نصیحت اور رسوائی میں فرق

إمام شافعي رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:

”جو شخص اپنے بھائی کو تنہائی میں نصیحت کرے، اس نے واقعی اس کی خیرخواہی کی اور اس کی عزت افزائی کی۔ لیکن جو کھلے عام نصیحت کرے، اس نے محض اسے رسوا اور ذلیل کیا“۔

[الآداب الشرعية: 87/1]