سوال 7249

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم قتل خطا کے کیا دو کفارے ہیں، جو بیک وقت میں دینے ہوں گے اور قتل عمد اس کا کفارہ کیا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قتلِ خطا کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اس میں دیت دی جائے گی، جو سو اونٹ کے برابر ہوتی ہے۔ یہ دیت قاتل کے عاقلہ، یعنی اس کے قریبی رشتہ داروں کے ذمہ ہوتی ہے۔
رہا خود قاتل، تو وہ کفارے کے طور پر ایک غلام آزاد کرے گا، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے گا۔ مسئلہ اسی طرح ہے۔
اب رہا قتلِ عمد، تو اس کا معاملہ بھی تقریباً اسی طرح ہے کہ دیت دی جائے گی، البتہ اس میں کچھ تغلیظ پائی جاتی ہے، یعنی مخصوص قسم کے اونٹ اور اونٹنیاں ملا کر سو کی تعداد میں دیے جاتے ہیں۔ اور میرے علم کے مطابق کفارہ پھر اسی طرح ہے کہ دو ماہ کے روزے رکھے جائیں۔
یعنی اس مسئلے کے دو پہلو ہیں:
ایک دیت کی صورت میں ہے، جو مقتول کے ورثاء کو ملے گی، اور یہ عاقلہ کے ذمہ ہوگی۔
دوسرا پہلو قاتل کی اپنی ذمہ داری ہے، یعنی کفارہ، جو اس کے ذمے ہے، اور وہ روزوں کی صورت میں ادا کرے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ