سوال 7182

السلام علیکم معزز شیوخ کرام!
ایک جانور کی آنکھ ذرا خراب ہے مطلب واضح دکھائی تو نہیں دیتا اس کے آگے ہاتھ وغیرہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ نابینا ہے۔
تو کیا ایسا جانور عقیقے میں ذبح کیا جا سکتا ہے؟

جواب

عقیقے کے جانور میں کچھ شرائط قربانی کی نسبت سخت ہیں اور کچھ قربانی کی نسبت نرم ہے۔
قربانی اونٹ اور گائے کی بھی کی جا سکتی ہے جبکہ عقیقہ صرف چھوٹے جانور کا کیا جا سکتا ہے بھیڑ، بکرا یا دنبہ۔
قربانی دوندے سے چھوٹے جانور کی نہیں کی جا سکتی جبکہ عقیقے میں یہ شرط نہیں ہے۔
قربانی کے لیے جو عیوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں کہ ان عیوب والا جانور قربانی میں ذبح نہیں کیا جائے گا ان عیوب کا ذکر عقیقے میں نہیں ہے مطلب وہ عیوب اگر موجود ہوں تو بھی جانور عقیقے کے طور پر ذبح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عقیقے کا جانور بھی اس طرح کا ہونا چاہیے کہ اللہ کے راستے میں ذبح کرنے کے قابل ہو۔

فضیلۃ العالم مقصود احمد حفظہ اللہ

السلام علیکم! جی عقیقہ تو ہو جائے گا۔ افضل یہ ہے کہ جو چیز دل کو بھا جائے دل کو اچھی لگے وہ اللہ کی راہ میں دیں۔ جہاں تک شرط کا معاملہ ہے قربانی والی شرطیں عقیقے میں نہیں پائی جاتی۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ