سوال 7319

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بارش میں غسل جنابت کر سکتے ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
غسل تو غسل ہے چاہے آپ بارش میں کریں۔ چاہے آپ ہاتھ سے چلانے والے نلکے پر کریں۔ چاہے آپ شاور کے ساتھ کریں اور چاہے آپ ہمارے دیہاتی کلچر میں جو ٹیوب ویل موٹریں پیٹر چلتے ہیں۔ لیکن یہاں پر جو بات قابل غور ہے وہ یہ کہ کیا بارش میں غسل کرنے سے مسنون غسل ہو جاتا ہے؟ اس پر ذرا غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ مسنون غسل میں پورے جسم پر کم از کم تین مرتبہ پانی بہانا ضروری ہے۔ تو اس پر غور کر لیں کہ کیا واقعی جسم کے تمام حصوں تک تین دفعہ پانی پہنچ جاتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم کیا تین مرتبہ پانی بہانا ہی ضروری ہے ؟ یا جسم کا پورا گیلا ہونا بھی ضروری ہے؟ ان تین مرتبہ میں ؟
جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگرچہ مسئلہ اختلافی ہے۔ بعض اہل علم تثلیث کو تین دفعہ غسل کرنے کو مستحب کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ غسل کے فرائض میں ہے۔ جبکہ بعض اہل علم کے نزدیک یہ واجب نہیں ہے۔ تو معاملہ صرف اتنا ہے کہ جو جیسے سمجھا بالکل اسی طریقے سے اس نے سمجھا دیا۔ یہ تو بات صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک میں تین مرتبہ پانی کے تین چلو ڈالے تھے۔ تو یہاں سے بعض اہل علم نے عموم مراد لیا ہے لیکن بہرحال جیسے میں نے عرض کیا کہ مسئلہ اختلافی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم تین دفعہ پانی بہانا ضروری ہے، اسکی دلیل ذکر فرمادیں۔
جواب: السلام علیکم۔ غسل جنابت میں سر پہ تین مرتبہ پانی ڈالنا اور ہر دفعہ پانی ڈال کر سر کو مسلنا۔ یہ منقول ہوا ہے یہ مسنون ہے۔ یہ غسل کے مسنون طریقوں میں سے ہے۔ البتہ باقی جسم میں خشکی نہ رہے۔ آپ کی تسلی ایک دفعہ سے ہوتی ہے یا دو دفعہ سے ہوتی ہے یا چار دفعہ سے ہوتی ہے۔ یہ اسی طرح شیخ صاحب نے بھی ذکر کر دیا کہ سر کا ذکر صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ اصل میں اختلاف یہاں ہو جاتا ہے کہ جو میت کو غسل دینے کا ذکر ہے وہاں طاق عدد تین، پانچ، سات کا ذکر ہے۔ تو شاید اس وجہ سے وہ خلط مبحث ہو جاتا ہے۔ وہاں پورے جسم پہ تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا حسب ضرورت اس سے بھی زیادہ پانی بہایا جا سکتا ہے لیکن وہاں یہ تعداد کا ذکر ملتا ہے غسل جنابت میں صرف سر پہ تعداد کا ذکر ملتا ہے پورے جسم کی تعداد کا دھونے کے اعتبار سے کوئی تخصیص اللہ اعلم نہیں ملتی۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ مکرم!
مسنون اور ضروری میں فرق ہے۔ ضروری کی دلیل درکار ہے؟
مکرم شیخ نے کہا پورے جسم پر تین مرتبہ پانی بہانا ضروری ہے۔
جواب: تعبیرات میں الفاظ آگے پیچھے ہو جاتے ہیں ضروری سے مراد وہی چیز جو شریعت نے ضروری قرار دی ہے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے تین مرتبہ سر کو دھویا ہے سر کو دھونا تین مرتبہ غسل جنابت میں ضروری بھی ہے مسنون بھی ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جو نبی علیہ السلام سے منقول ہے و خیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
شیخ محترم نے وضاحت کر دی ہے کہ سر میں تین دفعہ پانی ڈال کے دھونے کی صراحت موجود ہے۔ وہیں سے بعض نے پورے جسم کو تعبیر کر دیا ہے کہ تین دفعہ دھو لیا جائے۔ بس شیخ نے وضاحت کر دی ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ نبیﷺ نے فرمایا:

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكُ . عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ كله۔
(صحیح بخاری: 248) صحیح

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ