سوال 7701
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر وتر رات کو رہ جائیں تو اگلے دن جب ان کی قضا دیں گے تو جفت ادا کرنے ہیں یا طاق؟ کیونکہ وتر رات کو طاق تھے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
وتر قضا ہو جائیں تو اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: سورج طلوع ہونے کے بعد آپ اپنے معمول کے مطابق وتر کی وہی تعداد قضا کر لیں جو آپ پڑھتے ہیں، یعنی ایک، تین، پانچ یا جتنے بھی ہوں۔
دوسری صورت: اگر آپ جفت رکعتوں میں قضا کرنا چاہیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد زوال سے پہلے تک دن کے وقت بارہ رکعت پڑھنا بھی ثابت ہے۔ اسے دن کا تہجد کہا جا سکتا ہے۔ لہٰذا آپ جفت رکعتوں کی صورت میں بھی قضا دے سکتے ہیں، یعنی دو دو رکعت کرکے بارہ رکعت تک پڑھ لیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




