سوال 7486

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
ایک عورت کی ایک بیٹی ہے جو شادی شدہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اولاد عطا فرمائی ہے۔ اس بیٹی کی والدہ کے ہاں بعد میں ایک اور بچہ، یعنی اس بیٹی کا چھوٹا سگا بھائی یا بہن پیدا ہوا۔ اگر کسی وجہ سے اس چھوٹے بچے کی والدہ بیمار ہو جائے اور وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے کے قابل نہ رہے، تو کیا اس کی بڑی بیٹی، جو خود بھی اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، اپنے سگے چھوٹے بھائی یا بہن کو بھی اپنا دودھ پلا سکتی ہے؟
اگر وہ بڑی بہن اپنے چھوٹے بھائی یا بہن کو مدتِ رضاعت کے اندر شرعی رضاعت کی مقدار کے مطابق دودھ پلا دے، تو کیا اس سے اس بھائی یا بہن کے ساتھ رضاعت کا کوئی نیا حکم قائم ہوگا؟
اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بڑی بہن نے اپنے چھوٹے سگے بھائی کو دودھ پلا دیا، تو اس بھائی کی آئندہ اولاد اور اس بڑی بہن کی اولاد کے درمیان محرمیت کا کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ ایک دوسرے کے لیے محرم ہوں گے اور ان کے درمیان پردہ نہیں ہوگا، یا وہ ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوں گے اور پردہ کرنا لازم ہوگا؟ نیز کیا آئندہ نسلوں میں ان کا آپس میں نکاح جائز ہوگا یا رضاعت کی وجہ سے نکاح حرام ہوگا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال کو غیر ضروری طور پر آنے والی نسلوں تک لمبا کیا گیا ہے۔ اصل سوال صرف اتنا بنتا ہے کہ اگر یہ بہن رضاعت کی مدت کے اندر اپنے سگے بھائی کو دودھ پلا دے تو کیا حکم ہوگا؟
جی ہاں، وہ اس کی بہن بھی ہے اور رضاعی ماں بھی بن جائے گی۔ یعنی یہ بچہ اس کا بھائی بھی ہوگا اور رضاعی بیٹا بھی ہو جائے گا۔
اور یہ بچہ اس دودھ پلانے والی بہن کے تمام بچوں کے لیے محرم ہو جائے گا۔ بس اتنی بات ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ