سوال 7480
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا ایک مرتبہ عمرہ کرنے کے بعد دوبارہ میقات سے احرام باندھ کر انا ضروری ہے، بعض لوگ مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر آ جاتے ہیں کیا یہ عمل درست ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اختلاف کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ مسجدِ عائشہ، یعنی تنعیم سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے تو عمرہ ہو جائے گا۔ اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک عارضے کی وجہ سے وہاں سے عمرہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن جو شرعی میقات نبی علیہ السلام نے مقرر فرمائے ہیں، وہ اپنی جگہ وہی ہیں۔
لہٰذا اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ جو شخص مکہ مکرمہ میں رہتا ہو اور ایک عمرہ کر چکا ہو، پھر دوسرا عمرہ کرنا چاہتا ہو تو طائف کی طرف چلا جائے اور واپسی پر قرنِ منازل سے احرام باندھ کر عمرہ کرے۔
اسی طرح جو شخص مدینہ منورہ کی طرف سے آ رہا ہو، وہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھ لے۔ یا کسی بھی شرعی میقات پر جا کر وہاں سے احرام باندھنا زیادہ افضل ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شکریہ شیخ محترم ، میرا بھی یہی موقف ہے کہ جس علت کے تحت سیدہ عائشہ نے وہاں سے احرام باندھا تھا، اگر کسی عورت کووہ مسئلہ تو آس کے لئے جواز ہے نہ کر مرد حضرات کے لئے کیونکہ مرد کو اللہ نے اس عارضہ سے محفوظ رکھا ہے واللہ اعلم بالصواب۔

