سوال 7616

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ہمارا رشتے دار انشورنس کا کام کرتا ہے وہ کہتا ہے اسلامک انشورنس کر رہے ہیں وہ جائز ہوتی ہے کوئ فتویٰ جات بھی موجود ہیں۔ رہنمائی فرمائیں
ہم نے انکار کیا تھا وہ ناراض ہو گیا۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
انشورنس حرام ہے۔ یہ سود و جوئے کی صورت ہے۔ جیسا کہ آپنے کسی چیز کی انشورنس کے لیے لاکھ روپے جمع کروائے انشورس والوں کو اور نقصان دو لاکھ کا ہوگیا دوسری صورت ہے کہ آپنے ایک لاکھ جمع کروایا اور نقصان بیس ہزار کا ہو۔ بیان کردہ پہلی صورت میں انشورس والوں کا ایک لاکھ کا نقصان ہے اور دوسری صورت میں انشورس کروانے والے کا اسی ہزار کا۔ یہ خالص جوا اور سود ہے۔
جوکہ شرعا حرام ہے۔
[المائدہ: 90,آل عمران: 130]
جو کام حرام ہے اس میں ہر قسم کا تعاون بھی حرام ہے۔
[المائدہ: 2]
انشونس کمپنی میں ملازمت کرنا تو بلاشبہ حرام ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ