سوال 7647
ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا:
مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ
”جو آدمی اللہ تعالیٰ سے مانگتا نہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر خفاء (و ناراض) ہوتا ہے۔“
(سنن ترمذی : 3383، سنن ابن ماجہ : 3827)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم اس حدیث کی صحت کے بارے میں بتادیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِىۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَـكُمۡؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِىۡ سَيَدۡخُلُوۡنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيۡنَ
اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے
(سورۃ غافر آیت نمبر : 60)
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ سے دعائیں نہ کرنا باعث عذاب ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
یہ روایت ابو صالح الخوزی کے سبب ضعیف ہے کسی ثقہ حافظ نے اس کی متابعت نہیں کی ہے تفصیل سے بحث و تحقیق دیکھیے مسند أبی یعلی :(6655) کی تعلیق میں تحقیق شیخ سعید، البتہ معنی درست ہے جو انسان رب العالمین سے نہیں مانگتا اور اس کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ تکبر کا مرتکب ہو رہا ہے اور گمراہی کے راستے پر ہے ۔
یا غیر الله سے مانگتا ہے اور انہیں رب العالمین کا حق عبادت دیتا ہے تو تب بھی وہ رب العالمین کے غضب و ناراضگی کو پا رہا ہے الا کہ وہ توبہ کر لے۔
رب العالمین سے جی بھر کر مانگیں کہ اس سے باری تعالی خوش ہوتے ہیں ۔
قرآن کریم احادیث میں اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




