سوال 7617
بدھ کے دن دعا قبول ہوتی ہے؟
سیدنا جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں :
رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد ’’ مسجد فتح ‘‘ میں ،سوموار اور منگل اور بدھ کے دن دعاء کی ،تو آپ کی دعاء دو نمازوں (ظہر اور عصر)کے درمیان بدھ کے دن قبول ہوئی،
جابر فرماتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی اہم معاملہ یا مشکل درپیش ہوئی تو میں نے اس وقت کا قصد کرکے بدھ کے روز دو نمازوں کے درمیان اس گھڑی دعاء کی ۔ اور مجھے اس طرح قبولیت کا تجربہ ہوا،
اس کا حوالہ درکار ہے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سند میں کچھ خلل ہے۔
دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا المسجد، مسجد الفتح، يوم الاثنين ويوم الثلاثاء ويوم الأربعاء، فاستجيب له بين الصلاتين من يوم الأربعاء قال جابر: ولم ينزل بي أمر مهم غائظ إلا توخيت تلك الساعة، فدعوت الله فيه بين الصلاتين يوم الأربعاء في تلك الساعة، إلا عرفت الإجابة
[الادب المفرد: 704]
سیدنا جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد ’’ مسجد فتح ‘‘ میں ،سوموار اور منگل اور بدھ کے دن دعاء کی ، تو آپ کی دعاء دو نمازوں کے درمیان بدھ کے دن قبول ہوئی ، جابر فرماتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی اہم معاملہ یا مشکل درپیش ہوئی تو میں نے اس وقت کا قصد کرکے بدھ کے روز دو نمازوں کے درمیان اس گھڑی دعاء کی ۔ اور مجھے اس طرح قبولیت کا تجربہ ہوا ،
اس کی اسناد اس طرح ہیں:
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ۔۔۔۔۔ [مسند احمد: 14563]
شیخ امن پوری حفظہ اللہ نے اس پر لکھا ہے کہ : “کثیر بن زید اسلمی وہمی راوی ہے اس سند میں اس کا وہم ہے کبھی عبداللہ بن عبدالرحمن بن کعب سے بیان کرتا ہے اور کبھی اس کے باپ عبدالرحمن بن کعب سے
عبداللہ مجہول ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ روایت کس سے ہے؟ یہ دلیل ہے کہ کثیر بن زید کو وہم ہوا ہے۔”
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




