سوال 7594

‘جب کوئی بچہ چھینک مارے تو اسے “یرحمك اللہ” نہیں کہا جائے گا۔’
جہاں تک چھوٹے بچے کا تعلق ہے، جب وہ چھینکے تو اسے “یرحمك اللہ” نہیں کہا جائے گا۔ بلکہ اسے “بارك اللہ فیك” کہا جائے گا۔ اسکے لئے برکت کی دعا کی جائے گی۔ اس لیئے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب ایک بچے نے چھینک ماری تو آپ ﷺ نے اس کے لیے فرمایا: “بارك اللہ فیك۔”
اور یہ من باب التعلیم ہے۔ کہ بچہ اللہ کی حمد سیکھ جائے۔
شیخ صالح الفوزان || شرح منظومة الآداب الشرعیة ٢٨٠
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مشائخ کرام رہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ خیراً
جب بچہ چھینک مارے تو بارک اللہ فیک کہنا اس حدیث کا حوالہ درکار ہے؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
چھینک آنے پر الحمدللہ کہا جائے تو بھی کافی ہے لیکن “الحمدللہ علی کل حال” کا اضافہ بھی ثابت ہے۔ اس کے حواب میں”یرحمک اللہ” کہا جائے۔
سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: چھینک کا جواب کیسے دے
حدیث نمبر: 5033

‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ:‏‏‏‏ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ هُوَ:‏‏‏‏ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.

ترجمہ:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ وہ کہے: الحمد لله على كل حال (ہر حالت میں تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں) اور چاہیئے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی کہے: يرحمک الله (اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اب وہ پھر کہے: يهديكم الله ويصلح بالکم (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہیں ٹھیک رکھے، اور تمہاری حالت درست فرما دے) ۔
سندہ،صحیح
لیکن یہ کہنا کہ بچہ چھینک مارے تو اسے “یرحمک اللہ” نہیں کہیں گے بالکل “بارک اللہ فیک” کہیں گے اس تخصیص پر کوئی معتبر دلیل نہیں۔ شرعی طور پر جو بھی چینک مارے اور “الحمدللہ” کہے تو اس کے جواب میں “یرحمک اللہ ” ہی کہیں گے بلاتخصیص۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ