سوال 7506

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ کانوں کے مسح کے بارے میں وضاحت فرمادیں۔ کان کا سارے کا مسح ہوگا یا کچھ لوگ کانوں کے اندر انگلی رکھ کر کانوں کے باہر سے انگوٹھا گما دیتے ہیں اس کی وضاحت فرمادیں ۔ درست طریقہ کیا ہے؟
جزاک اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا عطا اللہ ساجد حفظ الله ، فوائد و مسائل ، سنن ابن ماجه ، تحت الحديث 439
اس سے معلوم ہوا کہ سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح بھی کرنا ہے ۔
کانوں کی اندرونی طرف سے وہ حصہ مراد ہے جو چہرے سے متصل ہونے کی وجہ سے دیکھنے والے کو نظر آتا ہے۔
اور بیرونی طرف سے وہ حصہ مراد ہے جو سر سے متصل ہونے کی وجہ سے سامنے سے دیکھنے پر نظر نہیں آتا ۔
سنن ابن ماجه شرح از مولانا عطا الله ساجد، حديث صفحہ نمبر 439]
یہ شیخ عطاء اللہ ساجد رحمہ اللہ نے ایک مختصر سی وضاحت کی ہے کانوں کے مسح کی اس کو دیکھ لیا جائے۔ بس مسح ہی کرنا ہے دھونا نہیں ہے۔ تو لہذا انگلی کسی بھی اعتبار سے شہادت کی انگلی کان میں رکھیں اور اندر گھما دیں۔ اور انگوٹھا باہر گھما دیں تو بس مسح ہو جائے گا ان شاء اللہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ