سوال 7482

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قابلِ احترام علمائے کرام و مفتیانِ عظام! ہم 21 روز کے لیے عمرہ کی غرض سے سعودی عرب جا رہے ہیں، اور ہمارا زیادہ تر قیام مکہ مکرمہ میں ہوگا، کیونکہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک جگہ تین دن قیام کرے تو وہ مسافر نہیں رہتا بلکہ مقیم بن جاتا ہے۔ اس صورت میں اگر عمرہ کرنا ہو تو مقیم کے لیے میقات پر جا کر احرام باندھنا ضروری نہیں، بلکہ اپنی قیام گاہ ہی سے احرام باندھ سکتا ہے۔
وہ اس کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں تین دن قیام فرمایا تھا۔
مجھے یہ دلیل درست معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ اگر رسول اللہ ﷺ نے اس سے زیادہ دن قیام کا ارادہ فرما کر بھی قصر نماز پڑھی ہوتی تو یہ دلیل زیادہ واضح ہوتی۔ جبکہ کتبِ حدیث میں صحابہ کرامؓ سے منقول ہے کہ انیس دن تک قیام کا ارادہ ہو تو ہم قصر کرتے تھے، اور اس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو تو پوری نماز پڑھتے تھے۔
لہٰذا براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں کہ 21 روزہ قیام کی صورت میں ہم شرعاً مسافر ہوں گے یا مقیم؟ نیز عمرہ کے لیے احرام کہاں سے باندھنا ہوگا: میقات سے یا مکہ میں اپنی قیام گاہ سے؟
بینوا توجروا۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال میں کچھ ابہام ہے، کیونکہ بات قصرِ نماز سے شروع ہو رہی ہے اور درمیان میں عمرہ، احرام اور میقات کا مسئلہ آ گیا ہے۔ پہلے دونوں مسائل کو الگ الگ سمجھ لینا چاہیے۔
جہاں تک قصرِ نماز کا تعلق ہے، اگر آپ کا واپسی کا سفر متعین ہو جائے تو منزل پر پہنچنے کے بعد، سفر کے دن ملا کر، چار دن تک قصر کر سکتے ہیں؛ اس کے بعد پوری نماز پڑھیں۔
البتہ عمرے کے سفر میں ایک شخص کے سفر کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے؛ مثلاً مکہ گیا، پھر وہاں سے مدینہ چلا گیا تو نیا سفر ہو گیا، پھر مدینہ سے واپس آیا تو ایک اور سفر ہو گیا۔ اس لیے اس پورے معاملے کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
بہرحال کوشش یہی ہونی چاہیے کہ نماز کے محدود ایام میں قصر کی جائے اور باقی نماز پوری پڑھی جائے، کیونکہ نماز فرض ہے۔ قصر کے اعتبار سے تین، چار دن والی بحث زیادہ معتبر ہے، لیکن یہ اسی وقت ہے جب آپ کا سفر اور واپسی متعین ہو۔ اگر آدمی ڈانواں ڈول ہو اور واپسی کا وقت متعین نہ ہو تو انیس دن تک قصر مرفوعاً ثابت ہے، اور آثارِ صحابہ سے اس سے بھی زیادہ، حتیٰ کہ چھ چھ ماہ تک قصر کرنا منقول ہے۔
اب رہا یہ مسئلہ کہ عارضی طور پر مکہ مکرمہ میں رہنے والا شخص عمرے کے احرام کے لیے میقات پر جائے گا یا نہیں؟ تو جی ہاں، اگر عمرے کا ارادہ ہے اور عمرے کا احرام باندھنا ہے تو شرعی میقات وہی ہے، اس لیے میقات پر جانا چاہیے۔
البتہ حج کا احرام اس سے مختلف ہے: حج کے لیے مکہ مکرمہ میں موجود شخص 8 ذوالحجہ کو مکہ ہی سے احرام باندھ سکتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ