سوال 7280
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیوخ کرام سیدنا عثمان بن عفان اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنھما کے صاحب زادے عبداللہ بن عثمان الاکبر کی وفات سے متعلق مستند تحقیق مطلوب ہے، مہربانی فرمادیجیے۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته امام ابن حجر رحمه الله نے الإصابة في تمييز الصحابة میں ان کا ترجمہ لکھا ہے:
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الْأُمَوِيِّ: سِبْطُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أُمُّهُ رُقَيَّةُ.
قَالَ مُصْعَبُ الزُّبَيْرِيُّ: لَمَّا هَاجَرَ عُثْمَانُ وَمَعَهُ رُقَيَّةُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَلَدَتْ لَهُ هُنَاكَ غُلَامًا سَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكُنِّيَ بِهِ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ يُكَنَّى أَبَا عَمْرٍو.
[وَأَخْرَجَ أَبُو نُعَيْمٍ مِنْ طَرِيقِ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ].
وَأَخْرَجَ ابْنُ مَنْدَهْ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ رُوحِ بْنِ عَبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ـ مَوْلَى عُثْمَانَ ـ وَكَانَتْ أُمُّهُ أُمَّ عَبَّاسٍ مَوْلَاةً لِرُقَيَّةَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَبَّاسٍ: وَلَدَتْ رُقَيَّةُ لِعُثْمَانَ غُلَامًا، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكُنِّيَ بِهِ.
وَقَالَ أَبُو سَعْدٍ النَّيْسَابُورِيُّ فِي كِتَابِ «شَرَفِ الْمُصْطَفَى»: ذَكَرُوا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ مَاتَ قَبْلَ أُمِّهِ بِسَنَةٍ قُلْتُ: فَعَلَى هَذَا يَكُونُ مَاتَ فِي السَّنَةِ الْأُولَى مِنَ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ.
عبد اللہ بن عثمان بن عفان بن ابی العاص اموی یہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے تھے۔ ان کی والدہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
مصعب زبیری کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تو وہاں ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کا نام عبد اللہ رکھا گیا، اور اسی کی نسبت سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ ہوگئی، جبکہ اس سے پہلے ان کی کنیت ابو عمرو تھی۔
ابو نعیم نے حجاج بن ابی منیع، انہوں نے اپنے دادا سے، اور انہوں نے زہری سے اسی مفہوم کی روایت نقل کی ہے۔
ابن مندہ نے عبد الکریم بن روح بن عبسہ بن سعید کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کی والدہ امّ عباس رضی اللہ عنھما تھیں، جو سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام عبد اللہ رکھا گیا، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت بھی اسی کے نام پر رکھی گئی۔
ابو سعد نیشاپوری نے اپنی کتاب “شرف المصطفى” میں لکھا ہے کہ اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ عبد اللہ بن عثمان اپنی والدہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے ایک سال پہلے وفات پا گئے تھے۔
مصنف کہتے ہیں: اس قول کے مطابق ان کی وفات مدینہ کی طرف ہجرت کے پہلے سال میں ہوئی ہوگی۔
[الإصابة في تمييز الصحابة 17/5]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم ان کی وفات اگر واقعی مذکورہ سال میں ہوئی تھی تو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے انھیں امام زین العابدین رحمہ اللہ کے اساتذہ میں ذکر کیا ہے، اس تضاد کا کوئی حل ہے؟
جواب: استاذ محترم، آپ شیخ الاسلام امام ابن تیمیه کی عبارت بھیج سکتے ہیں، یا کتاب کا نام۔
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
سائل: (فصل:3)
وأما على بن الحسين ) فمن كبار التابعين وساداتهم علما ودينا ، أخذ عن أبيه ، وابن عباس ، والمسور بن مخرمة ، وأبي رافع مولى النبي صلى الله عليه وسلم ، وعائشة ، وأم سلمة ، وصفية أمهات المؤمنين ، وعن مروان بن الحكم ، وسعيد بن المسيب ، وعبد الله بن عثمان بن عفان، (منہاج السنۃ النبویۃ۔ لابن تیمیۃ: ج،4، ص،48)
جواب: سیدنا عثمان بن عفان ؓ کے دو بیٹے تھے، عبدالله عثمان بن عفان الأصغر اور عبدالله عثمان بن عفان الأکبر، الأکبر بچپن میں فوت ہوئے، جبکہ عبدالله عثمان بن عفان الأصغر کی تاریخ کتب میں مجھے نہیں ملی، شاید یہ عبدالله عثمان بن عفان الأصغر ہیں، جو شیخ الاسلام امام بن تیمیه نے ذکر کیے ہیں،
اشکال : یہ ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے تو عبدالله عثمان بن عفان الأصغر بھی ہیں تو آپکا تذکرہ کیوں نہیں؟
عبدالله عثمان بن عفان الأصغر فاختة بنت غزوان کے بطن سے تھے، سیدہ رقیہ ؓ کے بطن سے نہیں
[دلائل کیلئے دیکھیں كتاب نسب قريش لمصعب الزبیري : 104]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



