محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کامختصر تعارف

اسلامی تاریخ کا یہ ایک روشن اور زریں باب رہا ہے کہ اللہ رب العزت نے ہر دور میں سنتِ نبوی ﷺ کی حفاظت اس کی ترویج اور روایات کی تنقید و تمیز کے لیے ایسی جلیل القدر شخصیات کو پیدا فرمایا جن کی زندگیاں قال اللہ و قال الرسول کی صداؤں اور دفاعِ حدیث کے لیے وقف رہیں۔ انہی نابغۂ روزگار اور پاسبانِ سنت شخصیات میں عصرِ حاضر کے عظیم محقق، نقادِ حدیث اور جرح و تعدیل کے امام حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا نامِ نامی ایک تابندہ ستارے کی مانند چمکتا نظر آتا ہے۔
آپ محض ایک روایتی مصنف، مدرس یا مناظر نہ تھے، بلکہ آپ فنِ نقدِ حدیث میں ائمہِ متقدمین مثلاً امام بخاری، امام مسلم، امام یحییٰ بن معین اور امام نسائی رحمہم اللہ کے قائم کردہ سخت اور معیاری اصولوں کو دورِ جدید میں زندہ کرنے والے یگانہ روزگار محقق تھے۔
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی علمی جلالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے دنیاوی نمائش اور مناصب سے بے نیاز ہو کر اپنا ایک ایک لمحہ کتبِ حدیث کی تنقید و تصحیح، اسماء الرجال کی چھان بین اور سنتِ صحیحہ کے اثبات میں صرف کر دیا۔ آپ کا قلم جہاں دلائل کی صلابت کا مظہر تھا وہاں آپ کی ذات اخلاص، تقویٰ، حق گوئی اور رجوع عن الحق کی نادر مثال تھی۔ آپ کی خدماتِ حدیث نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں تحقیق و نقد کا ایک نیا شعور بیدار کیا، جس کی وجہ سے اربابِ علم و دانش آپ کو بجا طور پر “محدث العصر”، “ذہبیِ زمان” اور “حافظِ ملت” کے عظیم القاب سے یاد کرتے ہیں۔

ولادت:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی ولادت 27 ذوالقعدہ 1376ھ، بمطابق 25 جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک، پنجاب میں ہوئی۔

خاندانی تعلق:
آپ کا تعلق پشتونوں کے معروف قبیلہ علی زئی سے تھا جو ایک عرصے سے حضرو میں آباد تھا۔

نسب:
محمد زبیر بن مجدد خان بن دوست محمد خان بن جہانگیر خان علی زئی۔

خاندانی ماحول:
آپ ایک محنت کش، شریف اور دین دوست گھرانے میں پروان چڑھےجہاں دینی اقدار، اخلاقی تربیت اور حلال رزق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔

ابتدائی تعلیم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر حضرو کے مقامی تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔

ثانوی تعلیم:
آپ نے گورنمنٹ ہائی اسکول حضرو سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔عصری تعلیم کے دوران آپ نے ریاضی اور سائنس جیسے مضامین میں بھی دلچسپی لی اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

عملی زندگی کا آغاز:
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے عملی زندگی میں قدم رکھا اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے روزگار اختیار کیا۔آپ نے جوانی میں روزگار کی غرض سے بحری اسفار کیے اور مختلف ممالک دیکھے، جن کے مشاہدات نے آپ کے تجربے اور فہم میں وسعت پیدا کی۔

دینی علوم کی طرف توجہ:
جہاز رانی کی ملازمت کے دوران ہی آپ کے اندر قرآن و حدیث اور دینی علوم کے مطالعے کا شوق مزید پختہ ہوا۔

حفظِ قرآن:
دینی علوم کی طرف آنے کے بعد آپ نے حفظِ قرآن کی طرف خصوصی توجہ دی۔ ایک طرق کے اعتبار سے آپ نے تقریباً 38 سال کی عمر میں صرف چھ ماہ کے عرصے میں قرآنِ مجید حفظ کیا۔

ایم اے اسلامیات:
آپ نے 1983ء میں پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی۔

درسِ نظامی:
آپ نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں داخلہ لے کر دینی علوم اور درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی۔آپ نے 1990ء میں الشہادۃ العالمیہ کی سند حاصل کی۔

ایم اے عربی:
بعد ازاں 1994ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کی ڈگری بھی حاصل کی۔

تحقیق پسند طبیعت:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ابتدا ہی سے کسی بات کو محض روایت یا شخصیت کی بنیاد پر قبول کرنے کے بجائے اس کی دلیل اور ماخذ تلاش کرنے کے عادی تھے۔

اسماء الرجال سے دلچسپی:
حدیث کے ساتھ ساتھ اسماء الرجال، تراجم اور جرح و تعدیل کی کتب کا گہرا مطالعہ شروع کیا۔

کتب خانوں سے استفادہ:
اٹک اور حضرو کے مقامی کتب خانوں کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور راولپنڈی کے علمی مراکز اور کتب خانوں سے بھی استفادہ کیا۔قدیم اور نادر کتب کے نسخوں کی تلاش، مطالعہ اور ان سے علمی استفادہ آپ کے ابتدائی تحقیقی ذوق کا نمایاں حصہ تھا۔

خطیب:
اپنی وفات تک مسلسل خطابت کے فرائض جامع مسجد اہل حدیث پیرداد حضرو میں ادا کرتے رہے ہیں۔

اساتذہ اور علمی شیوخ:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے متعدد اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ ان کے نمایاں اساتذہ و شیوخ میں درج ذیل حضرات شامل ہیں:
1. الشیخ بدیع الدین شاہ راشدی السندی رحمہ اللہ
2. الشیخ محب اللہ شاہ راشدی السندی رحمہ اللہ
3. شیخ الحدیث حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ
4 . شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ
5. شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود حسن رحمہ اللہ
6. قاری المقری محمد ادریس العاصم رحمہ اللہ
7. مولاناابو الرجال اللہ دتہ زاہد رحمہ اللہ
8. شیخ الحدیث حافظ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ
9. مولانا ابو الفضل فیض الرحمن ثوری رحمہ اللہ
10. مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ
11. شیخ الحدیث حافظ عبد الحمید ازہر رحمہ اللہ

تدریسی خدمات اور اسلوبِ تعلیم:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کا بنیادی اور مرکزی میدان اگرچہ نقدِ حدیث، تحقیق و تخریج اور اسماء الرجال تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مسندِ تدریس کو بھی اپنے منفرد انداز سے زینت بخشی۔ آپ کا طرزِ تدریس روایتی مدرسین سے یکسر مختلف اور جدید تحقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ تھا۔

آغازِ تدریس اور بنیادی مراکز:
وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادۃ العالمیہ اور ایم اے (اسلامیات و عربی) کی تکمیلات کے بعد آپ نے مسندِ تدریس پر قدم رکھا۔ آپ کا اصل علمی و تدریسی مرکز آپ کے آبائی شہر حضرو (ضلع اٹک) میں واقع “المکتبۃ الاسلامیہ” تھا۔ یہاں ملک و بیرونِ ملک سے آنے والے طلبہ اور محققین بلا واسطہ آپ کے علمی چشمے سے سیراب ہوتے تھے۔ البتہ زندگی کے آخری دو سال جامعہ امام بخاری سرگودھا میں بھی پڑھایا علاوہ ازیں مختلف جامعات میں علمی دورہ جات بھی کرواتے رہے ہیں۔

شعبہ تحقیق و تدریب:
دارالسلام لاہور کے شعبۂ تحقیق سے بھی آپ کی علمی وابستگی رہی، جہاں تحقیق و تخریج کے کام میں آپ نے حصہ لیا۔

تدریس کا منفرد انداز:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا اندازِ تدریس محض کتاب کا متن پڑھا دینے یا الفاظ کا ترجمہ کر دینے تک محدود نہ تھا، بلکہ ان کا اسلوب درج ذیل نمایاں خصوصیات پر مشتمل تھاآپ طلبہ کو صرف احادیث کا ترجمہ نہیں سکھاتے تھے، بلکہ روایات کی سند نکالنے، راویوں کا جائزہ لینے اور اصولِ جرح و تعدیل کو جیتے جاگتے انداز میں اپلائی کرنے کی مشق کرواتے تھے۔

ماہنامہ الحدیث حضرو:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے جون 2004ء میں ماہنامہ الحدیث حضرو کا اجراء کیا۔
یہ رسالہ ان کی علمی زندگی کا ایک اہم ادارہ بن گیا۔ اس میں:
– حدیث و سنت
– علم الرجال
– جرح و تعدیل
– فقہ الحدیث
– تخریج
– عقائد
– فقہی مسائل
– منکرینِ حدیث کے شبہات
– بدعات و منکرات
– معاصر علمی مباحث
جیسے موضوعات پر مسلسل مضامین شائع ہوئے۔
ان کے سینکڑوں مضامین اور علمی جوابات اسی رسالے کے ذریعے علمی حلقوں تک پہنچے۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے فرزند حافظ معاذ بن زبیر اور ان کے تلامذہ (خصوصاً حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ) المکتبۃ الاسلامیہ اور ماہنامہ الاشاعۃ الحدیث کے اس علمی تسلسل کو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔

شیخ محترم کے تلامذہ:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے علمی فیض، تحقیقی منہج اور فنِ حدیث میں تربیت سے استفادہ کرنے والے نمایاں تلامذہ
1. حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ
2. حافظ معاذ بن زبیر علی زئی
3. مولانا ابو صفی عبد الرحمن اثری
4. شیخ تنویر الحق ہزاروی حفظہ اللہ
5. مولانا حبیب الرحمن ہزاروی
6. مولانا ذوالفقار اثری صاحب
7. شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر حفظہ اللہ
8. شیخ شفقت الرحمٰن حفظہ اللہ
9. ابومحمد نصیر احد کاشف
10. شیخ ابو زبیر تبسم حفظہ اللہ

تحقیق کے ساتھ رجوع عن الخطأ:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے علمی منہج کا ایک قابلِ ذکر پہلو حق کی طرف رجوع بھی تھا۔
ان کے رسالے کے ذخیرے میں خود ’’حق کی طرف رجوع‘‘ جیسے عنوانات موجود ہیں جو اس علمی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ محقق کے لیے اپنی سابقہ رائے سے وابستگی مقصود نہیں بلکہ دلیل کے سامنے جھکنا مقصود ہے۔

تصنیفی، تحقیقی اور علمی خدمات:
محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی علمی خدمات کا مرکزی محور حدیث، تخریج، تحقیقِ اسانید، علم الرجال، جرح و تعدیل، فقہ الحدیث اور نقدِ روایات تھا۔ آپ نے اپنی تصانیف و تحقیقات کے علاوہ دیگر اہلِ علم کی کتب پر تخریج، تحقیق، نظرِ ثانی، مقدمات اور تقاریظ لکھ کر علمی و تحقیقی کام کی تدوین اور اصلاح میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔آپ کے علمی ترکے میں کتبِ حدیث کی تحقیق و تخریج، رجال و اصولِ حدیث، فقہ الحدیث و فقہی مسائل، عقائد و ردِّ بدعات، تراجم و شروحات، فتاویٰ، علمی مقالات، تعلیقات اور دیگر تحقیقی خدمات شامل ہیں۔
📚 حدیث، تخریج اور تحقیقِ کتبِ حدیث
1۔ تحقیق و تخریج سنن ابی داؤد — احادیث کی تخریج، اسانید اور حدیثی احکام سے متعلق تحقیقی کام۔
2۔ تحقیق و تخریج جامع الترمذی — روایات کی تخریج و تحقیق اور متعلقہ حدیثی مباحث۔
3۔ تحقیق و تخریج سنن النسائی — اسانید و روایات کی تحقیق و تخریج۔
4۔ تحقیق و تخریج سنن ابن ماجہ — احادیث کی تخریج اور حدیثی حیثیت کی تحقیق۔
5۔ موطأ امام مالک، روایتِ یحییٰ بن یحییٰ اللیثی — تحقیق، تخریج اور فقہی فوائد۔
6۔ الاتحاف الباسم فی تحقیق و شرح موطأ امام مالک، روایۃ ابن القاسم — روایتِ ابن القاسم کی تحقیق، ترجمہ اور تفصیلی شرح۔
7۔ أضواء المصابیح فی تحقیق مشکوٰۃ المصابیح — مشکوٰۃ المصابیح کی جامع تحقیق، تخریج اور شرح، تین جلدیں۔
8۔ أنوار الصحیفۃ فی الأحادیث الضعیفۃ من السنن الأربعۃ مع الأدلۃ — سنن اربعہ کی ضعیف روایات کی تحقیق اور ان کے ضعف کے دلائل۔
9۔ المسائل لابن ابی شیبہ — حافظ محمد بن عثمان بن ابی شیبہ کی کتاب کی تحقیق و علمی خدمت۔
10۔ شعار أصحاب الحدیث — ابی احمد الحاکم کی کتاب کی تحقیق، تعلیق اور ترجمہ۔

11۔ أنوار السنن فی تحقیق آثار السنن — علامہ نیموی کی کتاب پر تفصیلی تحقیقی تعلیقات۔
12۔ تحقیق و تعلیق جزء علی بن محمد الحمیری — روایات کی تخریج اور سندی تحقیق۔
13۔ تحقیق و اشاعت جزء بی بی دائم — مخطوط کی تصحیح و تحقیق۔
14۔ حصن المسلم — حافظ سعید بن علی القحطانی کی کتاب کے مسنون اذکار کی روایات کی سندی تحقیق۔
15۔ تفسیر ابن کثیر — بعض حصوں کی تخریج اور سندی نقد۔
16۔ مسند حمیدی — تحقیق و تخریج سے متعلق علمی خدمات۔
17۔ صحیح ابن خزیمہ — تحقیق و تخریج سے متعلق علمی خدمات۔
18۔ بلوغ المرام — ابن حجر عسقلانی کی کتاب کی احادیث کی تخریج و تحقیق سے متعلق علمی کام۔
19۔ تحفۃ الاقویاء فی تحقیق کتاب الضعفاء — امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب الضعفاء الصغیر کی تحقیق و تعلیق۔
20۔ جزء رفع الیدین للبخاری — ترجمہ، تحقیق اور تشریحی حواشی۔
21۔ نصر الباری فی تحقیق وترجمۃ جزء القراءۃ للبخاری — جزء القراءۃ کی جامع تحقیق و ترجمہ۔
22۔ صحیح البخاری — اردو ترجمہ اور مختصر تشریحی فوائد۔
23۔ صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ — منکرینِ حدیث کے اعتراضات کا علمی جواب۔
24۔ صحیح بخاری کا دفاع — امام بخاری اور صحیح بخاری کی روایات کا علمی دفاع۔
25۔ توفیق الباری فی تطبیق القرآن وصحیح البخاری — قرآن اور صحیح بخاری کے باہمی تطبیقی پہلوؤں سے متعلق تحقیقی کام۔
26۔ إثبات عذاب القبر للبیہقی — امام بیہقی کی کتاب کا ترجمہ، تحقیق اور تخریج۔
📚 تدلیس، رجال اور اصولِ حدیث
27۔ الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین — تدلیس، مدلسین اور حافظ ابن حجر کی طبقاتِ مدلسین سے متعلق تحقیقی کام۔
28۔ القول المیسور فیمن ضعفہ الجمهور — جرح و تعدیل اور رواۃ کے احکام سے متعلق تحقیقی مباحث۔
29۔ کتبِ رجال پر قلمی و تحقیقی حواشی — تہذیب التہذیب، میزان الاعتدال اور تقریب التہذیب وغیرہ پر علمی نوٹس۔
30۔ السنن الکبریٰ للبیہقی پر تحقیقی حواشی — تخریجی و حدیثی نوٹس اور علمی تعلیقات۔
31۔ إرشاد العباد فی توثیق نعیم بن حماد — نعیم بن حماد الخزاعی کی توثیق و دفاع پر عربی تحقیقی رسالہ۔
32۔ جزء فی أسماء من کان لا یروی إلا عن ثقة عندہ — ان راویوں کا تذکرہ جو اپنے نزدیک صرف ثقہ راویوں سے روایت کرتے تھے۔
33۔ تلخیص نصب العماد فی جرح الحسن بن زیاد — راوی حسن بن زیاد اللؤلؤی پر جرح کا خلاصہ۔
📚 فقہ الحدیث، نماز اور دیگر فقہی مسائل
34۔ نور العینین فی إثبات رفع الیدین — رفع الیدین کے مسئلے پر احادیث، آثار، اسانید، طرق اور اعتراضات کی تفصیلی تحقیق۔
35۔ نمازِ نبوی — نماز کے مسنون طریقے سے متعلق علمی کام۔
36۔ مختصر صحیح نمازِ نبوی — تکبیرِ تحریمہ سے سلام تک مسنون نماز کا مختصر جائزہ۔
37۔ ہدیۃ المسلمین — نماز اور مسنون اذکار پر مبنی رسالہ۔
38۔ مسئلہ فاتحہ خلف الامام، المعروف بالکوکب الدریۃ — نماز میں سورۂ فاتحہ کے وجوب پر تفصیلی دلائل۔
39۔ نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام — سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق روایات کی تحقیق۔
40۔ تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کا ثبوت — عیدین کی اضافی تکبیروں میں رفع یدین کے اثبات پر تحقیقی رسالہ۔
41۔ تعدادِ رکعاتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ، المعروف نور المصابیح — تراویح کی رکعات سے متعلق حدیثی بحث۔
42۔ الحج والعمرۃ، حاجی کے شب و روز — حج و عمرہ کے مسنون احکام و مناسک۔
43۔ بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم — اہلِ بدعت کی اقتداء میں نماز کے شرعی حکم کا جائزہ۔
44۔ دین میں تقلید کا حکم — تقلیدِ جامد کے شرعی اور سندی جائزے سے متعلق تفصیلی کتاب۔
45۔ مرد و عورت کی نماز میں فرق اور آلِ تقلید — نماز کے مسنون طریقے میں مرد و عورت کی یکسانیت پر دلائل۔
46۔ مصافحہ و معانقہ کے احکام و مسائل — اسلامی آدابِ ملاقات سے متعلق روایات کی تحقیق۔
47۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، اعتکاف، قربانی، حج، طہارت، دعا اور اذکار سے متعلق تحقیقی و فقہی مقالات۔
📚 عقائد، توحید اور ردِّ بدعات
48۔ أمین الصدوق فی تحقیق التوحید والرد علی أصحاب القبور — توحید اور متعلقہ عقائدی مباحث پر تحقیقی کام۔
49۔ مسئلہ ختمِ نبوت — ختمِ نبوت کے شرعی و حدیثی دلائل۔
50۔ اہلِ حدیث ایک صفاتی نام — اسمِ اہلِ حدیث کے تاریخی اور صفاتی ثبوت پر تحقیقی رسالہ۔
51۔ بدعۃ الجہمیہ — جہمیہ اور معطلہ کے عقائدی رد و تنقید پر بحث۔
52۔ فتنہ انکارِ حدیث کا نیا روپ — منکرینِ حدیث کے فتنوں پر علمی نقد۔
📚 تراجم، شروحات اور علمی حواشی
53۔ صحیح مسلم — اردو ترجمہ اور مشکل مقامات کی تشریح۔
54۔ موطأ امام مالک — اردو ترجمہ اور فقہی فوائد۔
55۔ شمائل الترمذی — ترجمہ، فوائد اور روایات کے احکام۔
56۔ الاربعین النوویہ — ترجمہ اور جامع تشریح۔
57۔ اختصار علوم الحدیث — حافظ ابن کثیر کی الباعث الحثیث کا ترجمہ و تحقیق۔
58۔ فضل الصلاۃ علی النبی ﷺ — امام اسماعیل القاضی کی کتاب کا ترجمہ و تحقیق۔
59۔ کتاب الاربعین لابن تیمیہ — ترجمہ اور فوائد۔
60۔ فضائل جہاد — الاربعون لابن عساکر کا ترجمہ و تحقیق۔
61۔ شرح حدیثِ جبریل — شیخ عبدالمحسن العباد کی کتاب کا ترجمہ و تحقیق۔
62۔ فضل الاسلام — شیخ محمد بن عبدالوہاب کی کتاب کا ترجمہ و سندی تحقیق۔
📚 فتاویٰ اور علمی مقالات
63۔ فتاویٰ علمیہ، المعروف توضیح الاحکام — تین جلدیں؛ عبادات، معاملات، عقائد، معاشرت اور مختلف شرعی مسائل پر مشتمل فتاویٰ۔
64۔ تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات — چھ سے زائد جلدوں پر مشتمل وسیع علمی ذخیرہ، جس میں حدیث، رجال، فقہ الحدیث، عقائد اور فقہی مسائل شامل ہیں۔
65۔ سیرتِ رحمتِ للعالمین ﷺ کے درخشاں پہلو — سیرتِ نبوی ﷺ پر مستند مضامین کا مجموعہ۔
📚 رد، تنقید اور علمی مناظرانہ خدمات
66۔ السیوف الصقیل فی الدفاع عن ابن القیسرانی — سندی و تاریخی دفاع۔
67۔ نصر المعبود فی الرد علی من أنکر الصلاۃ علی النبی بعد التشہد — درود و سلام کے منکرین کا رد۔
68۔ القول المتین فی الجہر بالتأمین — آمین بالجہر کے سندی و حدیثی دلائل۔
69۔ آلِ دیوبند سے 300 سوالات / اکاذیبِ آلِ دیوبند — دیوبندی مسلک کی تحریروں اور اعتراضات کا علمی رد۔
70۔ آلِ دیوبند کے 300 جھوٹ — مخالفین کی غلط بیانیوں کا تعاقب۔
71۔ یزید بن معاویہ کے بارے میں روایات کا تنقیدی جائزہ — سندی نقد و جرح۔
72۔ امین اوکاڑوی کا تعاقب — امین اوکاڑوی کی تحریروں اور اوہام پر سندی تعاقب۔
73۔ انوار اوکاڑوی کے جائزہ کا جائزہ — تحریری ردِ عمل کا سندی نقد۔
74۔ انوار الطریق فی رد ظلمات فیصل الحلیق — سندی و مسلکی دفاع۔
75۔ نصب العماد فی تحقیق الحسن بن زیاد اللؤلؤی — جرح و تعدیل پر مبنی تحقیقی رسالہ۔
76۔ طبقات التابعین — تابعین کے طبقات اور سندی حیثیت سے متعلق علمی کام۔
77۔ البوارق المرسلۃ علی ظلمات التبصرۃ — مختلف اعتراضات کے علمی جوابات۔
78۔ جعلی جزء کی کہانی اور علماءِ ربانی — غیر مستند اجزاء پر تحقیقی تنقید۔
79۔ عربی فتاویٰ و مراسلات — عرب دنیا سے موصول ہونے والے سوالات کے عربی زبان میں تحریر کردہ جوابات۔
80۔ جامع الترمذی کی مفصل شرح
81۔ قلمی فتاویٰ کا ذخیرہ — ہزاروں فتاویٰ پر مشتمل محفوظ علمی مواد۔
82۔ علمی مقالات
83۔ نیل المقصود فی تعلیق سنن ابی داؤد

معاصر علماء کے تاثرات:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے علمی مقام کے بارے میں ان کے معاصرین کے متعدد تاثرات محفوظ ہیں۔

🔹️شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
انہوں نے حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے بارے میں حدیث و رجال میں ان کی گہری نظر اور غیر معمولی حفظ و ضبط کا ذکر کیا۔

🔹️شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ
انہوں نے ان کے علم الرجال میں خصوصی ملکہ، سادگی، زہد و تقویٰ اور قوی حافظے کو ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو قرار دیا۔

🔹️شیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ
انہوں نے ان کے علمِ اسماء الرجال میں مہارت اور کتاب و سنت کی روشنی میں گمراہ کن افکار کے رد میں ان کی علمی کاوشوں کو نمایاں کیا اور ان کی کتب و مقالات کو خدمتِ حدیث کا اہم علمی سرمایہ قرار دیا۔

🔹️شیخ عبد الستار حماد حفظہ اللہ
انہوں نے علم الرجال میں ان کی مہارت اور اختلاف کو برداشت کرنے کی صفت کا ذکر کیا۔

🔹️شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ
انہوں نے انہیں علمِ حدیث سے محبت رکھنے والا، مطالعہ اور فوائد جمع کرنے کا شوق رکھنے والا، وقت کی قدر کرنے والا اور حق بات کے اظہار میں بے باک عالم قرار دیا۔

ان کے علمی منہج کی چند نمایاں خصوصیات:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے مجموعی علمی کام کا مطالعہ کیا جائے تو چند نمایاں خصوصیات سامنے آتی ہیں:

1۔ سند پر خصوصی توجہ
وہ حدیث کے حکم تک پہنچنے میں سند اور رجال کی تحقیق کو بنیادی اہمیت دیتے تھے۔

2۔ رجال کی معرفت
راویوں کے حالات، ثقاہت، ضعف، تدلیس اور دیگر متعلقہ امور پر ان کی خاص نظر تھی۔

3۔ متعدد طرق کا تقابل
ایک ہی روایت کے مختلف طرق کو سامنے رکھ کر حکم تک پہنچنے کا اہتمام کرتے تھے۔

4۔ حدیث اور فقہ میں ربط
حدیث کی تحقیق کے بعد اس کے فقہی اثرات اور عملی پہلو بھی زیرِ بحث لاتے تھے۔

5۔ مطالعہ اور مراجعت
ان کے علمی ذخیرے میں قدیم مصادر، شروح، رجال کی کتب اور مختلف مطبوعات سے وسیع استفادہ نمایاں ہے۔

6۔ علمی بے باکی
اختلافی مسائل میں اپنی تحقیق کو واضح انداز میں پیش کرتے تھے، لیکن ان کے معاصرین کے بیانات میں یہ بھی ملتا ہے کہ وہ اختلاف برداشت کرتے تھے۔

سادگی، مطالعہ اور علمی زندگی:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کے ساتھ ان کی سادگی کا ذکر بھی متعدد اہلِ علم نے کیا ہے۔شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے ان کی سادہ طبیعت، زہد و تقویٰ اور قوی حافظے کو نمایاں خصوصیات میں شمار کیا۔ان کی زندگی میں کتاب، مطالعہ، تحقیق، تخریج اور علمی مباحث کو بنیادی مقام حاصل تھا۔ ان کا قائم کردہ علمی ماحول اور ماہنامہ الحدیث اس بات کے شاہد ہیں کہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ علمی کام اور خدمتِ حدیث میں صرف ہوا۔

وفات:
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا انتقال 1435ھ، مطابق 10 نومبر 2013ء کو بینظیر بھٹو ہسپتال، راولپنڈی میں ہوا۔

اللہ تعالٰی حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی دینی، حدیثی، تصنیفی، علمی اور تحقیقی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، قبر کو نور و رحمت سے بھر دے، اور ان کے علمی آثار کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

ناشر: حافظ امجد ربانی