سوال 7483

مقدمہ:
عمارہ وقاص بنام محمد وقاص رشید — اسلام آباد ہائیکورٹ، مارچ 2026ء
اس مقدمے میں بیوی نے اس جائیداد میں اپنے حصے کا دعویٰ کیا جو دورانِ نکاح شوہر کے نام پر حاصل کی گئی تھی۔ اس کا مؤقف تھا کہ گھر سنبھالنا، بچوں کی پرورش کرنا اور شوہر کے لیے ایک مستحکم گھریلو ماحول فراہم کرنا اس بات کا سبب بنا کہ شوہر اپنی آمدن حاصل کر سکے اور جائیداد و اثاثے بنا سکے۔
عدالت کا فیصلہ:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دورانِ ازدواج حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کا حق ہو سکتا ہے۔ عدالت نے گھریلو خدمات (Domestic Labour)، مثلاً کھانا پکانا، صفائی کرنا، بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کا انتظام، کو بھی مالی اعتبار سے ایک قابلِ اعتناء تعاون (Financial Contribution) قرار دیا۔
اہم وضاحت: آپ کے فراہم کردہ خلاصے میں فیصلہ کچھ زیادہ عمومی انداز میں بیان ہوا ہے۔ اصل مقدمہ بنیادی طور پر حقِ مہر، نان نفقہ، جہیز اور ازدواجی اثاثوں میں شراکت جیسے متعدد معاملات پر تھا، اس لیے اسے سادہ الفاظ میں یہ کہنا کہ عدالت نے ہر شادی شدہ بیوی کے لیے شوہر کے نام تمام جائیداد میں خودکار حصہ مقرر کر دیا، درست نہیں ہوگا۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا یہ درست ہے اسلامی نقطہ نظر سے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ کہ بیوی کی “گھریلو محنت” (کھانا پکانا، صفائی، بچوں کی دیکھ بھال، گھر کا انتظام) شوہر کے نام پر نکاح کے دوران حاصل کی گئی جائیداد میں اس کے حصے کا حقدار بناتی ہے، قرآن وسنت میں ایسی کوئی صراحت نہیں ملتی۔ شریعت میں شوہر کی مالی ذمہ داریوں میں مہر اور نان نفقہ وغیرہ کا ذکر ہے، لیکن عورت کا گھریلو کام کاج اور دیکھ بھال کو شوہر کے ساتھ اس کے اثاثوں میں شرکت کی دلیل بنانا درست نہیں ہے۔
قرآن مجید شوہر کی مالی ذمہ داریوں اور بیوی کے حقوق کو بیان کرتا ہے، بنیادی طور پر مہر اور نفقہ پر توجہ مرکوز کرتا ہے:
* اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “مرد عورتوں پر نگراں ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے مال میں سے خرچ کیا ہے” [5]۔ یہ آیت شوہر کے نفقہ فراہم کرنے والے کردار کی نشاندہی کرتی ہے، جو اپنی دولت سے خاندان کے لیے انتظام کرتا ہے۔
* مہر کے بارے میں قرآن کہتا ہے: “اور (یہ بھی حرام ہیں) تمام شوہر والی عورتیں سوائے ان کے جو تمہاری ملکیت میں آئیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے تم پر۔ اور ان کے علاوہ تمہارے لیے حلال ہیں کہ تم انہیں اپنے مال سے حاصل کرو، پاکدامنی چاہنے والے نہ کہ بدکاری کرنے والے۔ پس جن عورتوں سے تم نے لطف اٹھایا ہے، انہیں ان کا مقررہ مہر خوشی سے دو۔ اور مہر مقرر ہونے کے بعد تم میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں جو باہمی رضامندی سے طے ہو۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے” [7]۔
* طلاق کے سیاق و سباق میں، خاص طور پر رخصتی سے پہلے، یہ ذکر کیا گیا ہے: “اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دو اور تم نے ان کے لیے مہر مقرر کر دیا تھا، تو جو کچھ مقرر کیا تھا اس کا آدھا دینا ہوگا — الا یہ کہ وہ خود معاف کردیں یا وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کا اختیار ہے معاف کردے۔ اور معاف کرنا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور آپس میں حسن سلوک کو مت بھولو۔ بے شک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے” [2]۔ یہ آیت مہر (ذمہ داری) سے متعلق ہے، نہ کہ گھریلو مشقت کی بنیاد پر نکاح کے دوران حاصل کردہ جائیداد سے۔
* قرآن طلاق کے قواعد بھی بیان کرتا ہے، یہ شرط عائد کرتا ہے کہ شوہر بعض صورتوں میں بیوی کو جو کچھ دیا ہے واپس نہیں لے سکتا: “طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو اچھے طریقے سے روک لیا جائے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دیا جائے۔ اور تمہارے لیے یہ حلال نہیں کہ تم ان کو دی ہوئی چیز میں سے کچھ واپس لو، مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے۔ اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں اس پر جو وہ اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے دے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں، پس انہیں مت توڑو۔ اور جو اللہ کی حدود کو توڑے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں” [8]۔
یہ آیات شوہر کی مالی ذمہ داریوں (مہر، نفقہ) اور بیوی کے مالی حقوق کو نکاح اور طلاق جیسے مخصوص حالات میں نمایاں کرتی ہیں، لیکن وہ گھریلو کام کو شوہر کے انفرادی اثاثوں میں حصے کے برابر نہیں گردانتی۔
اسی طرح احادیث عام طور پر شوہر کی ذمہ داری پر زور دیتی ہیں کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرے اور بیوی کے اپنے مال پر آزادانہ حق کو تسلیم کرتی ہیں، لیکن گھر کام کاج کے بدلے میں مرد کی جائیداد کا حصہ دار ہونا یہ درست نہیں ہے۔
ہاں البتہ اگر شوہر فوت ہو جائے تو اس کی جائیداد میں سے عورت کو چوتھا یا آٹھواں حصہ ملتا ہے۔
ہاں البتہ اگر کوئی میاں یا بیوی آپس میں پہلے سے معاہدہ کر لیں کہ بیوی گھریلو ذمہ داریاں اٹھائے گی، جبکہ شوہر کاروبار کرے گا اور جو بھی کاروبار یا اثاثہ جات ہوں گے، دونوں اس کے مالک ہوں گے، تو پھر درست ہے۔ واللہ اعلم.
اوپر ذکر کردہ فیصلہ بھی شاید اسی تناظر میں ہو۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ