سوال 7320:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا ایتھانول حرام ہے یا حلال؟
جزاکم اللّٰہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ہمارے علم کے مطابق ایتھانول (Ethanol) کو الکوحل کے متبادل یا اس سے متقارب چیز کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک محلول (Liquid) ہے۔
جیسے الکوحل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بِنَفْسِہٖ نشہ آور نہیں ہوتا، جب تک اسے خاص قسم کی چیزوں کے ساتھ ملا کر نشہ آور صورت میں نہ بنایا جائے۔ مثلاً انگور، کھجور یا دیگر وہ اشیاء جن سے خمر تیار کی جاتی ہے، ان میں یہ عناصر موجود ہوتے ہیں، لیکن بِنَفْسِہٖ ان میں نشہ نہیں ہوتا۔
اسی طرح اہلِ علم نے الکوحل کے بارے میں بھی یہی بات ذکر کی ہے کہ بِنَفْسِہٖ وہ نشہ آور نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ آج کل جو الکوحل دستیاب ہوتی ہے، وہ عموماً کیمیائی طریقے سے تیار کی جاتی ہے۔
اگر ایتھانول بھی وہی چیز ہے، یا جیسا کہ بعض اہلِ علم نے وضاحت کی ہے کہ وہ اسی کا بدل یا اسی کی طرح کا ایک محلول ہے، تو پھر اس کا استعمال جائز ہے، خصوصاً جب وہ بیرونی استعمال کے لیے ہو، جیسے اسپرے یا پرفیوم وغیرہ، تو اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا۔
البتہ خرید و فروخت کا مسئلہ الگ ہے، اور اسے باقاعدہ کاروبار بنانا الگ مسئلہ ہے۔ لیکن اگر کہیں سے کوئی اسپرے یا پرفیوم مل جائے جس میں یہ چیز موجود ہو، تو اس کے استعمال میں کوئی سختی نہیں۔ اسی طرح ایسی صورت میں نماز بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
اگر الکوحل ہی کا یہی حکم ہو، تو پھر ضرورت کے تحت دوا میں اس کا استعمال بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ بعض ہومیوپیتھک ادویات میں ہوتا ہے۔
اگر اس مسئلے کے بارے میں مزید وضاحت یا تحقیق سامنے آئی تو، ان شاء اللہ، وہ بھی آپ تک پہنچا دی جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے اس مسئلے کے بارے میں کراچی یونیورسٹی کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ اور سائٹ ایریا میں موجود ایک کیمیکل فیکٹری کے کیمیکل انجینئرز سے بھی معلومات حاصل کیں۔ ان کی فراہم کردہ معلومات کا خلاصہ آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں۔
ایتھانول بنیادی طور پر ایک مائع (Liquid) ہے، جو قدرتی طور پر شکر یا نشاستے کے خمیر (Fermentation) سے بنتا ہے، اور صنعتی طریقوں سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال ادویات، مختلف طبی شربتوں، سینیٹائزرز، عطر، مختلف کاسمیٹکس، کیمیکل انڈسٹری اور بائیو فیول میں بھی کیا جاتا ہے۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا ایتھانول خود نشہ آور ہے؟ تو مجھے ماہرین نے یہی بتایا کہ خالص ایتھانول اپنی ذات میں ایک نشہ آور مادہ ہے۔اس کے نشہ آور ہونے کے لیے کسی دوسرے مادے کے ساتھ ملنا ضروری نہیں۔ جب اسے مناسب مقدار میں پیا جائے تو یہ اعصابی نظام (Nervous System) پر اثر انداز ہوتا ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور شراب نوشی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ زیادہ مقدار میں یہ بے ہوشی بلکہ بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس کا نشہ اس کی اپنی ذاتی خاصیت ہے، نہ کہ کسی دوسرے کیمیکل کے ساتھ ملنے کے بعد پیدا ہونے والی چیز۔
رہی بات کہ بعض ادویات میں ایتھانول کیوں استعمال کیا جاتا ہے، تو وہاں اس کی مقدار انتہائی معمولی (Minor) ہوتی ہے۔ اسے بطور Solvent یا Preservative استعمال کیا جاتا ہے، یعنی دوا کے اجزاء کو حل کرنے یا محفوظ رکھنے کے لیے، نہ کہ نشہ پیدا کرنے کے لیے۔
اس اعتبار سے شرعی حکم میں مقدار، مقصد اور استعمال کی نوعیت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔
جہاں تک اصل شرعی حکم کا تعلق ہے، تو ایتھانول دراصل وہی Ethyl Alcohol ہے جو شراب، وائن، وسکی اور بیئر وغیرہ میں نشہ پیدا کرنے والا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنی اصل کے اعتبار سے یہ نشہ آور ہے اور اس کے لیے کسی دوسرے کیمیکل کے ساتھ ملنا ضروری نہیں۔
اس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«كل مسكر خمر، وكل خمر حرام»
“ہر نشہ آور چیز خمر ہے، اور ہر خمر حرام ہے۔”
اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا:
«ما أسكر كثيره فقليله حرام»
“جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔”
لہٰذا اگر خالص ایتھانول پینے کے قابل حالت میں موجود ہو تو وہ اپنی ذات میں نشہ آور ہے، اس لیے اس کا پینا، خصوصاً نشے کے مقصد سے، بلا شبہ حرام ہے۔
البتہ پرفیوم، سینیٹائزر اور دیگر بیرونی (External) استعمالات کے بارے میں بہت سے معاصر علماء جواز کا فتویٰ دیتے ہیں، کیونکہ ان صورتوں میں نہ اسے پیا جاتا ہے اور نہ نشے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
رہی بات ادویات کی، تو ہومیوپیتھک ہی نہیں بلکہ ایلوپیتھک اور بعض اوقات طبِ یونانی کی بعض ادویات میں بھی انتہائی معمولی مقدار میں ایتھانول بطور محلل یا محافظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اگر اس کا کوئی مناسب متبادل موجود نہ ہو تو ضرورت کے تحت اس کے استعمال کی گنجائش ہے، لیکن اگر متبادل موجود ہو تو پھر ایسی دوا کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو چیز منہ کے ذریعے یا انجیکشن وغیرہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو، اس میں ایتھانول کے استعمال کو اکثر علماء اصل کے اعتبار سے پسند نہیں کرتے، الا یہ کہ علاج کی ضرورت ہو اور اس کا کوئی مناسب متبادل موجود نہ ہو۔
جہاں تک نشے کے لیے ایتھانول کے استعمال کا تعلق ہے، تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔ البتہ ادویات کو محفوظ رکھنے یا محلل کے طور پر اس کی انتہائی معمولی مقدار کے استعمال میں بعض علماء نے ضرورت کی بنیاد پر جواز کا فتویٰ دیا ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ



