سوال 7615
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! ایک ساتھی کاروبار کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے کسی دوسرے ساتھی سے چار لاکھ روپے لینا چاہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ چار لاکھ کے بدلے چار لاکھ ستر ہزار روپے واپس کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ سود کے زمرے میں آئے گا یا کاروباری منافع شمار ہوگا؟ براہِ کرم اس کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ رقم فکس کرکے لینا خالص سود ہے۔ حلال صورت یہ ہے کہ ان چار لاکھ سے کاروبار کرکے جتنا منافع ہو وہ اس نفع کی شرح(پرسنٹیج) طے ہو کہ اتنے فیصد محنت کرنے والے کی اور اتنے فیصد منافع انویسٹر کا۔ اور اگر نقصان ہوگیا تو محنت کرنے والے کی محنت ضائع جائے گی اور انویسٹر کا پیسہ۔
یہی مضاربت ہے۔
لیکن اگر کوئی پہلے ہی طے کرتا ہے کہ چار لاکھ دیں اور میں چار لاکھ ستر ہزار واپس کروں گا فکس رقم، یہ سود ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں، یہ تو سود ہے۔ وہ قرض لے رہا ہے، اور کاروبار میں لگا نہیں رہا بلکہ اپنے لیے قرض لے رہا ہے۔ پھر قرض کے عوض زیادہ رقم واپس کرنا سود ہے۔
«كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ وَجْهٌ مِنْ وُجُوهِ الرِّبَا»
یعنی ایسا قرض جس سے کوئی مشروط منفعت حاصل ہو، وہ سود کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




