سوال 7197
میرا ایک شرعی سوال ہے:
میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں۔ پہلے ہمیں تنخواہ اور ایڈوانس رقم نقد (کیش) کی صورت میں ملتی تھی، لیکن اب کمپنی نے تنخواہ کے لیے اے ٹی ایم کارڈ جاری کر دیے ہیں۔ اسی طرح ایڈوانس رقم کے لیے ایک موبائل ایپ فراہم کی گئی ہے، جس میں ہماری روزانہ کی کمائی کا تقریباً آدھا حصہ جمع ہوتا رہتا ہے اور ہم ضرورت کے وقت اسے نکال سکتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس ایپ سے اپنی ہی تنخواہ میں سے رقم نکالنے پر فیس کاٹی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 500 روپے یا 10,000 روپے نکالنے پر 150 روپے چارج لیے جاتے ہیں۔ اگر تین مرتبہ رقم نکالی جائے تو 450 روپے اضافی کٹ جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اپنی تنخواہ یا ایڈوانس رقم وصول کرنے پر اس طرح فیس کاٹنا شرعاً سود کے حکم میں آتا ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
یہ اسی طرح ہے جیسے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے پر طے شدہ فیس کاٹ لی جاتی ہے یعنی ہزار پر بیس روپے۔
یہ سروس چارجز ہیں ، کٹوتی معلوم و متعین ہے تو جائز ہے ان شاءاللہ ۔۔۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ




