شیخ علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کا مختصر تعارف
العلمُ يُحيي أناسًا في قبورِهم
والجهلُ يُلحقُ أحياءً بأمواتِ
علم بعض لوگوں کو ان کی قبروں میں بھی زندہ رکھتا ہے
جبکہ جہالت زندہ لوگوں کو مُردوں سے ملا دیتی ہے۔
شیخ علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ برصغیر کے ان اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی تعلیم و تدریس، تحقیق و تصنیف اور دعوت و اصلاح کے لیے وقف کردی۔ سیرتِ نبوی ﷺ سے انہیں خصوصی شغف تھا، مگر ان کی علمی سرگرمیاں صرف سیرت تک محدود نہ رہیں حدیث، شرحِ حدیث، مصطلحِ حدیث، تفسیر، عقیدہ، دعوت، تقابلی مطالعہ، ترجمہ اور علمی تحقیق کے مختلف میدان ان کی قلمی جدوجہد کے گواہ ہیں۔ ان کی شہرت کا سب سے روشن عنوان ’’الرحیق المختوم‘‘ ہے، جس نے انہیں عالمِ اسلام میں غیر معمولی شہرت عطا کی اور رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ کے عالمی مقابلہ سیرتِ نبوی ﷺ میں اول انعام حاصل کیا۔ لیکن شیخ کی علمی شخصیت کو صرف ایک کتاب کے حوالے سے دیکھنا ان کی ہمہ جہت علمی خدمات کو محدود کرنا ہوگا۔
نام، نسب اور نسبت:
آپ کا نام صفی الرحمن بن عبداللہ بن محمد اکبر بن محمد علی بن عبدالمؤمن بن فقیر اللہ المبارکپوری الاعظمی بیان کیا گیا ہے، جبکہ کنیت ابو ہشام تھی۔
’’مبارکپوری‘‘ نسبت مبارکپور کی طرف اور ’’اعظمی‘‘ نسبت ضلع اعظم گڑھ کی طرف ہے۔ خاندان کے بارے میں انصاری نسبت بھی منقول ہے۔
ولادت:
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی ولادت 6 جون 1942ء کو حسین آباد، ضلع اعظم گڑھ، اترپردیش میں ہوئی۔ بعض مآخذ میں 1943ء بھی مذکور ہے، 6 جون 1942ء کو اختیار کیا گیا ہے۔ بچپن ہی سے تعلیم کی طرف میلان پیدا ہوا اور گھر کے دینی ماحول نے ان کے آئندہ علمی سفر کے لیے بنیاد فراہم کی۔
تعلیم و تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے مدرسہ دارالتعلیم، مبارکپور میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی، پھر مدرسہ احیاء العلوم، مبارکپور سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں مدرسہ فیض عام، مئو میں بھی تعلیم حاصل کی اور مختلف مراحل طے کرتے ہوئے 1961ء میں دینی تعلیم کی تکمیل کی۔عربی و فارسی، نحو و صرف، فقہ، تفسیر، حدیث اور دیگر علومِ دینیہ کے ساتھ آپ نے اپنی علمی استعداد کو مسلسل بڑھایا۔ دورانِ تعلیم مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کی، جس سے ان کے علمی شوق اور محنت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اساتذہ کرام:
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے مختلف اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ ان کے معروف اساتذہ میں بالخصوص:
1۔ علامہ شمس الحق السلفی رحمہ اللہ
2۔ مولانا نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ
3۔ مولانا محمد بشیر رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ
4۔ مولانا عبد الرحمن المئوی رحمہ اللہ
5۔ علامہ حبیب الرحمن الفیضی رحمہ اللہ
6۔ شیخ ابو الطیب عبد الصمد صاحب
ان بزرگوں سے حدیث کی متعدد کتب اور اجزاء پڑھنے کا شرف حاصل ہوا اور یہی علمی فیض آگے چل کر ان کے حدیثی و تحقیقی ذوق کی بنیاد بنا۔
تدریس اور جامعہ سلفیہ، بنارس:
تعلیم مکمل کرنے کے بعد شیخ رحمہ اللہ نے تدریس کو اپنی زندگی کا مستقل میدان بنایا۔ ہندوستان کے مختلف دینی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں اور اسی دوران مطالعہ، تصنیف اور دعوتی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ان کی علمی زندگی میں جامعہ سلفیہ، بنارس سے وابستگی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں تدریس کے ساتھ تحقیق و تصنیف کا کام بھی جاری رہا۔ اسی دور میں اردو کے معروف علمی مجلے ’’محدث‘‘ سے وابستگی ہوئی اور اس کی ادارت و علمی خدمت بھی انجام دی۔
’’الرحیق المختوم‘‘ اور عالمی اعزاز:
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کا نام ’’الرحیق المختوم‘‘ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ نے سیرتِ نبوی ﷺ پر ایک عالمی مقابلہ منعقد کیا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے 171 مقالات موصول ہوئے، جن میں عربی، اردو، انگریزی، فرانسیسی اور ہاؤساوی زبانوں کے مقالات شامل تھے۔
شیخ رحمہ اللہ کا مقالہ اس مقابلے میں اول انعام کا مستحق قرار پایا اور انہیں پچاس ہزار سعودی ریال انعام میں دیے گئے۔ یوں ’’الرحیق المختوم‘‘ نے ایک علمی مقالے سے بڑھ کر سیرتِ نبوی ﷺ کی ایک مقبول اور مؤثر کتاب کی صورت اختیار کی، جو بعد میں متعدد زبانوں میں منتقل ہوئی اور دنیا کے مختلف حصوں میں شائع ہوئی۔
مدینہ منورہ میں تحقیقی خدمات:
شیخ رحمہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک اہم دور مدینہ منورہ میں گزرا، جہاں وہ مرکزِ خدمتِ سنت و سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستہ ہوئے۔یہاں ان کی توجہ سیرتِ رسول اللہ ﷺ کے مصادر، احادیث، تاریخی روایات اور متعلقہ علمی مواد کی تحقیق و ترتیب کی طرف رہی۔ سیرت کے مختلف موضوعات پر مواد جمع کرنے، تحقیقی کاموں کی مراجعت اور علمی منصوبوں کی جانچ میں بھی حصہ لیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جس میں سیرتِ نبوی ﷺ کے علمی ذخیرے سے ان کا تعلق مزید گہرا ہوا اور ان کی تحقیقی سرگرمیوں کو ایک وسیع میدان میسر آیا۔
حدیث کی تدریس اور اجازت:
مدینہ منورہ میں بعض اہلِ علم نے شیخ رحمہ اللہ سے حدیث کی کتب اور اجزاء پڑھے اور ان سے اجازت بھی حاصل کی۔ان میں:
1۔ شیخ حامد بن اکرام البخاری صاحب
2۔ ڈاکٹر عبداللہ الزہرانی صاحب
کا ذکر ملتا ہے۔
دارالسلام، ریاض:
مدینہ منورہ کے بعد شیخ رحمہ اللہ ریاض تشریف لے گئے اور دارالسلام کے علمی و تحقیقی کام سے وابستہ ہوگئے۔ یہاں ان کی علمی زندگی کا ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ صرف اپنی کتابوں کی تصنیف میں مصروف نہ رہے بلکہ دوسروں کی کتب کی تحقیق، تصحیح، مراجعت، نظرِ ثانی، حواشی اور علمی نگرانی میں بھی حصہ لیتے رہے۔اسی دور میں ان کی علمی خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہوا اور متعدد تحقیقی منصوبوں میں ان کی علمی بصیرت سے فائدہ اٹھایا گیا۔
مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند سے تعلق:
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کو مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند کی امارت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی، تاہم ان کی اصل دلچسپی علمی تحقیق، تدریس اور تصنیف میں تھی۔ اسی بنا پر کچھ عرصے بعد انہوں نے اس ذمہ داری سے معذرت کرلی۔
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی تصانیف:
شیخ رحمہ اللہ کی علمی خدمات کا سب سے روشن باب ان کی اپنی تصانیف ہیں۔ عربی اور اردو میں ان کے قلم سے مختلف موضوعات پر متعدد کتب سامنے آئیں۔
عربی تصانیف:
1۔ الرحيق المختوم في السيرة النبوية
سیرتِ نبوی ﷺ پر شہرہ آفاق کتاب، جس نے عالمی مقابلہ سیرت میں اول انعام حاصل کیا۔
2۔ روضة الأنوار في سيرة النبي المختار ﷺ
سیرتِ نبوی ﷺ پر عربی تصنیف، جس کا اردو ترجمہ ’’تجلیاتِ نبوت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
3۔ منة المنعم في شرح صحيح مسلم
صحیح مسلم کی معروف عربی شرح۔
4۔ إتحاف الكرام في شرح بلوغ المرام
بلوغ المرام کی عربی شرح۔
5۔ بهجة النظر في مصطلح أهل الأثر
مصطلحِ حدیث کے موضوع پر علمی کتاب۔
6۔ وإنك لعلى خلق عظيم
اخلاقِ نبوی ﷺ اور سیرت کے موضوع پر تصنیف۔
7۔ إبراز الحق والصواب في مسألة السفور والحجاب
حجاب و پردے کے مسئلے پر عربی علمی تصنیف۔
8۔ الفرقة الناجية وخصائصها وميزاتها
فرقہ ناجیہ اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر کتاب۔
9۔ الأحزاب السياسية في الإسلام
اسلام میں سیاسی جماعتوں کے موضوع پر علمی بحث۔
10۔ البشارات بمحمد ﷺ في كتب الهند والبوذيين
ہندوستانی اور بدھ مذہبی مصادر میں نبی اکرم ﷺ سے متعلق بشارات کا تقابلی مطالعہ۔
11۔ تطور الشعوب والديانات في الهند ومجال الدعوة الإسلامية فيها
ہندوستان کے اقوام و ادیان اور دعوتِ اسلام کے موضوع پر تحقیقی تصنیف۔
12۔ شرح أزهار العرب
عربی ادب سے متعلق علمی کام۔
اردو تصانیف:
13۔ تجلیاتِ نبوت ﷺ ’’روضة الأنوار‘‘ کا اردو قالب۔
14۔ قادیانیت اپنے آئینے میں
قادیانیت کے عقائد و دعووں کے تنقیدی جائزے پر مشتمل کتاب۔
15۔ فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری
فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی جدوجہد سے متعلق کتاب۔
16۔ انکارِ حدیث کیوں؟
انکارِ حدیث کے اسباب اور اس کے شبہات کے جواب میں۔
17۔ انکارِ حدیث: حق یا باطل؟
حجیتِ حدیث اور منکرینِ حدیث کے افکار کے رد میں۔
18۔ رزمِ حق و باطل
مناظرانہ و دعوتی موضوع سے متعلق تحریر۔
19۔ اسلام اور عدمِ تشدد
اسلامی تعلیمات اور عدمِ تشدد کے موضوع پر کتاب۔
20۔ صحفِ یہود و نصاریٰ میں نبی ﷺ سے متعلق بشارتیں
اہلِ کتاب کے مصادر میں نبی اکرم ﷺ سے متعلق بشارات کا مطالعہ۔
دیگر اہلِ علم کی کتب کے اردو تراجم:
شیخ رحمہ اللہ نے عربی علمی ذخیرے کو اردو قارئین تک پہنچانے کے لیے متعدد کتابوں کے تراجم بھی کیے۔ ان میں:
21۔ اہلِ تصوف کی کارستانیاں
اصل: ’’فضائح الصوفية‘‘، مصنف: شیخ عبدالرحمن عبدالخالق رحمہ اللہ۔
22۔ تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب
مصنف: شیخ احمد بن حجر آل بوطامی رحمہ اللہ۔
23۔ شیخ محمد بن عبدالوہاب کا سلفی عقیدہ اور دنیاے اسلام پر اس کے اثرات
24۔ المصابیح فی مسئلۃ التراویح
مصنف: امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ۔
25۔ مختصر اظہار الحق
26۔ ائمہ اربعہ کا عقیدہ
27۔ مختصر سیرۃ الرسول ﷺ
مصنف: شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ۔
28۔ الکلم الطیب
مصنف: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ۔
29۔ الاربعین النوویہ
مصنف: امام نووی رحمہ اللہ۔
یہ تراجم اس بات کا ثبوت ہیں کہ شیخ رحمہ اللہ عربی علمی ذخیرے کو اردو زبان کے قارئین تک پہنچانے کے لیے بھی مسلسل کام کرتے رہے۔
نظرِ ثانی، تحقیق، حواشی اور علمی مراجعت:
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے بہت سے علمی منصوبوں میں بطور محقق، مراجع، نگران اور نظرِ ثانی کرنے والے عالم کام کیا۔
یہاں ان خدمات کو ان کی اپنی تصانیف سے الگ رکھنا ضروری ہے:
30۔ المصباح المنير في تهذيب تفسير ابن كثير
تفسیر ابن کثیر کے اس مختصر ایڈیشن کی اصل تلخیص مولانا ابوالاشبال شاغف سے منسوب ہے، جبکہ شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے اس پر نظرِ ثانی فرمائی۔
اس مراجعت میں نسخوں کا تقابل، روایات و رجال کی تحقیق، بعض اغلاط کی اصلاح، عنوانات کی ترتیب، آیات و احادیث کی ضبط و اعراب، مکررات کی کمی اور بعض ضروری علمی اضافات شامل تھے۔
31۔ احسن البیان
قرآن مجید کے معروف اردو ترجمہ و تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے علمی حواشی و مواد کی نظرِ ثانی میں شیخ رحمہ اللہ کی خدمات شامل رہیں۔
32۔ تاریخِ مکہ مکرمہ
دارالسلام کے شعبہ تحقیق و تالیف کی مرتب کردہ کتاب، جس پر شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی نظرِ ثانی کا ذکر موجود ہے۔
33۔ تاریخِ مدینہ منورہ
دارالسلام کی مرتب کردہ یہ کتاب بھی شیخ رحمہ اللہ کی نظرِ ثانی سے گزری۔
34۔ تفسیر السعدی
دارالسلام کے علمی منصوبے میں شیخ رحمہ اللہ کی علمی نگرانی و سرپرستی کا ذکر ملتا ہے۔
35۔ سعادة الدارين / تعلیقاتِ سلفیہ بر تفسیر جلالین
تفسیر جلالین کے بعض مقامات پر عقیدہ سلف کی وضاحت کے لیے تیار کیے گئے علمی حواشی کے کام کی نگرانی شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے کی۔
36۔ تاریخِ اسلام
دارالسلام کے تحقیقی کاموں میں اس منصوبے کی تیاری اور مراجعت میں بھی شیخ رحمہ اللہ کی علمی نگرانی کا ذکر ملتا ہے۔
37۔ ریاض الصالحین سے متعلق علمی کام
دارالسلام کے بعض تحقیقی منصوبوں میں ریاض الصالحین کے حوالے سے بھی شیخ رحمہ اللہ کی علمی مراجعت و نگرانی شامل رہی۔
38۔ سیرتِ نبوی ﷺ اور مستشرقین سے متعلق تحقیقی کام
مدینہ منورہ کے مرکزِ خدمتِ سنت و سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کے دوران سیرت اور مستشرقین سے متعلق تحقیقی کاموں کی مراجعت و جانچ میں بھی ان کی خدمات رہیں۔
یہ خدمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ شیخ رحمہ اللہ صرف صاحبِ تصنیف ہی نہ تھے بلکہ علمی کام کی تنقیح، تصحیح اور معیار بندی میں بھی ان کا نمایاں حصہ تھا۔
مقالات اور علمی تحریریں:
کتب کے علاوہ شیخ رحمہ اللہ نے مختلف اسلامی موضوعات پر سینکڑوں مقالات بھی تحریر کیے۔ یہ مضامین مختلف جرائد و اخبارات میں شائع ہوئے اور ان کے ذریعے حدیث، سیرت، عقیدہ، دعوت، اسلامی تاریخ اور دیگر علمی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا۔ان کے قلم کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ علمی مسئلے کو محض نقل نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے مصادر تک پہنچنے، مختلف اقوال کو دیکھنے اور پھر بات کو واضح انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
تلامذہ و مستفیدین:
طویل عرصے تک تدریس سے وابستہ رہنے کی وجہ سے شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کے تلامذہ کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔
معروف مستفیدین میں:
1۔ شیخ صلاح الدین مقبول احمد حفظہ اللہ
2۔ شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ
3۔ شیخ اصغر علی امام مہدی حفظہ اللہ
4۔ شیخ رضاء اللہ عبد الکریم حفظہ اللہ
5۔ شیخ عبداللہ بن سعود حفظہ اللہ
6۔ شیخ عبد المنان بن عبد الحنان حفظہ اللہ
7۔ شیخ ابو المکرم بن عبدالجلیل حفظہ اللہ
کے نام ذکر کیے جاتے ہیں۔
علمی مزاج، تواضع اور حسنِ اخلاق:
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی شخصیت میں علم کے ساتھ تواضع اور سادگی نمایاں تھی۔ بلند علمی مقام کے باوجود نمود و نمائش سے دور رہے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ مطالعہ، تدریس، تحقیق اور تصنیف میں گزارا۔
علمی مسائل میں دلیل کو بنیادی حیثیت دیتے تھے۔ اگر کسی مسئلے میں دوسری روایت یا کوئی نئی دلیل سامنے آتی تو اسے دیکھنے اور تحقیق کرنے میں تردد نہ کرتے۔ یہی علمی دیانت ایک محقق کی اصل پہچان ہے۔ان کی زندگی میں علم محض کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں تھا وہ علم کو عمل، دعوت اور اصلاح کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کے قائل تھے۔
وفات:
شیخ علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے جمعہ کے روز یکم دسمبر 2006ء، 10 ذوالقعدہ 1427ھ کو اپنے وطن مبارکپور، ضلع اعظم گڑھ، ہندوستان میں وفات پائی۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
ایک ایسی شخصیت رخصت ہوئی جس نے اپنی زندگی حدیث، سیرت، تدریس، تحقیق، تصنیف، ترجمہ اور دعوت کے لیے وقف کردی تھی۔
علمی میراث:
شیخ رحمہ اللہ سادگی، تواضع، علمی دیانت اور تحقیق کے لیے معروف تھے۔ دلیل کو بنیادی اہمیت دیتے اور علمی مسائل میں تحقیق و مراجعت کو ضروری سمجھتے تھے۔ مطالعہ، تدریس، تصنیف اور تحقیق ان کی زندگی کے نمایاں مشاغل رہے۔
اللہ تعالیٰ شیخ علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی تصانیف و تحقیقات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور امتِ مسلمہ کو ان کے علمی ورثے سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




