شیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ کا تعارف
شیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ عصرِ حاضر کے معروف اہلِ علم، داعی اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی علم حاصل کرنے، دعوت دینے، تصنیف و تالیف اور مسلمانوں کی اصلاح میں گزاری۔ عام مسلمانوں میں ان کی سب سے زیادہ شہرت ’’حِصْنُ الْمُسْلِمِ مِنْ أَذْكَارِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘ کی وجہ سے ہوئی، جو دنیا کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں پڑھی اور شائع کی گئی۔’’حصن المسلم‘‘ دنیا کی 20 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے اور مختلف ممالک میں شائع ہوئی۔ روزمرہ زندگی کے مسنون اذکار و دعاؤں کو مختصر اور آسان انداز میں جمع کرنے کی وجہ سے اسے عام مسلمانوں میں خاص مقبولیت حاصل ہوئی۔تاہم شیخ رحمہ اللہ کی علمی خدمات صرف ’’حصن المسلم‘‘ تک محدود نہیں تھیں۔ ان کے قلم سے ایک سو سے زائد کتب، رسائل اور تحقیقی کام سامنے آئے، جن میں عقیدہ و توحید، حدیث، فقہ، عبادات، دعوت، تربیت، اخلاق، اذکار، سیرت اور معاشرتی اصلاح جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ عام مسلمان کی دینی ضرورت کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا۔
نام و نسب:
ان کا مکمل نام سعید بن علی بن وہف بن محمد القحطانی تھا۔ ان کا تعلق قحطان کے معروف قبائلی خاندان سے تھا اور ان کا آبائی علاقہ وادی العرین، مشرقی ابہا، علاقہ عسیر تھا۔
بادیہ میں ولادت اور ابتدائی زندگی:
شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ 25 شوال 1372ھ کو عسیر کے علاقے میں وادی العرین کے بادیہ میں پیدا ہوئے۔
ان کی ولادت کا واقعہ بھی ان کے ابتدائی دیہی ماحول کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ ان کی والدہ بکریاں چرا رہی تھیں کہ شدید گرمی کے موسم میں انہیں دردِ زہ شروع ہوگیا۔ وہ ایک درخت کے سائے میں گئیں اور وہیں ان کی ولادت ہوئی۔ بعد میں خیمہ گاہ پہنچنے پر ان کی دادی نے بچے کی دیکھ بھال سنبھالی۔شیخ رحمہ اللہ کا بچپن اسی بادیہ میں گزرا۔ وہ دوسرے بچوں کی طرح بکریاں چراتے تھے، اسی وجہ سے ان کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز نسبتاً دیر سے ہوا۔ تاہم شوقِ علم اور محنت نے اس تاخیر کو ان کے لیے رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
پندرہ سال کی عمر میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز:
شیخ سعید رحمہ اللہ نے تقریباً پندرہ سال کی عمر میں باقاعدہ اسکولی تعلیم شروع کی۔ 1387ھ میں وادی العرین کے ابتدائی مدرسے میں پہلی جماعت میں داخلہ لیا۔
عمر کے اعتبار سے وہ اپنے ہم جماعتوں سے بڑے تھے، لیکن محنت اور حصولِ علم کے شوق کی وجہ سے جلد ہی نمایاں ہوگئے۔ ان کی ابتدائی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کے لیے عمر کی کوئی خاص حد مانع نہیں، اصل چیز ارادہ، محنت اور مسلسل جدوجہد ہے۔
فوجی خدمت کے ساتھ تعلیمی سفر:
تعلیم کے تیسرے درجے کے بعد 1390ھ میں انہوں نے فوجی خدمت اختیار کی۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور رات کے اسکولوں میں پڑھتے رہے۔
– 1394ھ: ابتدائی تعلیم مکمل کی۔
– 1397ھ: متوسطہ کی سند حاصل کی۔
– 1400ھ: ریاض کے کنگ عبدالعزیز نائٹ ہائی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔
فوجی ذمہ داریوں کے ساتھ رات میں تعلیم حاصل کرنا آسان کام نہ تھا، لیکن شیخ رحمہ اللہ نے اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیا۔
فوجی خدمات:
شیخ رحمہ اللہ نے فوج میں مختلف تربیتی مراحل مکمل کیے۔ بکتر بند گاڑیوں، ٹرانسپورٹ اور فرانسیسی ٹینکوں سے متعلق تربیتی کورسز کیے اور مختلف فوجی ذمہ داریاں انجام دیں۔
1404ھ میں انہیں سعودی حکومت کی طرف سے دوسری درجے کا فوجی تمغۂ تقدیر بھی عطا کیا گیا۔ بعد ازاں وہ سعودی مسلح افواج کے شعبۂ امورِ دینیہ میں رئیس رقباء کاتب کے منصب تک پہنچے۔تقریباً چودہ سال فوجی خدمت کے بعد انہوں نے دعوت و ارشاد اور علمی خدمت کے میدان میں زیادہ وقت صرف کیا۔
جامعہ محمد بن سعود اسلامی سے علمی وابستگی:
فوجی ملازمت کے ساتھ تعلیم جاری رکھتے ہوئے شیخ سعید رحمہ اللہ نے اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے جامعہ امام محمد بن سعود اسلامی، ریاض میں داخلہ لیا۔ 1401ھ میں کلیۃ اصول الدین میں داخل ہوئے اور 1404ھ میں بی اے مکمل کیا۔
بعد ازاں 1405ھ میں کلیۃ الدعوۃ کے قسم الدعوۃ والاحتساب میں ماسٹرز کی تمہیدی تعلیم حاصل کی اور 1412ھ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ:
’’الحكمة في الدعوة إلى الله‘‘
کے عنوان سے تھا، جس پر انہیں ممتاز مع مرتبة الشرف الأولى کا اعزاز حاصل ہوا۔
اس کے بعد قرآن مجید کے حفظ کی تکمیل کے لیے تقریباً دو سال کا تعلیمی وقفہ کیا۔ پھر ڈاکٹریٹ میں داخل ہوئے اور 1419ھ میں ممتاز مع مرتبة الشرف الأولى کے ساتھ ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
ان کے ڈاکٹریٹ کا موضوع تھا:
’’فقه الدعوة في صحيح الإمام البخاري‘‘
یہ تحقیقی کام بعد میں دو جلدوں میں، تقریباً 1289 صفحات پر مشتمل، کتابی شکل میں شائع ہوا۔
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے بیس سالہ علمی تعلق:
شیخ سعید القحطانی رحمہ اللہ کی علمی زندگی میں شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ سے ان کا تعلق خاص اہمیت رکھتا ہے۔وہ 1400ھ سے 1420ھ تک تقریباً بیس سال شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی علمی مجالس میں حاضر ہوتے رہے۔ ان مجالس میں مختلف علوم و فنون کی متعدد کتابیں پڑھائی جاتی تھیں، جن میں کتبِ ستہ، مسند امام احمد، موطأ امام مالک، سنن دارمی، شرح السنۃ للبغوی، تفسیر ابن کثیر، تفسیر بغوی، نخبة الفكر، الفیۃ عراقی، کتبِ توحید، العقیدۃ الواسطیۃ، العقیدۃ الحمویۃ، العقیدۃ الطحاویۃ، بلوغ المرام، منتقى الأخبار، عمدة الأحکام، الروض المربع اور زاد المعاد وغیرہ شامل تھیں۔وہ بعض دروس میں چھوٹا سا ریکارڈر بھی ساتھ رکھتے تھے تاکہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی گفتگو اور علمی فوائد محفوظ کیے جاسکیں۔شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے ساتھ یہ طویل تعلق ان کی علمی زندگی میں بہت مفید ثابت ہوا۔ بعد کی ان کی متعدد تصانیف میں بھی شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے فتاویٰ، تحقیقات اور علمی فوائد سے استفادہ نظر آتا ہے۔
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے استفادہ:
شیخ سعید رحمہ اللہ نے شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کی علمی مجالس سے بھی استفادہ کیا۔ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے ان کی بعض تصانیف پر تقاریظ بھی لکھیں، جن میں ’’الاختلاط بين الرجال والنساء‘‘ اور ’’إظهار الحق والصواب في حكم الحجاب‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔
دعوت و ارشاد کی عملی زندگی:
تقریباً چودہ سال فوجی خدمت کے بعد شیخ رحمہ اللہ نے اپنی درخواست پر دعوت و ارشاد کے میدان میں باقاعدہ کام شروع کیا۔ وہ الرئاسة العامة لإدارات البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد سے وابستہ ہوئے اور داعی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔بعد میں اسلامی امور کے ماہر اور پھر وزارتِ اسلامی امور میں دعوتی مشیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1432ھ میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وزارت کے ساتھ معاہدے کے تحت وفات تک دعوتی خدمات انجام دیتے رہے۔انہوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں دعوتی ذمہ داریاں انجام دیں اور بیرونِ ملک بھی متعدد ممالک کا سفر کیا۔ حج کے ایام میں حرمِ مکی اور مشاعرِ مقدسہ میں دعوتی خدمات انجام دیں، جبکہ خطباء اور دعاۃ کی تربیت و امتحان سے متعلق کمیٹیوں میں بھی کام کیا۔
امامت و خطابت:
شیخ سعید رحمہ اللہ طویل عرصے تک امامت و خطابت سے بھی وابستہ رہے۔ 1402ھ سے ریاض میں جامع الفاروق، اسکان افراد القوات المسلحة کے امام و خطیب مقرر ہوئے۔
ان کے دروس اور خطابات میں قرآن و سنت، عقیدہ، عبادات، اخلاق اور اصلاحی موضوعات نمایاں رہتے تھے۔
تصنیفی و علمی خدمات:
شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ تصنیف و تالیف میں گزرا۔ ان کی کتب و رسائل کی تعداد کے بارے میں مختلف فہرستوں میں مختلف اعداد ملتے ہیں، تاہم ان کی تصانیف ایک سو سے زیادہ ہیں۔ ان کے علمی کاموں میں مختصر رسائل بھی شامل ہیں اور متعدد جلدوں پر مشتمل تحقیقی کتابیں بھی۔ عقیدہ و توحید، عبادات، دعوت، تربیت، اخلاق، سیرت اور اصلاحِ معاشرہ ان کے اہم موضوعات رہے۔
عقیدہ و توحید:
عقیدہ اور توحید کے موضوع پر ان کی نمایاں تصانیف میں:
1۔ عقيدة المسلم في ضوء الكتاب والسنة
2۔ نور التوحيد وظلمات الشرك في ضوء الكتاب والسنة
3۔ نور الإيمان وظلمات النفاق في ضوء الكتاب والسنة
4۔ نور السنة وظلمات البدعة في ضوء الكتاب والسنة
5۔ نور التقوى وظلمات المعاصي في ضوء الكتاب والسنة
6۔ نور الإخلاص وظلمات إرادة الدنيا بعمل الآخرة
7۔ نور الإسلام وظلمات الكفر
8۔ العروة الوثقى في ضوء الكتاب والسنة
9۔ شرح العقيدة الواسطية
10۔ شرح أسماء الله الحسنى في ضوء الكتاب والسنة
11۔ الثمر المجتنى مختصر شرح أسماء الله الحسنى
12۔ مسألة التكفير بين أهل السنة والفرق الضالة
13۔ الاعتصام بالكتاب والسنة أصل السعادة في الدنيا والآخرة
ان کتابوں میں عقائدِ اسلامیہ کو قرآن و سنت اور آثارِ سلف کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے اور مختلف اعتقادی انحرافات کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔
طہارت، نماز اور عبادات:
طہارت اور نماز کے موضوع پر شیخ رحمہ اللہ نے متعدد مستقل رسائل اور کتب تحریر کیے:
14۔ طهور المسلم في ضوء الكتاب والسنة
15۔ صلاة المؤمن في ضوء الكتاب والسنة
16۔ أركان الصلاة وواجباتها وسننها ومكروهاتها
17۔ صلاة الجماعة
18۔ صلاة الجمعة
19۔ صلاة المسافر
20۔ صلاة المريض
21۔ صلاة التطوع
22۔ صلاة العيدين
23۔ صلاة الكسوف
24۔ صلاة الاستسقاء
25۔ سجود السهو
26۔ الخشوع في الصلاة في ضوء الكتاب والسنة
27۔ الإمامة في الصلاة
28۔ الأذان والإقامة في ضوء الكتاب والسنة
ان تحریروں میں نماز کی اہمیت، جماعت، خشوع اور مختلف حالات میں نماز سے متعلق مسائل بیان کیے گئے ہیں۔
زکوٰۃ، روزہ اور حج:
اسلام کی مالی اور بدنی عبادات سے متعلق بھی ان کی متعدد تصانیف ہیں:
29۔ الزكاة في الإسلام في ضوء الكتاب والسنة
30۔ زكاة الفطر في ضوء الكتاب والسنة
31۔ زكاة الأثمان
32۔ زكاة الخارج من الأرض
33۔ زكاة بهيمة الأنعام السائمة
34۔ زكاة عروض التجارة والأسهم والسندات
35۔ الصيام في الإسلام في ضوء الكتاب والسنة
36۔ مناسك الحج والعمرة في الإسلام في ضوء الكتاب والسنة
37۔ العمرة والحج والزيارة في ضوء الكتاب والسنة
38۔ مرشد المعتمر والحاج والزائر
39۔ رمي الجمرات في ضوء الكتاب والسنة وآثار الصحابة
ارکانِ اسلام پر جامع تصنیفی کام:
اسلام کے بنیادی ارکان سے متعلق ان کا ایک اہم مجموعہ ’’أركان الإسلام في ضوء الكتاب والسنة‘‘ ہے۔ اس میں نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج جیسے بنیادی موضوعات پر ان کے تفصیلی علمی کام شامل کیے گئے ہیں۔یہ مجموعہ ان کے اس تصنیفی انداز کی مثال ہے جس میں بنیادی دینی مسائل کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ مرتب کرکے عام مسلمانوں کے لیے پیش کیا گیا۔
دعوت و ارشاد:
دعوت کا موضوع ان کی علمی زندگی میں ابتدا ہی سے اہم رہا۔ ان کی اعلیٰ تعلیم کے دونوں اہم تحقیقی کام بھی اسی میدان سے تعلق رکھتے ہیں۔ماسٹرز کا مقالہ:
’’الحكمة في الدعوة إلى الله‘‘
اور ڈاکٹریٹ کا تحقیقی کام:
’’فقه الدعوة في صحيح الإمام البخاري‘‘
اسی سلسلے کی اہم مثالیں ہیں۔
40۔ الحكمة في الدعوة إلى الله
41۔ فقه الدعوة في صحيح الإمام البخاري
42۔ مقومات الداعية الناجح في ضوء الكتاب والسنة
43۔ كيفية دعوة الملحدين إلى الله تعالى في ضوء الكتاب والسنة
44۔ كيفية دعوة الوثنيين إلى الله تعالى
45۔ كيفية دعوة أهل الكتاب إلى الله تعالى في ضوء الكتاب والسنة
46۔ كيفية دعوة عصاة المسلمين إلى الله تعالى
47۔ العلاقة المثلى بين العلماء والدعاة
سیرتِ نبوی اور شمائل:
شیخ رحمہ اللہ نے سیرتِ رسول اللہ ﷺ، آپ ﷺ کے اخلاق، عبادت، معجزات اور دعوتی اسلوب سے متعلق بھی مختلف علمی کام کیے:
48۔ رحمة للعالمين: محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم
49۔ مواقف النبي صلى الله عليه وسلم في الدعوة إلى الله تعالى
50۔ من معجزات النبي صلى الله عليه وسلم وآياته التي تدل على أنه رسول الله حقاً
ان کتابوں میں سیرتِ نبوی کو دعوت، اخلاق اور عملی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
فقہی اور معاشرتی مسائل:
شیخ رحمہ اللہ نے مختلف فقہی اور معاشرتی مسائل پر بھی متعدد رسائل تحریر کیے:
51۔ من أحكام سورة المائدة
52۔ الربا: أضراره وآثاره في ضوء الكتاب والسنة
53۔ أحكام الجنائز: مفهوم واغتنام ومواعظ وآداب
54۔ الاختلاط بين الرجال والنساء
55۔ إظهار الحق والصواب في حكم الحجاب
56۔ الجهاد في سبيل الله: فضله ومراتبه وأسباب النصر
57۔ المفاهيم الصحيحة للجهاد في سبيل الله في ضوء الكتاب والسنة
58۔ مجموع الخطب المنبرية
ان تحریروں میں معاشرتی مسائل، عبادات اور معاملات سے متعلق مختلف موضوعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں گفتگو کی گئی ہے۔
تربیت، اخلاق اور اصلاحِ معاشرہ:
شیخ رحمہ اللہ کی تصانیف میں تربیت اور اخلاق کا پہلو بھی نمایاں ہے:
59۔ الهدي النبوي في تربية الأولاد في ضوء الكتاب والسنة
60۔ الأخلاق في الإسلام
61۔ الخلق الحسن في ضوء الكتاب والسنة
62۔ آفات اللسان في ضوء الكتاب والسنة
63۔ مكفرات الذنوب والخطايا وأسباب المغفرة
64۔ سلامة الصدر
65۔ بر الوالدين: مفهوم وفضائل وآداب وأحكام في ضوء الكتاب والسنة
66۔ صلة الأرحام: مفهوم وفضائل وآداب وأحكام في ضوء الكتاب والسنة
ان کتابوں میں فرد کی اصلاح کے ساتھ والدین، خاندان اور معاشرے سے متعلق اسلامی تعلیمات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔
’’حِصْنُ الْمُسْلِم‘‘ ایک مختصر کتاب، ایک وسیع اثر:
شیخ سعید القحطانی رحمہ اللہ کی سب سے معروف تصنیف ’’حِصْنُ الْمُسْلِمِ مِنْ أَذْكَارِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘ ہے۔ اس میں روزمرہ زندگی کے مختلف مواقع پر پڑھے جانے والے مسنون اذکار و دعائیں جمع کی گئی ہیں۔ صبح و شام کے اذکار، نماز، نیند، سفر اور دیگر مواقع سے متعلق دعائیں اس میں شامل ہیں۔کتاب کا مختصر حجم، آسان ترتیب اور عملی افادیت اس کی مقبولیت کا اہم سبب بنی۔ عرب دنیا سے نکل کر یہ کتاب متعدد زبانوں میں پہنچی اور دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کے درمیان عام ہوئی۔شیخ رحمہ اللہ نے بعد میں ’’حصن المسلم‘‘ کی تفصیلی شرح بھی لکھی:
67۔ إتحاف المسلم بشرح حصن المسلم من أذكار الكتاب والسنة
اس کے علاوہ ذکر و دعا سے متعلق ان کی دیگر تصانیف میں:
68۔ الدعاء من الكتاب والسنة
69۔ شروط الدعاء وموانع الإجابة
70۔ العلاج بالرُّقى من الكتاب والسنة
قرآن مجید سے تعلق:
شیخ رحمہ اللہ نے اعلیٰ تعلیم کے دوران قرآن مجید کے حفظ کی تکمیل کے لیے تقریباً دو سال کا تعلیمی وقفہ کیا۔ قرآن مجید سے ان کا تعلق ان کی علمی زندگی میں بھی نمایاں رہا۔
اس موضوع پر ان کی نمایاں تصنیف:
71۔ عظمة القرآن الكريم وتعظيمه وأثره في النفوس في ضوء الكتاب والسنة
والدین سے حسنِ سلوک اور گھریلو تربیت:
شیخ رحمہ اللہ کی زندگی میں والدین سے حسنِ سلوک کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ ان کی والدہ کے ساتھ تعلق، ان کی خدمت اور ان کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا اور دیگر نیکیوں کا ذکر ان کی سوانح میں ملتا ہے۔
انہوں نے اپنی والدہ کی یادوں اور سیرت پر:
72۔ مواقف لا تُنسى من سيرة والدتي رحمها الله تعالى
کے عنوان سے مستقل کتاب لکھی، جس میں ان کی والدہ کی زندگی، عبادت، اخلاق اور تربیت سے متعلق مختلف واقعات قلم بند کیے۔اپنے دو صاحبزادوں عبدالرحمن اور عبدالرحیم کی وفات کے بعد انہوں نے صبر و احتساب اور صدمۂ وفات کے موضوع پر:
73۔ تبريد حرارة المصيبة عند موت الأحباب وفلذات الأكباد في ضوء الكتاب والسنة
کے نام سے کتاب لکھی۔ اس طرح ذاتی غم کو بھی ایک علمی اور تربیتی موضوع کے طور پر پیش کیا۔
عبادت، زہد اور اخلاص:
شیخ سعید رحمہ اللہ عبادت، ذکر اور وقت کی قدر و قیمت کو خاص اہمیت دیتے تھے۔ نماز باجماعت کی پابندی، صبح و شام کے اذکار اور نفلی عبادات کا اہتمام ان کی زندگی کا حصہ تھا۔ پیر و جمعرات، ایامِ بیض، محرم اور شعبان کے نفلی روزے بھی رکھتے تھے۔وہ اپنے وقت کو حتی الامکان مفید کاموں میں صرف کرنے کی کوشش کرتے۔ گھر ہو یا مسجد، دفتر ہو یا سفر، فارغ وقت کو بے مقصد گزارنے کے بجائے کسی نافع کام میں لگانے کا اہتمام کرتے تھے۔صدقہ و خیرات، فقراء سے محبت، تواضع اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی ان کے نمایاں اوصاف میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے اخلاص کا ایک پہلو یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ابتدا میں وہ ’’حصن المسلم‘‘ پر اپنا نام نمایاں کروانا پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک اصل مقصد کتاب کے ذریعے مسلمانوں کا فائدہ تھا۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے علمی تراث کی خدمت:
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے اپنے طویل علمی تعلق کے باعث شیخ سعید رحمہ اللہ نے ان کے علمی تراث کی تدوین و اشاعت میں بھی حصہ لیا۔
اس سلسلے میں:
74۔ الإفهام في شرح عمدة الأحكام
خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے ’’عمدة الأحكام‘‘ سے متعلق دروس کی علمی تدوین ہے، جس میں اس علمی مواد کو مرتب کرکے کتابی شکل دی گئی۔
اسی علمی تعلق سے متعلق ایک اور اہم کام:
75۔ سؤالات ابن وهب لشيخ الإسلام عبد العزيز بن باز
جس سے شیخ سعید رحمہ اللہ کے شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے طویل علمی تعلق اور استفادے کا اندازہ ہوتا ہے۔
آخری بیماری اور صبر:
زندگی کے آخری مرحلے میں شیخ سعید رحمہ اللہ شدید بیماری میں مبتلا ہوئے۔ بیماری کے بڑھنے کے باوجود انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر صبر کیا۔جب انہیں معلوم ہوا کہ بیماری لبلبہ سے جگر تک پہنچ چکی ہے اور جراحی کے امکانات محدود ہیں تو انہوں نے ’’إنا لله وإنا إليه راجعون‘‘ پڑھا اور اللہ تعالیٰ سے اجر اور بہتر بدلے کی دعا کی۔ آخری ایام میں بھی ذکرِ الٰہی ان کی زبان پر جاری رہا۔
وفات:
شیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ 21 محرم 1440ھ، مطابق 1 اکتوبر 2018ء، بروز پیر فجر کے وقت وفات پاگئے۔ان کی نمازِ جنازہ جامع الراجحی، ریاض میں ادا کی گئی، جس کی امامت معروف عالم شیخ صالح بن محمد اللحیدان رحمہ اللہ نے کی بعد ازاں انہیں مقبرۂ النسیم، ریاض میں ان کی والدہ اور ان کے دونوں مرحوم بیٹوں عبدالرحمن اور عبدالرحیم کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔
وصیت:
شیخ رحمہ اللہ نے وفات سے قبل ایک تحریری وصیت بھی چھوڑی۔ اس میں انہوں نے اپنی اولاد، ازواج، بہن بھائیوں اور خاندان کے افراد کو تقویٰ، اللہ کی عبادت، ارکانِ اسلام کی پابندی، ایمان، قرآن مجید کی تلاوت و تدبر، والدین سے حسنِ سلوک، صلۂ رحمی، پڑوسیوں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک، سچائی، امانت، وعدے کی پاسداری، عدل، صدقہ اور نیکی کی وصیت کی۔ یہ وصیت ان کی زندگی کے دینی مزاج کی بھی عکاس ہے: اللہ سے تعلق، عبادت، قرآن سے وابستگی، اہلِ خانہ کی اصلاح اور مخلوق کے ساتھ خیر خواہی۔
علمی و دعوتی میراث:
شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ نے اپنی زندگی علم، دعوت اور تصنیف میں گزاری۔ عسیر کے بادیہ سے شروع ہونے والا ان کا سفر تعلیم، فوجی خدمت، جامعہ کی علمی زندگی، شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی مجالس اور پھر دعوت و تصنیف کے میدانوں سے گزرتا ہوا آخری وقت تک جاری رہا۔ان کی تصانیف میں عقیدہ، عبادات، دعوت، سیرت، اخلاق، تربیت اور اذکار سمیت مختلف دینی موضوعات شامل ہیں۔ ’’حصن المسلم‘‘ ان کی سب سے معروف کتاب ضرور ہے، لیکن ان کی علمی خدمات کا دائرہ اس سے کہیں وسیع تھا۔
اللہ تعالیٰ شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ان کی نافع تصانیف کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




