سوال 7651
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا عیسائی سے دم وغیرہ کروایا جاسکتاہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، دم یا روحانی علاج، یعنی رُقیہ، کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ شرکیہ کلمات پر مشتمل نہ ہو اور نہ ایسے کلمات ہوں جن کا مفہوم سمجھ میں نہ آتا ہو۔
اہلِ کتاب سے دم کروانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اس لیے مطلقاً نہ اس کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ مطلقاً اثبات۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ اللہ کے کلام سے دم کرتے ہیں اور کلمات واضح، معروف اور مفہوم ہوں تو اس صورت میں گنجائش موجود ہے، خصوصاً جب کوئی مسلمان دم کرنے والا دستیاب نہ ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنا اور ایک یہودی (اہلِ کتاب) عورت کا انہیں دم (رقیہ) کرنا تاریخی اور حدیثی روایات میں ثابت ہے۔ واقعے کی تفصیل روایت کا پس منظر: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کسی بیماری میں مبتلا تھیں۔ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی ہوئی تھی جو انہیں دم کر رہی تھی۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے اور اس یہودیہ عورت سے فرمایا: “اسے اللہ کی کتاب کے ذریعے دم کرو۔”
اس روایت کی بنیاد پر ائمہ کرام (جیسے امام مالک، امام شافعی اور دیگر محدثین) نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی اہل کتاب (یہودی یا نصرانی) کلامِ پاک (اگر وہ پڑھ سکیں یا جانتے ہوں) یا اللہ کے ذکر کے مطابق درست اور شرعی الفاظ کے ذریعے دم کرے، تو مسلمان کے لیے اس سے دم کرانا جائز ہے۔بنیادی شرط: دم (رقیہ) کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں شرک، کفر یا جادو کے الفاظ نہ ہوں بلکہ خالصتاً اللہ کا ذکر اور اس کی کتاب کے الفاظ ہوں۔ ربیع کہتے ہیں: میں نے امام شافعی (رح) سے دم کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: آدمی اللہ کی کتاب اور معروف ذکر سے دم کرے تو کوئی حرج نہیں۔ میں نے پوچھا کہا کیا اہل کتاب مسلمانوں کو دم کر سکتے ہیں ؟ امام شافعی نے فرمایا ہاں – جب وہ کتاب اللہ میں جو جانتے ہوں اس سے دم کریں یا اللہ کے ذکر سے ہو۔
علمائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ دم اور رُقیہ جس میں مندرجہ ذیل تین شرائط پائی جائیں، جائز ہے:
۱۔ وہ دَم جو کلام اللہ، اسماء اللہ یا اس کی صفات پر مبنی ہو۔ ۲ … شرک نہ ہو
بہتر ہے کہ سمجھ آنے والی عربی زبان میں ہو۔
فضیلۃ الشیخ محمد نعیم راشد حفظہ اللہ




