلاف کسی بھی چیز کا احتجاج کریں یا مظاہرہ کریں۔
جس طرح کے آج کل ہمارے وطن عزیز میں بعض لوگوں نے حکومت کے خلاف، مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا ہوا ہے۔
جس کافی لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جگہ جگہ راستے بند ہوتے ہیں ایک عام انسان کا ان راستوں سے روز کا گزر ہو تو اس صورت میں کیا یہ مظاہرے احتجاج کرنا درست ہے ؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں موجودہ جو سسٹم چل رہا ہے یہ کوئی اسلامی سسٹم نہیں چل رہا۔ یہ جمہوریت اور جمہوریت کی بھی بدترین بگڑی ہوئی شکل چل رہی ہے۔ اب ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ ایسے میں بغاوت ہو جائے، خروج ہو جائے اور تخت یعنی تخت گرا دینے کی باتیں کی جائیں تو اس کی اجازت تو نہ شریعت دیتی ہے نہ قانون نہ علماء، کوئی بات نہیں کرتا۔ لیکن یہ سسٹم بہرحال اسی طرح چل رہا ہے۔ اب اس میں جب تکلیف ہوتی ہے تو چونکہ جمہوریت کی تعریف ہے گورنمنٹ آف پیپل بائی دی پیپل فار دی پیپل۔ اس میں تو پبلک ہی پبلک ہے بس۔ یعنی پبلک کی حکومت پبلک کے ذریعے سے پبلک پر۔ عوام کی حکومت عوام کے ذریعے سے عوام پر۔ تو عوام احتجاج کا حق رکھتی ہے، املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور سڑکوں کو گلیوں کو اس انداز سے بلاک نہ کیا جائے کہ آنے جانے والوں کو تکلیف ہو۔ مہذب طریقے سے اگر آپ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں تو اس کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم و رحمة اللّٰه و برکاته
شیخ محترم کن دلائل کی رو سے سڑکوں پر نکل کر احتجاج ریکارڈ کرانا جائز ہے شریعتِ اسلامیہ کی رو سے؟ اور کون سے کبار علماء اس کی اجازت دیتے ہیں؟
جواب: شرعاً میں نے یہ نہیں کہا، بلکہ میں نے عرض کیا ہے کہ ہمارے عرف کے اندر، چونکہ ہمارے معاشرے میں اسلام تو نہیں بلکہ اسلام جیسا کچھ رائج ہے، یا جو بھی سسٹم رائج ہے، اس سسٹم کے تحت اس چیز کی اجازت ہے کہ آپ مہذب طریقے سے، باوقار طریقے سے، بغیر املاک کو نقصان پہنچائے، بغیر بغاوت و خروج کے احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں، رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے اور اپنی بات کو آگے پہنچانے کے لیے۔
تو یہ مروجہ طریقہ ہے، اسے عرف کو دیکھتے ہوئے اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک الکبائر میں، اور غالباً ترمذی نے بھی اس کو روایت کیا ہے بنیادی طور پر، اور امام ذہبی نے الکبائر میں ایک واقعہ ذکر کیا ہے کہ ایک شخص کا پڑوسی اسے تنگ کرتا تھا۔ تو ایک دفعہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام سے آکر کہا۔ آپ ﷺ نے سمجھایا، صبر کی تلقین کی اور واپس کر دیا۔
پھر وہ آ گیا کہ پڑوسی تنگ کرتا ہے۔ پھر سمجھایا، صبر کی تلقین کی، چلا گیا۔ پھر وہ آ گیا بندہ۔ نبی علیہ السلام نے کہا:

«أَخْرِجْ مَتَاعَكَ إِلَى الْخَارِجِ»

اپنے سامان کو باہر نکال کر بیٹھ جا۔
تو اس نے ایسا ہی کیا۔ گلی میں بیٹھ گیا، وہ روڈ پر بیٹھ گیا۔ بالآخر اس کا مسئلہ حل ہو گیا، پھر وہ پڑوسی نے معذرت کر لی، اس سے آ کر۔
شام تک جو لوگ اُدھر سے گزرتے رہے، وہ اس پڑوسی کو لعنت دیتے رہے اور ملامت کرتے رہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ