ریاکاری کا فتویٰ لگانے سے پہلے خود کو دیکھو!

ریاکاری صرف نماز، خطبہ، تراویح کے ساتھ خاص نہیں ہے، کسی کو ریاکار کہنے والے خود بھی ریاکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ تنقید اور نصیحت بھی سب کو نظر آرہی ہوتی ہے، جہاں ریاکاری کا احتمال موجود ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جن چیزوں کا تعلق دل اور نیت کے ساتھ ہے، وہاں اپنے بارے میں تو فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ میں ریاکار ہوں یا مخلص؟ لیکن کسی کے بارے میں کیسے دعویٰ کیا جائے کہ اس کے اندر ‘اخلاص’ ہے یا وہ دکھاوا کر رہا ہے؟!

فضیله العالم حافظ خضر حیات حفظه الله