سوال 7497

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک صحابی نے سترہ نا ملنے کی صورت میں اپنی ٹوپی اتار کے بطور سترہ رکھ دی؟ سندا یہ روایت ٹھیک ہے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
“جناب سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ شریک نامی آدمی نے ہم کو عصر کی فرض نماز ٹوپی اُتار کر پڑھائی اور ٹوپی اپنے سامنے رکھی۔”
اول یہ تو مرفوع حدیث ہے اور نہ کسی صحابی کا اثر۔
ثانی یہ کہ معلوم نہیں کہ یہ شریک کون بزرگ ہیں؟ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر ہیں یا شریک بن عبداللہ نخعی تبع تابعی ہیں۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری لکھتے ہیں:

وَلَمْ يَتَعَيَّنْ أَنَّ شَرِيكاً هَذَا مَنْ هُوَ فَلَعَلَّهُ شَرِيكُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمَرٍ أَوْ شَرِيكُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ – (بذل الجهود: ج ١ص ٣٦٧)

اور صاحب عون المعبود نے بھی یہی لکھا ہے گویا وہ ان کا پتہ نہیں چلا سکے۔ یہ شریک بن عبداللہ تابعی ہیں یا تبع تابعی ہیں۔
ثالث یہ کہ یہ دونوں ضعف سے محفوظ نہیں۔ واللہ اعلم

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ