سوال 7476
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر ایک بندہ نماز پڑھ رہا ہے اکیلے اور دوسرا بندہ آ کر اس کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو جماعت شروع ہو جاتی ہے تو بندہ جہاں بھی قرأت میں پہنچا ہے وہاں سے ہی شروع کرے گا یا سورۃ الفاتحہ سے شروع کرے گا دوبارہ اور وہ اونچی آواز میں قرأت کرے گا یا سری(دل میں ہی) اگر مغرب یا عشاء کی نماز ہے۔
جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرہ
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امام اپنی قرأت جاری رکھے گا، جہاں بھی پہنچا ہوا ہے وہیں سے قرأت کرے گا۔
جو شخص بعد میں آ کر جماعت میں شامل ہو، اگر امام جہری قرأت کر رہا ہے تو وہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد سورۃ الفاتحہ پڑھے گا۔ اس کے ذمے صرف سورۃ الفاتحہ ہی پڑھنا ہے۔
اور اگر سری نماز ہے اور اسے یہ اطمینان ہے کہ امام کے رکوع کرنے سے پہلے پہلے ثناء بھی پڑھ لے گا اور سورۃ الفاتحہ بھی، تو دونوں پڑھ لے۔
لیکن اگر یقین نہیں ہے کہ رکوع سے پہلے دونوں پڑھ سکے گا، تو صرف سورۃ الفاتحہ پڑھے، کیونکہ فاتحہ فرض ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: نہیں
اگر ایک بندہ اکیلا نماز پڑھ رہا ہے اور دوسرا بندہ آ کر اس کے ساتھ ملنا چاہتا ہے تاکہ جماعت ہو سکے اس بارے میں بتائیں
جواب: بات تو واضح ہے۔ جو شخص پہلے سے اکیلے نماز پڑھ رہا ہے، وہ اپنی قرأت جاری رکھے گا، جہاں تک پہنچا ہوا ہے وہیں سے قرأت کرتا رہے گا۔ اس کے بعد دوسرا شخص آ کر اس کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو جماعت قائم ہو جائے گی۔
اگر امام جہری قرأت کر رہا ہے تو جو شخص بعد میں شامل ہوا ہے، وہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد صرف سورۃ الفاتحہ پڑھے گا، بس۔
اور اگر سری نماز ہے تو آگے والا امام قرأت نہیں کر رہا ہوتا، جبکہ پیچھے والا شخص سورۃ الفاتحہ کا پابند ہے۔ البتہ اگر اسے یہ اطمینان ہے کہ میرے پاس وقت ہے اور میں امام کے رکوع کرنے سے پہلے ثناء بھی پڑھ سکتا ہوں اور سورۃ الفاتحہ بھی، تو ثناء بھی پڑھ لے اور فاتحہ بھی پڑھ لے۔ تو بات یہی ہے، پہلے بھی یہی عرض کیا گیا تھا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

