سوال 7392

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مولانا صاحب جی میرا سوال یہ ہے کہ یہ جو ہمارے ہاں بیعانہ چلتا ہے اور اگر کوئی بندہ بیعانہ پہ پورا نہیں اتر پاتا تو ہمارے ہاں جو عام چیز چلتی ہے وہ یہ ہے کہ بیعانہ واپس نہیں کیا جاتا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک طرح کا ایگریمنٹ ہے تو لہٰذا آپ نے اس کو پورا نہیں کیا تو وہ بیعانہ جو ہے نا وہ اس کا واپس نہیں ہوتا۔ تو شریعت کی روح سے بتائیں کہ جو بندہ یہ بیعانہ دے کے اس پہ پورا نہیں اتر پاتا تو وہ جس نے بیعانہ لیا ہوتا ہے وہ بیعانہ واپس نہیں کرتا۔ کیا اس کا واپس نہ کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟ اور اگر ناجائز ہے تو پھر ہمارے ہاں اس چیز کا اتنا رواج ہے، علمائے کرام کا اس کے بارے میں کیا موقف ہے اور شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ براہ مہربانی ذرا اس کا جواب دے دیں۔

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری معلومات کے مطابق تو یہ بیعانے کو ضبط کر لینا یہ جائز نہیں ہے۔ ” نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیع العربون” بیع العربون بیعانے کی بیع سے نبی ﷺ نے منع فرمایا۔ وہ ضبط کر لیتا ہے اور اگر وہ خود کینسل کرے تو پھر بڑھا کر دیتا ہے ڈبل دیتا ہے۔ یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں۔ البتہ کچھ مسائل ایسے ہو گئے ہیں معاشرے میں کہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے سودا کر کے بگاڑا جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے علماء کرام شاید سختی نہیں کرتے۔ اور جرمانے کی صورت میں کوئی نہ کوئی صورت باقی رکھتے ہیں۔ صحیح بات یہی ہے کہ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ درست نہیں ہے۔ شریعت کے احکامات کے خلاف ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ