سوال 7704
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی علماء کرام صاحبان سے سوال پوچھنا تھا کہ صبح کی اذان اور اقامت کے درمیان مسجد کے نفل یا وضو کے نفل پڑ سکتے ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
فجر کی اذان کے بعد عام طور پر صرف دو رکعت پڑھنے کی اجازت ہے، جو فجر کی سنتیں ہیں۔
البتہ اگر آپ گھر سے وضو کرکے مسجد جاتے ہیں اور ابھی جماعت کھڑی ہونے میں وقت باقی ہے تو تحیۃ المسجد پڑھ سکتے ہیں، اس طرح تحیۃ المسجد کی نماز بھی ادا ہو جائے گی۔
لیکن اگر آپ مسجد میں بیٹھے ہیں اور تحیۃ المسجد الگ اور تحیۃ الوضو الگ پڑھتے ہیں تو ہم نہیں سمجھتے کہ اس کی اجازت ہونی چاہیے۔
لہٰذا اگر آپ مسجد میں موجود ہیں تو اذان کے بعد صرف فجر کی دو سنتیں پڑھی جائیں گی۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ!
اگر کوئی شخص فجر کی اذان کے بعد اپنے گھر 2 یا 4 نوافل پڑھ کر 2 سنت بھی گھر ہی پر ادا کرکے عین جماعت سے ایک دو منٹ پہلے مسجد پہنچتا ہے تو کیا اسے بھی سنتوں کے علاوہ ایکسٹرا نوافل نہیں پڑھنے چاہئیں (فجر کی اذان کے بعد)؟
جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں، فجر کی اذان کے بعد صرف دو رکعت سنتیں پڑھنے کی اجازت ہے۔ یہاں اگر وتر چھوٹ گئے ہوں تو پہلے وتر پڑھ لے، اگر وقت ہو تو دو سنتیں پڑھ لے، پھر فرض نماز ادا کرے۔
فجر کی اذان کے بعد خصوصی طور پر نفل نمازیں پڑھنا جائز نہیں، صرف دو رکعت سنتوں کی اجازت ہے۔
تحیۃ المسجد ایک سببی نماز ہے۔ اگر کوئی اتفاقاً مسجد میں پہنچ گیا ہے تو وہ اسے ادا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ کیا طریقہ ہے کہ آدمی پہلے ہی مسجد میں موجود ہو اور اذان کے بعد پہلے تحیۃ الوضو پڑھے، پھر تحیۃ المسجد پڑھے اور اس کے بعد فجر کی سنتیں پڑھے؟ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔
ویسے بھی جب آدمی مسجد میں آتا ہے اور جماعت ہو رہی ہو تو تحیۃ المسجد ساقط ہو جاتی ہے۔ جب وہ دو رکعت پڑھ لے گا تو وہی تحیۃ المسجد اور تحیۃ الوضو سے بھی کفایت کر جائیں گی، یعنی ان کی الگ سے ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
لہٰذا وہ براہِ راست فجر کی سنتیں ہی پڑھے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




