شیخ الحدیث مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کامختصر تعارف
برصغیر کی علمی تاریخ میں مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا ہے جن کی زندگی کوایک مدرس، محدث، مصنف یا صحافی کے عنوان سے بیان کرنا ان کے علمی مقام کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کے ہاں علم، تدریس، مطالعہ، تحقیق، تصنیف، صحافت، اشاعت اور تربیت ایک دوسرے سے جدا شعبے نہ تھے، بلکہ ایک ہی علمی زندگی کے مختلف پہلو تھے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ بھی اسی قبیل کے جلیل القدر اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ مدرس، محقق، صاحبِ مطالعہ، کتب شناس اور صاحبِ قلم تھے۔ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں رخ درسِ حدیث میں دکھائی دیتا ہے، دوسرا تحقیقی حواشی و تعلیقات میں، تیسرا الاعتصام اور رحیق کی صحافت میں، چوتھا مکتبہ سلفیہ کی اشاعتی سرگرمیوں میں اور پانچواں ان اہلِ علم کی تربیت میں جنہوں نے بعد میں علمی دنیا میں اپنا مقام بنایا۔ان کی علمی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اس کے ذریعے اصلاح، دعوت، تحقیق اور تربیت کا کام لیتے تھے۔ اسی لیے ان کی علمی میراث ان کی تصانیف تک محدود نہیں ان کے تلامذہ، صحافتی خدمات، اشاعتی ادارے اور محفوظ علمی آثار بھی اسی میراث کا حصہ ہیں۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر:
مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ 1909ء، مطابق 1336ھ، ضلع امرتسر، تحصیل ترن تارن کے معروف گاؤں ’’بھوجیاں‘‘ میں پیدا ہوئے۔ اسی نسبت سے بعد میں ’’بھوجیانی‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔
ان کے والدِ گرامی میاں صدرالدین حسین رحمہ اللہ دین دار، نیک اور علم دوست شخصیت تھے۔ مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور علاقے کے اہلِ علم سے حاصل کی۔ گھر کا ماحول اگرچہ مادی آسائشوں سے بھرپور نہ تھا، لیکن دین اور علم سے محبت نے بچپن ہی سے ان کے اندر حصولِ علم کا ذوق پیدا کردیا تھا۔
زندگی کے ابتدائی دور ہی میں والدین کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ والدِ محترم ان کے دہلی جانے سے کچھ عرصہ قبل وفات پاچکے تھے، جبکہ بعد میں والدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
حصولِ علم کا شوق اور علمی اسفار:
تقریباً پندرہ، سولہ برس کی عمر میں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے حصولِ علم کے لیے مدرسہ حمیدیہ، دہلی کا رخ کیا۔ اس زمانے میں دہلی برصغیر کی علمی اور حدیثی روایت کا اہم مرکز تھا۔ وہاں انہوں نے مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی رحمہ اللہ اور مولانا ابو سعید شرف الدین دہلوی رحمہ اللہ سے بعض متداول درسی کتب اور حدیث کا درس لیا۔
دہلی کے بعد انہوں نے لکھوکے کا رخ کیا، جہاں مولانا عطاء اللہ لکھوی رحمہ اللہ سے علمی فیض حاصل کیا۔ پھر گوندلانوالہ پہنچے اور حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کی علمی مجلس سے استفادہ کیا۔دہلی اور پنجاب کے اہلِ حدیث مراکز سے حاصل ہونے والی اس علمی تربیت نے ان کی شخصیت کی بنیاد مضبوط کردی۔ بعد کی زندگی میں حدیث، رجال، تخریج، مصادرِ اصلیہ اور کتبِ سلف سے ان کا جو گہرا تعلق نظر آتا ہے، اس کے پیچھے یہی مضبوط علمی تربیت کارفرما تھی۔
علم کی طلب میں فقر و مشقت کی داستان:
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی طلبِ علم محض رسمی تعلیمی سرگرمی نہ تھی، بلکہ اس کے لیے انہوں نے اپنی آسائشوں تک کو قربان کیا۔
ان کے حالاتِ زندگی میں یہ واقعہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ وہ انتہائی محدود وسائل کے ساتھ سفر کرتے، بعض اوقات پیدل مسافت طے کرتے اور اپنی معمولی آمدنی میں سے رقم بچا کر کتابیں خریدتے تھے۔جب دہلی جانے کا موقع آیا تو ان کے پاس جو تھوڑی بہت رقم تھی، اس سے انہوں نے اپنی ذاتی ضرورت پوری کرنے کے بجائے فتح الباری اور قیام اللیل خریدیں۔ کتابیں خریدنے اور ان کی جلد بندی کروانے کے بعد ان کی جمع پونجی تقریباً ختم ہوگئی، لیکن ان کے نزدیک یہ مالی نقصان نہیں بلکہ علمی سرمایہ تھا۔دہلی میں قیام کے دوران مالی تنگی یہاں تک پہنچی کہ بعض اوقات طلبہ کے بچے ہوئے کھانے پر بھی گزارا کرنا پڑا، مگر علم کا سفر نہ رکا۔
تدریسی زندگی کا آغاز:
تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ نے اپنے آبائی علاقے کے مدرسہ فیض الاسلام سے تدریس کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ وہاں خدمت انجام دینے کے بعد گوجرانوالہ تشریف لے گئے اور مختلف علمی مراکز میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔1933ء میں کوٹ کپورہ کی انجمن اصلاح المسلمین سے وابستہ ہوئے، جہاں خطابت کے ساتھ تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ پھر 1936ء کے اواخر میں مولانا محمد علی لکھوی رحمہ اللہ کی خواہش پر مرکز الاسلام، لکھوکے تشریف لے گئے اور وہاں تدریس کی ذمہ داری سنبھالی۔
1937ء میں فیروزپور تشریف لے گئے، جہاں تقریباً ایک دہائی تک علمی و تدریسی خدمات انجام دیں اور دارالحدیث نذیریہ کے قیام و تدریس میں بھی کردار ادا کیا۔
ان کی تدریسی زندگی کسی ایک مدرسے یا مختصر مدت تک محدود نہ رہی۔ مختلف علمی مراکز میں تدریس کے ذریعے انہوں نے ایک وسیع علمی حلقہ پیدا کیا۔ ان کے نزدیک درس کا مقصد محض کتاب ختم کرنا نہیں تھا؛ وہ طلبہ کو عبارت فہمی، اصل مصادر کی طرف رجوع، دلیل کی تلاش اور مستقل مطالعے کا عادی بناتے تھے۔
قیامِ پاکستان اور گوجرانوالہ:
قیامِ پاکستان کے وقت مولانا اپنے آبائی علاقے میں تھے۔ تقسیم کے بعد انہوں نے ہجرت کی اور پاکستان میں گوجرانوالہ کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ہجرت سے ان کی زندگی کا جغرافیہ ضرور بدلا، لیکن علمی مقصد اور دعوتی مزاج میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ تدریس کے ساتھ تصنیف، تحقیق، صحافت، اشاعت اور اہلِ علم کی علمی رہنمائی ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن گئے۔
ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘:
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی علمی و صحافتی خدمات میں ہفت روزہ الاعتصام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔گوجرانوالہ سے اس کا ڈیکلریشن حاصل کیا گیا اور 9 اگست 1949ء کو اس کا پہلا شمارہ مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ کی ادارت میں شائع ہوا۔الاعتصام محض ایک اخبار نہ تھا اس کے صفحات میں قرآن و حدیث، عقائد، فقہ، سیرت، تاریخ، دینی مسائل، اہلِ علم کے حالات اور معاصر فکری مباحث پر علمی گفتگو ہوتی رہی۔ مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کے نزدیک صحافت بھی علمی و دعوتی خدمت کا ایک مؤثر ذریعہ تھی۔ اسی لیے الاعتصام سے ان کا تعلق ان کی علمی زندگی کا اہم باب ہے۔
لاہور آمد اور مکتبہ سلفیہ:
بعد ازاں مولانا لاہور منتقل ہوئے اور مکتبہ سلفیہ کے قیام و انتظام سے وابستہ ہوئے۔ یہاں ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو نمایاں ہوا کتب کی تلاش، تحقیق، تصحیح، تدوین اور اشاعت۔وہ کتاب کو محض مطالعے کی چیز نہیں سمجھتے تھے۔ کسی قدیم کتاب کو تلاش کرنا، اس کے نسخے کا اہتمام کرنا، متن کی اصلاح کرنا، حوالوں کی جانچ کرنا، حاشیہ لکھنا، مقدمہ تیار کرنا اور پھر اسے اہلِ علم تک پہنچانا بھی ان کے نزدیک علمی خدمت تھی۔
کتاب سے محبت اور ذوقِ مطالعہ:
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو کتاب سے ان کی غیر معمولی محبت تھی۔وہ اپنی ضروریات محدود کرکے کتابیں خریدتے تھے۔ ابتدائی دور میں اپنے نام کے ساتھ ’’پردیسی‘‘ بھی لکھتے تھے اور بعض کتابوں پر ’’حنیف پردیسی‘‘ کی مہر بھی ملتی ہے۔وہ کتابیں صرف اپنے لیے جمع نہیں کرتے تھے بلکہ طلبہ اور اہلِ علم کو بھی مطالعے کے لیے کتابیں فراہم کرتے اور ان میں مطالعے کا ذوق پیدا کرتے تھے۔ان کے ذوقِ مطالعہ کا اندازہ اس واقعے سے بھی ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ کھانا کھاتے ہوئے کتاب کے مطالعے میں اس قدر محو ہوئے کہ سامنے رکھی چیز پر توجہ نہ رہی اور پانی کو سالن سمجھ کر لقمہ لگا لیا۔ یہ ایک معمولی واقعہ سہی، لیکن ان کے مطالعے میں انہماک کی کیفیت کو نمایاں کرتا ہے۔
ماہنامہ ’’رحیق‘‘:
اکتوبر 1956ء میں مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ نے لاہور سے ماہنامہ رحیق جاری کیا۔
اس رسالے کا مقصد اسلام کی عمومی ترجمانی، منہجِ اہلِ حدیث کی علمی وضاحت، اسلامی عقائد و افکار کی اشاعت اور اسلام و سنت کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات کا علمی جواب دینا تھا۔رحیق میں علمی و تحقیقی مقالات، حدیثی مباحث، دینی مسائل، تراجم، کتابوں پر تبصرے اور معاصر فکری موضوعات پر تحریریں شائع ہوتی رہیں۔ انکارِ حدیث جیسے اہم فکری مسائل پر بھی اس کے صفحات میں علمی گفتگو ہوئی۔مالی مشکلات کے باعث یہ رسالہ زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکا اور جولائی 1959ء کے بعد اس کی اشاعت بند ہوگئی، لیکن مختصر مدت میں بھی رحیق نے مولانا کے علمی، تحقیقی اور صحافتی مزاج کی ایک مستقل یادگار قائم کردی۔
جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے تعلق:
جامعہ سلفیہ کے ابتدائی علمی و تدریسی دور میں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے بھی اہم خدمات انجام دیں۔ جامعہ کے ابتدائی نصاب میں انہیں حدیث کی تدریس کی ذمہ داری سونپی گئی، بعد ازاں وہ جامعہ سلفیہ کی مسندِ شیخ الحدیث پر فائز ہونے والے اولین اہلِ علم میں شمار ہوئے۔ ان کا تدریسی تعلق پہلے لاہور اور پھر فیصل آباد سے رہا۔
جامعہ سلفیہ کے قیام اور ابتدائی علمی نظام کی تشکیل میں مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ، مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ، مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ اور دیگر اکابر اہلِ علم کے ساتھ مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ نے بھی اپنی علمی خدمات پیش کیں۔ یوں جامعہ سلفیہ کی ابتدائی علمی و تدریسی تاریخ میں ان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
علمی تصانیف و تحقیقی خدمات:
مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی علمی خدمات صرف مستقل تصانیف تک محدود نہ تھیں۔ حاشیہ، تخریج، تعلیق، تنقیح، مقدمہ، تقریظ اور اشاعت بھی ان کے علمی کام کی مختلف صورتیں تھیں۔ان کے معروف علمی کاموں میں بالخصوص درج ذیل کا ذکر ملتا ہے:
1۔ التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی
سنن نسائی پر عربی زبان میں ان کے علمی حواشی و تعلیقات کا یہ اہم کام ہے، جس سے ان کے حدیثی مطالعے اور رجال و تخریج سے گہری واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
2۔ فیض الودود حاشیہ سنن ابی داؤد
سنن ابی داؤد سے متعلق ان کا تحقیقی و حاشیائی کام ان کے حدیثی ذوق کی نمایاں مثال ہے۔
3۔ احسن التفاسیر پر علمی تعلیقات
تفسیر کے متن، تخریج اور علمی نکات کے حوالے سے ان کی تحقیقی کاوشیں اس کام میں نمایاں ہوتی ہیں۔
4۔ الفوز الکبیر پر حواشی و تعلیقات
شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کی معروف تصنیف پر ان کے علمی حواشی بھی ان کے وسیع مطالعے اور علمی ذوق کی علامت ہیں۔
5۔ رہنمائے حجاج
حج کے مسائل اور مناسک سے متعلق ضروری رہنمائی پر مشتمل یہ کتاب ان کی عوامی دینی خدمت کا ایک پہلو سامنے لاتی ہے۔
6۔ ائمہ و اکابر کے حالات
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام شوکانی رحمہ اللہ جیسے ائمہ و اکابر کے حالات سے متعلق ان کے علمی کام بھی قابلِ ذکر ہیں۔
7۔ پیارے رسول ﷺ کی پیاری دعائیں
مسنون دعاؤں کو عام قارئین تک پہنچانے کے لیے یہ ایک مفید دینی کاوش ہے۔
ان کے متعدد مقدمات، تعلیقات، تحقیقی مضامین اور دیگر علمی خدمات مختلف کتب و رسائل میں منتشر تھیں، جن کا ایک بڑا حصہ بعد میں مرتب ہوکر محفوظ ہوا۔
تنقیح و تحقیق کا منفرد مزاج:
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کے علمی ذوق میں رجال، رواۃ اور حدیثی مصادر کی تحقیق کو خاص مقام حاصل تھا۔ وہ کسی علمی بات کو محض نقل پر چھوڑ دینے کے بجائے اس کے ماخذ اور اصل مصدر تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔
ان کے نزدیک تحقیق صرف نئی کتاب لکھنے کا نام نہ تھا۔ کسی قدیم کتاب کو تلاش کرنا، مختلف نسخوں سے استفادہ کرنا، متن کی اصلاح کرنا، حواشی لکھنا، حوالہ جات کی جانچ کرنا اور اسے اہلِ علم تک پہنچانا بھی تحقیق کی ایک صورت تھی۔
قرآن مجید سے تعلق اور ذاتی اوصاف:
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کا قرآن مجید سے بھی گہرا تعلق تھا۔ بیماری اور ضعف کے زمانے میں بھی قرآن مجید کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا اور حفظ و تلاوت کا اہتمام کرتے رہے۔
ان کی زندگی میں سادگی، تقویٰ، صلہ رحمی اور دینی معاملات میں احتیاط نمایاں تھی۔ حلال و حرام کے معاملے میں وہ خاص احتیاط برتتے اور مشتبہ چیز سے بھی اجتناب کو ترجیح دیتے تھے۔
تلامذہ اور علمی تربیت:
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی طویل تدریسی زندگی کا ایک اہم ثمر ان کے تلامذہ اور علمی اثرات ہیں۔ان کے علمی ماحول سے مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ، حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ، مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری رحمہ اللہ، مولانا ابوبکر صدیق سلفی رحمہ اللہ، مولانا سیف الرحمن الفلاح رحمہ اللہ اور دیگر اہلِ علم نے استفادہ کیا۔
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ اپنے شاگردوں میں مطالعہ، تحقیق اور اصل مصادر کی طرف رجوع کا ذوق پیدا کرتے تھے۔
علمی وراثت اور حافظ احمد شاکر رحمہ اللہ:
مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی اولاد میں ان کے اکلوتے صاحبزادے حافظ احمد شاکر رحمہ اللہ کا نام خصوصی طور پر نمایاں ہے، جنہوں نے اپنے والد کی علمی و اشاعتی میراث کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
حافظ احمد شاکر رحمہ اللہ ستمبر 1944ء میں کوٹ کپورہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد محترم اور دیگر اہلِ علم سے دینی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں علمی و اشاعتی میدان میں خدمات انجام دیں۔وہ مکتبہ سلفیہ، الاعتصام اور دارالدعوۃ السلفیہ سے وابستہ رہے اور طویل عرصے تک کتاب و اشاعت کے میدان میں کام کرتے رہے۔ ان کی اہم علمی خدمات میں اپنے والد کی منتشر تحریروں کو جمع، مرتب اور شائع کرنا شامل ہے۔حافظ احمد شاکر رحمہ اللہ 22 نومبر 2022ء کو وفات پاگئے۔
’’آثار حنیف بھوجیانی‘‘:
حافظ احمد شاکر رحمہ اللہ نے اپنے والد کے منتشر علمی سرمایہ کو جمع کرکے آثار حنیف بھوجیانی کے نام سے مرتب کیا۔ یہ مجموعہ چار جلدوں میں شائع ہوا۔
اس میں بالخصوص:
1۔ دروسِ قرآن و حدیث
2۔ فتاویٰ
3۔ علمی مقالات
4۔ رحیق کے اداریے و شذرات
5۔ الاعتصام کے اداریے و شذرات
6۔ مختلف کتب کے مقدمات، تصدیرات اور تقریظات
7۔ علمائے کرام اور دیگر شخصیات کے تراجم
8۔ وفیات، تذکرے اور مطبوعہ کتب پر تبصرے
یہ مجموعہ مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس میں ان کے مختلف ادوار کی منتشر تحریریں ایک مربوط علمی صورت میں محفوظ ہوگئی ہیں۔ حافظ احمد شاکر رحمہ اللہ نے اپنے والد کے علمی سرمایہ کو محفوظ کرنے کے ساتھ اسے آئندہ نسلوں کے لیے قابلِ استفادہ بھی بنا دیا۔
علمی وراثت کا تسلسل:
حافظ احمد شاکر رحمہ اللہ کے بعد ان کے صاحبزادوں حافظ حماد شاکر، خلاد شاکر، عباد شاکر، ہناد شاکر اور جواد شاکر نے بھی اپنے دادا اور والد کے قائم کردہ علمی و اشاعتی سلسلے سے تعلق برقرار رکھا۔اس طرح مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی علمی میراث کا ایک خوب صورت تسلسل سامنے آتا ہے: استاد سے شاگرد، والد سے صاحبزادے اور ایک نسل سے دوسری نسل تک علم، کتاب اور اشاعت کی خدمت منتقل ہوتی رہی۔
آثارِ حنیف اور علمی سرمایہ:
مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ نے اپنی زندگی میں جو کچھ لکھا، پڑھایا اور شائع کیا، وہ ان کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔
الاعتصام، رحیق، مکتبہ سلفیہ، ان کی تصانیف، ان کے تلامذہ اور بالخصوص آثار حنیف بھوجیانی ان کے علمی وجود کی وہ نشانیاں ہیں جو آج بھی اہلِ علم کو ان کے علمی ذوق، تحقیقی مزاج اور فکری خدمات سے متعارف کراتی ہیں۔ان کے علمی کام کا دائرہ صرف حدیث تک محدود نہ تھا، بلکہ تفسیر، فقہ، رجال، تاریخ، سیرت، تراجم، دینی صحافت، کتب شناسی اور علمی تحقیق تک پھیلا ہوا تھا۔
آخری دور اور وفات:
1983ء میں مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کو فالج کا حملہ ہوا۔ صحت متاثر ہونے کے باوجود کتاب اور مطالعے سے ان کا تعلق ختم نہ ہوا۔ بیماری کے زمانے میں بھی وہ اپنے علمی مشاغل سے وابستہ رہے۔اکتوبر 1987ء میں طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور انہیں لاہور کے عمر ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ 2 اور 3 اکتوبر کی درمیانی شب یہ صاحبِ علم اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
3 اکتوبر 1987ء کو لاہور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی رحمہ اللہ نے پڑھائی اور بڑی تعداد میں اہلِ علم، طلبہ اور متعلقین نے شرکت کی۔
یوں ایک ایسی علمی زندگی اپنے اختتام کو پہنچی جس کا بڑا حصہ کتاب، درس، قلم، تحقیق اور اشاعت کے درمیان گزرا۔
ایک صاحبِ علم کی اصل عظمت:
مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی شخصیت کی اصل عظمت اس بات میں تھی کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ایک واضح علمی مقصد کے ساتھ گزاری اور حالات کی سختیوں، وسائل کی کمی اور عمر کے مختلف مراحل کے باوجود اپنے علمی سفر کو جاری رکھا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اخلاص، شوق اور استقامت کے ساتھ کی جانے والی محنت دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔
آج کی نسل کے لیے ان کی زندگی کا اہم سبق یہی ہے کہ علم کی راہ میں سہولت سے زیادہ شوق، وسائل سے زیادہ محنت اور وقتی کامیابی سے زیادہ ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ انسان کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اس کی زندگی اس کے بعد بھی دوسروں کے لیے نفع کا ذریعہ بنی رہے۔
مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی زندگی اسی حقیقت کی ایک خوب صورت مثال ہے کہ مخلصانہ جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اثرات مزید نمایاں ہوتے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی آثار کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




