شیخ الحدیث حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کا مختصر تعارف
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ ان اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی قرآن مجید، حدیثِ رسول ﷺ، تدریس، خطابت، دعوت، مطالعہ، تصنیف اور تحقیق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ ایک صاحبِ علم مدرس، مؤثر خطیب، وسیع المطالعہ محقق اور کتاب و سنت کے داعی تھے۔ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ درس گاہ میں وہ ایک شفیق استاد، مسجد کے منبر پر ایک مخلص واعظ اور کتب و مطالعہ کے میدان میں ایک سنجیدہ طالبِ علم کی حیثیت سے زندگی گزارتے رہے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ تدریس اور دعوت میں گزرا، تاہم تصنیف و تحقیق سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا۔ ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد نے ان سے استفادہ کیا، ان کا وسیع کتب خانہ بعد میں محفوظ کیا گیا اور ان کی متعدد علمی تحریریں اور تصانیف آج بھی ان کے علمی ذوق اور تحقیقی مزاج کی گواہی دیتی ہیں۔
نام و نسب اور خاندانی پس منظر:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کا مکمل نام عبدالحمید ازہر بن حکیم فیض محمد بن حکیم مولا بخش تھا۔
ان کے والد حکیم فیض محمد کا نام مولانا فیض محمد بھوجیانی رحمہ اللہ کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔ ان کے دادا حکیم مولا بخش رحمہ اللہ کا تعلق گاؤں سرسنگھ سے تھا۔ وہ اپنے علاقے میں نیک نام اور معزز شخصیت سمجھے جاتے تھے اور امرتسر کے گاؤں بھوجیاں کے اہلِ علم سے خاص تعلق اور عقیدت رکھتے تھے۔ یہی علمی و روحانی تعلق بعد کی نسلوں میں بھی قائم رہا۔
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کو خصوصاً مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ سے خصوصی عقیدت اور تعلق تھا۔ وہ ان سے ملاقات کے لیے لاہور تشریف لے جاتے اور ان کا ذکر نہایت احترام سے کرتے تھے۔تقسیمِ ہند کے زمانے میں خاندان نے ہجرت کی اور قصور کے علاقے کوٹ اعظم خان میں سکونت اختیار کی، جہاں بعد میں حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی۔
ان کا ننھیال تقسیمِ ہند سے پہلے ضلع لاہور کے ایک گاؤں ملہیئر میں آباد تھا۔ سکھوں کی شرانگیزیوں کے باعث خاندان کو وہاں سے منتقل ہونا پڑا اور وہ پٹی کی طرف آکر آباد ہوئے، لیکن تقسیم کے بعد یہ علاقہ ہندوستان میں شامل ہوگیا۔ چنانچہ خاندان نے ہجرت کرکے قصور کے علاقے میں سکونت اختیار کی۔
پیدائش:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ 10 دسمبر 1948ء کو قصور کے علاقے کوٹ اعظم خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زمانۂ تعلیم ہی سے ان کا قرآن مجید کی تعلیم سے تعلق قائم ہوگیا، جو آگے چل کر ان کی علمی اور دعوتی زندگی کا نمایاں حصہ بن گیا۔
ابتدائی عصری تعلیم:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم مقامی گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ہی ان کا قرآن مجید سے تعلق قائم ہوگیا اور ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کے بعد انہوں نے حفظِ قرآن کی طرف توجہ کی۔
انہوں نے 1965ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اسی زمانے میں ان کی زندگی نے ایک اہم رخ اختیار کیا اور عصری تعلیم کے بعد انہوں نے باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
حفظِ قرآن اور تعلیمِ تجوید:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے قصور کی جامع مسجد فریدیہ میں معروف قاری نور احمد کھرل رحمہ اللہ سے حفظِ قرآن کا آغاز کیا۔ قاری نور احمد کھرل رحمہ اللہ، قاری اظہار احمد تھانوی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے ان سے قرآن مجید حفظ کرنے کے ساتھ تجوید کی تعلیم بھی حاصل کی۔ قرآن مجید سے یہ ابتدائی وابستگی بعد کی پوری زندگی میں ان کی تدریس، خطابت اور دعوتی سرگرمیوں میں نمایاں رہی۔
دارالحدیث چینیانوالی مسجد، لاہور:
میٹرک کے بعد حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کے آئندہ تعلیمی سفر میں مولانا محمد اسحاق گوہڑوی رحمہ اللہ کا مشورہ اہم ثابت ہوا۔ ان کے ماموں مولانا عبدالعظیم انصاری رحمہ اللہ انہیں لاہور لے آئے اور جولائی 1965ء میں دارالحدیث چینیانوالی مسجد میں داخل کرا دیا۔اس وقت وہاں مولانا محمد اسحاق رحمانی رحمہ اللہ صدر مدرس تھے اور مولانا عبدالعزیز نائب مدرس تھے۔ بعد میں مولانا عبدالخالق قدوسی رحمہ اللہ بھی وہاں بطور نائب مدرس مقرر ہوئے۔
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے مولانا محمد اسحاق رحمانی رحمہ اللہ سے صرف و نحو کی بعض کتابیں، ترجمہ قرآن اور بلوغ المرام پڑھا، جبکہ مولانا عبدالخالق قدوسی رحمہ اللہ سے مشکوٰۃ شریف اور عربی ادب کی ابتدائی کتابوں سے استفادہ کیا۔ ان کے بعض ہم سبق طلبہ میں مولانا محمود احمد بن حافظ عبدالغفور مریدکے اور مولانا محمد عثمان بھی شامل تھے۔
جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ:
چینیانوالی مسجد کے مدرسے میں بعض انتظامی و تعلیمی حالات پیدا ہوئے تو حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ منتقل ہوگئے۔ یہاں انہیں متعدد جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔انہوں نے مولانا عبدالحمید ہزاروی رحمہ اللہ سے سنن نسائی، مولانا جمعہ خاں رحمہ اللہ سے نور الانوار اور مولانا بشیر الرحمن رحمہ اللہ سے دیوان حماسہ وغیرہ پڑھیں۔ اس دوران حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ سے بھی استفادہ کیا۔جامعہ محمدیہ کے زمانۂ تعلیم میں ان کا علمی ذوق مزید پختہ ہوا اور انہیں مختلف علوم و فنون کے مطالعے اور استفادے کا موقع ملا۔
جامعہ سلفیہ، فیصل آباد:
بعد ازاں حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخل ہوگئے۔ یہاں ان کی ملاقات اور رفاقت متعدد علمی شخصیات سے ہوئی، جن میں حافظ مسعود عالم رحمہ اللہ بھی شامل تھے۔جامعہ سلفیہ میں انہوں نے:
– مولانا ثناء اللہ ہوشیارپوری رحمہ اللہ سے سنن ابی داود، موطأ امام مالک اور حجۃ اللہ البالغۃ پڑھی۔
– مولانا علی محمد سلفی رحمہ اللہ سے جامع ترمذی اور دیوان متنبی پڑھا۔
– حافظ عبداللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ سے صحیح بخاری پڑھی۔
– ڈاکٹر محمد امان الجامی رحمہ اللہ اور شیخ علی مشرف العمری رحمہ اللہ سے بھی استفادہ کیا، جو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی طرف سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔جامعہ سلفیہ میں ان کے ہم سبق طلبہ میں حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ اور ڈاکٹر شمس الدین نورستانی سمیت بعض دیگر اہلِ علم شامل تھے۔
جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ میں داخلہ:
1972ء میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے الحاق ہوا۔ پہلے مرحلے میں دو طلبہ کے داخلے کی منظوری ہوئی۔ سالانہ امتحان میں حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ پہلے اور حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ دوسرے نمبر پر رہے۔ اسی نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر دونوں کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ملا۔ یہ ان کی علمی زندگی کا اہم مرحلہ تھا، جہاں انہیں حرمِ نبوی ﷺ کے شہر میں عرب دنیا کے جلیل القدر علماء سے استفادہ کا موقع ملا۔
جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ میں اعلیٰ تعلیم:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے 1972ء سے 1977ء تک جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کی اور 1977ء میں لیسانس (بی اے آنرز) کی سند حاصل کی۔ ان کی تعلیمی زندگی کا یہ مرحلہ علمی شخصیت کی تشکیل میں نہایت اہم ثابت ہوا۔مدینہ منورہ میں انہیں متعدد جلیل القدر اہلِ علم سے استفادہ کا موقع ملا، جن میں:
1. شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ
2. شیخ محمد امین الشنقیطی رحمہ اللہ
3. شیخ حماد الانصاری رحمہ اللہ
4. شیخ تقی الدین ہلالی رحمہ اللہ
5. مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ
6. شیخ ابوبکر جابر الجزائری رحمہ اللہ
7. شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ
8. شیخ عبدالرؤف اللبدی رحمہ اللہ
9. شیخ مختار شنقیطی رحمہ اللہ
مدینہ منورہ کے قیام کے دوران علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ سے بھی ملاقات اور علمی استفادے کا موقع ملا۔ وہ جامعہ اسلامیہ کی مجلسِ مشاورت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے وہاں تشریف لاتے تھے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے اصولِ فقہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی داخلہ لیا، تاہم یہ سلسلہ مکمل نہ ہوسکا۔
وطن واپسی اور تدریسی زندگی:
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ پاکستان واپس آئے۔ ان کی تدریسی زندگی کا نمایاں حصہ ایک ہی علمی سلسلے سے وابستہ رہا اور انہوں نے اپنی صلاحیتیں طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کردیں۔
مدرسہ تدریس القرآن والحدیث، راولپنڈی:
1980ء سے 1989ء تک حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے راولپنڈی کے مدرسہ تدریس القرآن والحدیث میں بطور استادِ مبعوث تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہاں انہوں نے مختلف علومِ دینیہ کی تدریس کے ساتھ طلبہ کی علمی تربیت بھی کی۔اس دور میں ان سے متعدد اہلِ علم نے استفادہ کیا، جن میں ڈاکٹر عبدالغفار بخاری، مولانا محمد یونس عاصم رحمہ اللہ، مولانا محمد رفیق اختر کاشمیری، مولانا عصمت اللہ، مولانا عبدالوحید اور دیگر اہلِ علم شامل ہیں۔
جامعہ سلفیہ اسلام آباد میں تدریسی خدمات:
بعد ازاں مدرسہ تدریس القرآن والحدیث جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے ساتھ منسلک ہوگیا تو حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی تدریسی خدمات کا سلسلہ بھی جامعہ سلفیہ اسلام آباد میں جاری رہا۔ان کی زندگی کے آخری برس اسی ادارے میں تدریس اور علمی تربیت میں گزرے۔ وہ شیخ الحدیث کی حیثیت سے خصوصاً صحیح بخاری پڑھاتے رہے اور اپنی زندگی کے آخری دور تک تدریس سے وابستہ رہے۔ان کا اندازِ تدریس تحقیقی، مدلل اور کتاب و سنت پر مبنی تھا۔ وہ محض کتاب پڑھانے کے بجائے طلبہ میں مطالعہ، تحقیق اور علمی ذوق پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
شعبہ تخصص کی سربراہی:
2013ء میں جامعہ سلفیہ اسلام آباد میں شعبۂ تخصص قائم کیا گیا تو حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کو اس کا رئیس مقرر کیا گیا۔وفات تک وہ اس ذمہ داری سے وابستہ رہے۔ اس مرحلے میں ان کی تدریسی زندگی نے تخصص، تحقیق اور علمی رہنمائی کا ایک نیا رخ اختیار کیا۔
تلامذہ اور علمی فیض:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ سے ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد طلبہ اور اہلِ علم نے استفادہ کیا۔ ان کے شاگردوں میں کئی ایسے اہلِ علم بھی شامل ہیں جو بعد میں تدریس، تحقیق، تصنیف اور دعوت کے میدان میں نمایاں ہوئے۔
ان کے معروف تلامذہ میں:
1. محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
2. ڈاکٹر عبدالغفار بخاری رحمہ اللہ
3. مولانا محمد یونس عاصم رحمہ اللہ
4. مولانا محمد رفیق اختر کاشمیری حفظہ اللہ
5. مولانا عصمت اللہ حفظہ اللہ
6. مولانا عبدالوحید حفظہ اللہ
7. مولانا حفیظ الرحمن حفظہ اللہ
8. حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے خصوصی علمی تعلق:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ اور محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے درمیان استاد و شاگرد کا تعلق ایک مضبوط علمی رشتے کی صورت اختیار کرگیا تھا۔ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ انہیں اپنا استاد مانتے تھے اور اہم علمی معاملات میں ان سے رجوع کرتے تھے۔ان کی متعدد علمی کاوشوں میں حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی تقدیم، تقریظ اور علمی رہنمائی بھی ملتی ہے۔ ان کی بعض کتب میں حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی تقدیم یا تقریظ موجود ہے۔یہ تعلق محض رسمی استاد و شاگرد کا نہ تھا، بلکہ دونوں کے درمیان علمی اعتماد اور محبت کا گہرا تعلق تھا۔ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ اپنے شاگرد کی علمی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ بھی علمی مسائل میں ان سے استفادہ کرتے تھے۔
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی وفات 10 نومبر 2013ء کو ہوئی۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے میں حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے پڑھائی۔
خطابت اور دعوتی خدمات:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ تدریس کے ساتھ ایک مؤثر خطیب بھی تھے۔ 1981ء سے جامع مسجد محمدی، ایمن آباد، اصغر مال روڈ، راولپنڈی میں خطابت کی ذمہ داری انجام دیتے رہے۔ان کے خطبات میں قرآن مجید کی آیات، احادیثِ نبویہ ﷺ اور سلف صالحین کے اقوال و واقعات بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ غیر ضروری قصوں، لطیفوں اور بے مقصد گفتگو سے ان کا خطبہ پاک ہوتا تھا۔ ان کی خطابت سے لوگوں کی گہری وابستگی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جمعہ کے خطبے کے لیے دور دراز علاقوں سے بھی لوگ آتے تھے اور خطبہ شروع ہونے سے پہلے مسجد کا ہال تقریباً بھر جاتا تھا۔وہ عموماً خطبے کے آغاز میں تقویٰ کی نصیحت کرتے اور دورانِ خطبہ ایک انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ رمضان المبارک میں ان کے خصوصی خطبات ہوتے، جو عموماً ارکانِ اسلام جیسے اہم موضوعات کے گرد ہوتے تھے۔
وہ نمازِ عشاء کے بعد قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر بیان کرتے، جبکہ رمضان میں نمازِ فجر کے بعد ایک سورت منتخب کرکے پورے ماہ اس کی تفسیر بیان کرتے تھے۔
مولانا اسماعیل ذبیح رحمہ اللہ سے تعلق اور مصاہرت:
مدرسہ تدریس القرآن والحدیث راولپنڈی میں تدریس کے دوران حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کا معروف عالمِ دین مولانا محمد اسماعیل ذبیح رحمہ اللہ سے تعلق قائم ہوا۔
یہ تعلق بعد میں مصاہرت میں تبدیل ہوگیا اور مولانا محمد اسماعیل ذبیح رحمہ اللہ ان کے سسر بن گئے۔ مولانا ذبیح رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ان کا مکتبہ بھی حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کو ملا، جس سے ان کے پہلے سے موجود علمی ذخیرے میں مزید اضافہ ہوا۔ یوں کتابوں سے ان کی محبت کے ساتھ ایک وسیع علمی سرمایہ بھی ان کے کتب خانے کا حصہ بن گیا۔
کتابوں سے شغف اور کتب خانہ:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کو کتابوں سے گہرا شغف تھا۔ مطالعہ ان کی زندگی کا مستقل حصہ تھا۔ ان کے کتب خانے میں حدیث، علومِ قرآن، فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب، تاریخ، دعوت اور دیگر علوم و فنون کی کتابیں موجود تھیں۔
ان کی کتابوں سے محبت صرف کتابیں جمع کرنے تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ ان سے باقاعدہ استفادہ کرتے اور اپنے علمی کام میں ان سے رہنمائی لیتے تھے۔
’’گوشہ ازہر‘‘ علمی سرمایہ کی محفوظ یادگار:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد ان کا وسیع کتب خانہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے پاس محفوظ ہوگیا۔
جامعہ سلفیہ فیصل آباد نے ان کے اس علمی ذخیرے کی حفاظت اور استفادے کے لیے ’’گوشہ ازہر‘‘ کے نام سے ایک مستقل گوشہ قائم کیا ہے۔گوشہ ازہر حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی کتابوں، علمی ذوق اور مطالعے سے ان کی گہری وابستگی کی ایک نمایاں یادگار ہے۔ یہاں محفوظ ان کا علمی سرمایہ آنے والے طلبہ اور اہلِ علم کے لیے بھی استفادے کا ذریعہ ہے۔ ان کا کتب خانہ محض کتابوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان کی علمی زندگی کی ایک ایسی یادگار ہے جو ان کے انتقال کے بعد بھی ان کے علمی ذوق اور کتاب سے گہرے تعلق کی گواہی دے رہی ہے۔
تصنیفی و تحقیقی خدمات:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی زندگی کا بڑا حصہ تدریس، خطابت اور دعوت میں گزرا، اس لیے تصنیف و تالیف کے لیے انہیں نسبتاً کم وقت ملتا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے متعدد مفید کتابیں، تراجم، مقدمات، تحقیقی مقالات اور صحافتی تحریریں یادگار چھوڑیں۔
ان کی معروف تصانیف اور علمی خدمات میں درج ذیل شامل ہیں:
1. تعارف اہلِ حدیث
2. حضورِ نماز
3. بشر الصابرین
4. ثواب و عذابِ قبر
5. مختصر صحیح بخاری — علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی کتاب کا ترجمہ و فوائد
6. احبابِ دیوبند کی کرم فرمائیاں اہلِ حدیث پر — علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی کتاب پر مبسوط مقدمہ
7. پیغامِ حرم — شیخ محمد سلطان معصومی رحمہ اللہ کی کتاب هدية السلطان إلى مسلمي اليابان کا ترجمہ، نظرِ ثانی اور مقدمہ
8. مختصر ترغیب و ترہیب — نظرِ ثانی اور مقدمہ
9. اعجازِ حدیث
10. فنِ نقدِ حدیث اور مولانا اصلاحی کے اندیشہ ہائے دور دراز
11. تحقیقِ حدیث کے لیے قیاسی کسوٹیاں
12. حج و عمرہ کے احکام
13. نابغہ عصر
حدیثی تحقیق اور علمی مقالات:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کو حدیثی تحقیق سے خصوصی دلچسپی تھی۔ ان کے دو مقالات خصوصاً قابلِ ذکر ہیں:
فنِ نقدِ حدیث اور مولانا اصلاحی کے اندیشہ ہائے دور دراز اور
“تحقیقِ حدیث کے لیے قیاسی کسوٹیاں”
یہ تحریریں حدیثی منہج، نقدِ حدیث اور تحقیقِ روایات کے اہم مباحث سے متعلق تھیں اور علمی جرائد میں شائع ہوئیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے مختلف دینی و علمی رسائل و جرائد میں بھی مضامین لکھے۔ الاعتصام لاہور، الآثار، نوائے شبان، شہادت، الحدیث حضرو اور دیگر جرائد میں ان کی تحریریں شائع ہوتی رہیں۔
’’نوائے شبان‘‘ اور ’’الآثار‘‘:
جامعہ میں تدریسی خدمات کے دوران حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ نے سہ ماہی رسالہ ’’نوائے شبان‘‘ جاری کیا، جو بعد میں ’’الآثار‘‘ کے نام سے ماہانہ رسالے کی صورت میں شائع ہونے لگا۔ اس رسالے میں ان کے اداریے، درسِ قرآن اور دیگر علمی و دعوتی مضامین شامل ہوتے تھے۔ بعض شماروں کی ترتیب و تدوین میں ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے بھی حصہ لیا اور ان کی بعض تحریریں بھی اس رسالے کی زینت بنیں۔یہ کاوش اس امر کی عکاس تھی کہ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ تدریس کے ساتھ علمی صحافت اور تحریری تربیت کی طرف بھی متوجہ تھے۔
علمی مزاج اور شخصیت:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی علمی زندگی میں تدریس، خطابت، مطالعہ اور تحقیق نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ وہ محض کتابیں پڑھانے والے مدرس نہ تھے، بلکہ طلبہ کے اندر علمی ذوق پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ان کی شخصیت میں کتاب و سنت سے وابستگی، وسیع مطالعہ، علمی گفتگو، تحقیقی مزاج اور دعوتی فکر نمایاں تھی۔ ان کی علمی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھا جائے تو مدرسہ، مسجد اور کتب خانہ تینوں ان کی زندگی کے اہم مراکز نظر آتے ہیں۔ مدرسے میں علم دیا، مسجد کے منبر سے قرآن و حدیث کی دعوت پہنچائی اور کتب خانے میں مطالعہ و تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا۔
ولاد:
حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی نرینہ اولاد نہیں تھی، ان کی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں۔
آخری ایام اور وفات:
2014ء کے آغاز میں حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کو دل کا دورہ پڑا۔ بعد ازاں ان کا بائی پاس بھی ہوا، لیکن صحت پہلے جیسی نہ ہوسکی اور رفتہ رفتہ کمزوری بڑھتی گئی۔
نومبر 2015ء کے آغاز میں وہ دوبارہ علیل ہوئے اور ہولی فیملی ہسپتال، راولپنڈی کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج رہے۔ تقریباً دو ہفتے علاج کے باوجود طبیعت میں نمایاں بہتری نہ آسکی۔
بالآخر 14 نومبر 2015ء کو صبح کے وقت یہ صاحبِ علم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ان کی نمازِ جنازہ اسی رات راولپنڈی کے مسلم گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ ان کی وصیت کے مطابق نمازِ جنازہ ان کے دیرینہ دوست اور رفیقِ علم حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نے پڑھائی۔ جنازے میں علماء، اساتذہ، طلبہ، اہلِ علم اور احباب کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اللہ تعالیٰ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے شاگردوں اور علمی آثار میں برکت دے اور ان کے محفوظ علمی سرمایہ کو آنے والی نسلوں کے لیے نافع بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




