سوال 7274

اس روایت کا کیا حکم ہے؟ نیز اس کا مفہوم، بھی واضح کردیں
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لے کر آئی، اس میں ستر (۷۰) مثقال سونا تھا۔ میں کہا: اے اللہ کے رسول! اس میں سے اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ فریضہ (زکوۃ) لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور تین چوتھائی مثقال لے لیا اور باقی واپس کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ وہ حصہ لیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال ان چھ اصناف اور ان کے علاوہ دوسروں پر تقسیم کیا اور فرمایا: ”فاطمہ! بے شک حق تعالیٰ نے تیرے لیے کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا۔“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے لیے اس چیز کو پسند کروں گی جس پر اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول راضی ہوں گے۔
[سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 928]

جواب

میرے علم و تحقیق کے مطابق یہ روایت اپنی تمام اسانید کے ساتھ ضعیف جدا ہے اور شیخ البانی رحمة الله عليه نے جس سند کو صحیح کہا ہے اسی میں ابو بکر الھذلی متروک الحدیث ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت جرح ہے اس پر اور اسی سنن دارقطنی :(1952 ، 1953) کی سند میں نصر بن مزاحم بھی سخت ضعیف راوی ہے
شرح معانی الآثار :(3043) کی سند میں ابو حمزہ سخت ضعیف راوی اور شریک القاضی سیئ الحفظ ہے۔
حافظ ابن جوزی نے کہا:
ﻭﺃﻣﺎ ﺣﺪﻳﺚ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﻗﻴﺲ اﻷﻭﻝ ﻓﻔﻴﻪ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻟﻬﺬﻟﻲ ﻗﺎﻝ اﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ ﻟﻢ ﻳﺄﺕ ﺑﻬﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻏﻴﺮﻩ ﻭﻫﻮ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﻭﻗﺎﻝ ﻏﻨﺪﺭ ﻫﻮ ﻛﺬاﺏ ﻭﻗﺎﻝ ﻳﺤﻴﻰ ﻭاﺑﻦ اﻟﻤﺪﻳﻨﻲ ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﻭﻓﻴﻪ ﻧﺼﺮ ﺑﻦ ﻣﺰاﺣﻢ ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺧﻴﺜﻤﺔ ﻛﺎﻥ ﻛﺬاﺑﺎ ﻭﻗﺎﻝ ﻳﺤﻴﻰ ﻟﻴﺲ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﺑﺸﻲء ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ اﻟﺮاﺯﻱ ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﺃﻣﺎ ﺣﺪﻳﺜﻬﺎ اﻟﺜﺎﻧﻲ ﻓﻔﻴﻪ ﻣﻴﻤﻮﻥ ﻗﺎﻝ ﺃﺣﻤﺪ ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻗﺎﻝ ﻳﺤﻴﻰ ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﻟﻴﺲ ﺑﺜﻘﺔ
التحقيق في مسائل الخلاف:2/ 46 ،تنقيح التحقيق لابن عبد الهادي:3/ 74
اور طبقات المحدثین:2/ 41 ،تاریخ أصبھان:1/ 403 کی سند میں شیبان بن زکریا الاصبھانی کی توثیق و ضبط مطلوب ہے اور عباد بن کثیر کا تعین نہیں ہو سکا۔
الغرض اس معنی کی کوئی مرفوع روایت ائمہ علل ونقاد کے منہج کے مطابق ثابت نہیں ہے۔
البتہ زیورات پر زکوۃ دینا چاہیے ہے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ