سوال 7515

السلام علیکم
کیا اس معنی میں صریح نص بھی ہے کہ مسجد میں خرید و فروخت نہ کریں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (٢٤١هـ) فرماتے ہیں :

“لَا أَرَى لِلرَّجُلِ إذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ إلَّا أَنْ يُلْزِمَ نَفْسَهُ الذِّكْرَ وَالتَّسْبِيحَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ إنَّمَا بُنِيَتْ لِذَلِكَ وَالصَّلَاةِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ خَرَجَ إلَى مَعَاشِهِ وَإِنَّمَا هَذِهِ بُيُوتُ اللَّهِ لَا يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى.”

’’میں سمجھتا ہوں کہ آدمی مسجد میں داخل ہو تو اپنے آپ کو ذکر اور تسبیح میں مشغول کر لے، کیونکہ مساجد اسی ذکر وتسبیح اور نماز کے لیے بنائی گئی ہیں، جب اس سے فارغ ہو جائے تو اپنی روزی روٹی کمانے چلا جائے، یہ مساجد اللہ تعالی کے گھر ہیں جہاں خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی۔‘‘ [الآداب الشرعية والمنح المرعية : ٣/‏٣٧٩]

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس پر یہی حدیث دلیل ہے:

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا لَا أَرْبَحَ اللہُ تِجَارَتَكَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيہِ ضَالَّةً فَقُولُوا لَا رَدَّ اللہُ عَلَيْكَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ہُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ كَرِہُوا الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَقَدْ رَخَّصَ فِيہِ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ [ترمذی:1321]

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہاہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے،اور جب ایسے شخص کودیکھوجو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اُسے) تلاش کرتاہو تو کہو: اللہ تمہاری چیزتمہیں نہ لوٹائے۔امام ترمذی کہتے ہیں۔
1-ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے۔
2-بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید وفروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔یہی احمد اوراسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے۔
3-بعض اہل علم نے اس میں خرید وفروخت کی رخصت دی ہے
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے اسے ) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
1- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲۔ بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت نا جائز سمجھتے ہیں ۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے،
۳۔ بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے۔
[سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1321]
تخريج الحديث دارالدعوه: سنن النسائي / عمل اليوم والليلة 68 (176)، (تحفة الأشراف: 14591) (صحيح)
وضاحت: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حدیث میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں ، یعنی نہ بیچنا بہتر ہے، مگر یہ نری تاویل ہے ، جب صحیح حدیث میں بالصراحت ممانعت موجود ہے تو پھر مساجد میں خرید و فروخت سے باز رہتے ہوئے بازار اور مساجد میں فرق کو قائم رکھنا چاہیے ، پہلی قومیں اپنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے احکام کی نافرمانیوں اور غلط تاویلوں کی وجہ سے تباہ ہو گئی تھیں۔ اللهم أحفظنا بما تحفظ به عبادك الصالحين

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
مسجد صرف عبادت،قرآن کریم کی تلاوت کرنے ذکر و اذکار اور دین سیکھنے کے لئے بنائی گئی ہے اس پر تفصیل کتاب وسنت میں موجود ہے۔
رہا مسئلہ مسجد میں خرید وفروخت کی ممانعت کا تو جی ہاں اس کی ممانعت پر دلیل موجود ہے
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: ﻧﻬﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻦ اﻟﺸﺮاء ﻭاﻟﺒﻴﻊ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ۔
کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مسجد میں خرید وفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
[مسند أحمد بن حنبل : 6676 ،سنن أبو داود : 1079 سنده حسن لذاته]
ابن عجلان نے سماع کی تصریح کر دی ہے
یہی روایت مسند أحمد میں دوسرے طریق سے موجود ہے
ملاحظہ کریں:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻳﻋﻦﻳ اﺑﻦ اﻟﻤﺒﺎﺭﻙ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺳﺎﻣﺔ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺷﻌﻴﺐ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻗﺎﻝ: ﻧﻬﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻦ اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻻﺷﺘﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ
[مسند أحمد بن حنبل : 6991 سنده حسن لذاته]
عمرو بن شعیب عن أبيه عن جده طریق ائمہ محدثین کی جماعت کے نزدیک معتبر و قابل احتجاج ہے الا کہ کسی روایت کا منکر ،غیر محفوظ ہونا قرائن سے ثابت ہو جائے ۔
اور اس روایت کے دیگر طرق بھی موجود ہیں
امام ترمذی نے کہا:
ﻭﻗﺪ ﻛﺮﻩ ﻗﻮﻡ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ.
ﻭﺑﻪ ﻳﻘﻮﻝ ﺃﺣﻤﺪ، ﻭﺇﺳﺤﺎﻕ۔
سنن ترمذی : 322 کے تحت
حدیث عمرو بن شعیب عن أبيه عن جدہ پر امام نسائی نے یوں عنوان قائم کیا ہے
اﻟﻨﻬﻲ ﻋﻦ اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ۔۔۔۔۔
[سنن نسائی : 714]
امام ابن خزیمہ نے اس حدیث پر یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺑﺎﺏ اﻟﻨﻬﻲ ﻋﻦ اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ
[صحیح ابن خزیمہ : 1304]
امام ابن المنذر نے اس حدیث پر یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺫﻛﺮ اﻟﻨﻬﻲ ﻋﻦ اﻟﺒﻴﻊ، ﻭاﻟﺸﺮاء، ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ
[الأوسط لابن المنذر : 2515]
اس حدیث اور حدیث ابو ہریرہ رضی الله عنہ وغیرہ پر امام بیھقی نے یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺑﺎﺏ ﻛﺮاﻫﻴﺔ ﺇﻧﺸﺎﺩ اﻟﻀﺎﻟﺔ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﻭﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ ﻣﻤﺎ ﻻ ﻳﻠﻴﻖ باﻟﻤﺴﺠﺪ
السنن الكبرى للبيهقى :2/ 627
ایسے ہی حدیث أبو ہریرہ رضی الله عنہ پر امام ترمذی نے یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺑﺎﺏ اﻟﻨﻬﻲ ﻋﻦ اﻟﺒﻴﻊ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ
سنن ترمذی :(1321)
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی حدیث پر امام ابن حبان نے یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺫﻛﺮ اﻟﺰﺟﺮ ﻋﻦ اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ ﺇﺫ اﻟﺒﻴﻊ ﻻ ﻳﻜﺎﺩ ﻳﺨﻠﻮ ﻣﻦ اﻟﺮﻓﺚ ﻓﻴﻪ
صحیح ابن حبان :(1650)
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی حدیث سے بھی مسجد میں تجارت کی ممانعت وحرام ہونا ثابت ہوتا ہے ۔
محدث مبارک پوری رحمة الله عليه
کہتے ہیں:
ﻗﻮﻟﻪ (ﻭاﻟﻌﻤﻞ ﻋﻠﻰ ﻫﺬا ﻋﻨﺪ ﺑﻌﺾ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻛﺮﻫﻮا اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ) ﻭﻫﻮ اﻟﺤﻖ ﻷﺣﺎﺩﻳﺚ اﻟﺒﺎﺏ (ﻭﻗﺪ ﺭﺧﺺ ﺑﻌﺾ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻓﻲ اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ) ﻟﻢ ﺃﻗﻒ ﻋﻠﻰ ﺩﻟﻴﻞ ﻳﺪﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﺮﺧﺼﺔ ﻭﺃﺣﺎﺩﻳﺚ اﻟﺒﺎﺏ ﺣﺠﺔ ﻋﻠﻰ ﻣﻦ ﺭﺧﺺ
تحفة الأحوذى:4/ 459
شیخ ابن عثیمین رحمة الله عليه کہتے ہیں:
ﻭﻣﻦ ﺃﺣﻜﺎﻡ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺑﻬﺎ اﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﻗﻠﻴﻼ ﺃﻭ ﻛﺜﻴﺮا ﻻ ﺗﺒﻴﻊ ﺷﻴﺌﺎ ﺑﻘﺮﺵ ﻭاﺣﺪ ﻓﺈﻥ ﺫﻟﻚ ﺣﺮاﻡ ﻋﻠﻴﻚ ﻭاﻟﺒﻴﻊ ﻓﺎﺳﺪ ﻻ ﻳﻨﺘﻘﻞ ﻓﻲﻫ اﻟﺜﻤﻦ ﻟﻠﺒﺎﺋﻊ ﻭﻻ اﻟﻤﺒﻴﻊ ﻟﻠﻤﺸﺘﺮﻱ ﻭﻳﺠﺐ ﺃﻥ ﻳﺮﺩ ﻛﻞ ﻭاﺣﺪ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻟﻵﺧﺮ ﻣﺎ ﺃﺧﺬ ﻣﻨﻪ ﺳﻮاء ﻗﻞ ﺃﻭ ﻛﺜﺮ ﺣﺘﻰ ﻟﻮ ﻗﺎﻝ ﻳﺎ ﻓﻼﻥ ﻋﻨﺪﻙ اﻟﺤﺎﺟﺔ اﻟﻔﻼﻧﻴﺔ ﻗﺎﻝ ﻧﻌﻢ ﻗﺎﻝ ﺃﺭﺳﻠﻲ ﻣﻨﻬﺎ ﻛﺬا ﻭﻛﺬا ﺇﻥ ﻗﺎﻝ ﻟﻪ ﻋﻨﺪﻙ ﺭﺯ ﻗﺎﻝ ﻧﻌﻢ ﻗﺎﻝ ﺃﺭﺳﻞ ﻟﻨﺎ ﻣﻨﻪ ﻛﻴﺴﺎ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻓﻬﺬا ﺣﺮاﻡ ﻷﻥ ﻫﺬا ﺑﻴﻊ ﻭﺷﺮاء ﻓاﻟﺒﻴﻊ ﻭاﻟﺸﺮاء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﺄﻱ ﺣﺎﻝ ﻣﻦ اﻷﺣﻮاﻝ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ……….
شرح رياض الصالحين:6/ 442
فائدة:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻲ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻣﻬﺪﻱ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺎﻟﻚ ﻗﺎﻝ: ﺭﺃﻯ ﻋﻄﺎء ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ ﺭﺟﻼ ﻳﺒﻴﻊ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻓﺪﻋﺎﻩ ﻓﻘﺎﻝ: ﻫﺬﻩ ﺳﻮﻕ اﻵﺧﺮﺓ ﻓﺈﺫا ﺃﺭﺩﺕ اﻟﺒﻴﻊ ﻓﺎﺧﺮﺝ ﺇﻟﻰ ﺳﻮﻕ اﻟﺪﻧﻴﺎ
الزهد لأحمد بن حنبل :(1846) واللفظ له،الزهد لأبي داود :(441)موطأ امام مالك رواية أبي مصعب الزهري:(580) و رواية يحيى بن يحيى الليثي:1/ 174(92)
البتہ موطا امام مالک میں ﻋﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺃﻧﻪ ﺑﻠﻐﻪ ﺃﻥ ﻋﻄﺎء ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ سے مروی ہے۔
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ ﺃﻥ ﺃﺑﺎ اﻟﺪﺭﺩاء ﺭﺃﻯ ﺭﺟﻼ ﻳﻘﻮﻝ ﻟﺼﺎﺣﺒﻪ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ اﺷﺘﺮﻳﺖ ﻭﺳﻖ ﺣﻄﺐ ﺑﻜﺬا ﻭﻛﺬا
ﻓﻘﺎﻝ ﺃﺑﻮ اﻟﺪﺭﺩاء ﺇﻥ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ ﻻ ﺗﻌﻤﺮ ﺑﻬﺬا
الورع لأحمد رواية المروزي:(201) ،الزهد لأحمد بن حنبل :(781)
یہ اثر سندا ثابت نہیں بھی ہے تب بھی متن کی تائید حدیث مسلم سے ہوتی ہے
فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَ کے الفاظ اس کی تائید کرتے ہیں
المختصر:
مساجد کے بنانے کے مقاصد عبادت کرنا، تلاوت قرآن ،ذکر الہیٰ ،اور دین سیکھنے کے ہیں اور یہ کہ تجارت و کاروبار کی جگہ مساجد نہیں بلکہ بازار اور منڈیاں ہیں اور پھر صحیح مسلم کی حدیث میں ہی الله تعالیٰ کے نزدیک بازار کو سب سے بری ترین جگہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہاں پر صحیح کاموں یعنی شرعی احکام کے مطابق تجارت کرنے کے ساتھ کئ قسم کے فتن و گناہ موجود ہوتے ہیں اور مساجد جیسی مبارک جگہیں فتن اور گناہوں سے محفوظ ہوتی ہیں ۔
اس لئے مساجد میں تجارت حرام و گناہ ہے اس کے جواز پر سرے سے دلیل شرعی موجود نہیں ہے ۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم ورحمة اللّٰه وبرکاته
مسجد کے باہر صحن کا بھی یہی حکم ہے؟
لوگ کتب یا ٹوپیاں وغیرہ فروخت کرسکتے صحن میں؟
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو جگہ مسجد کہلائے وہاں جائز نہیں ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ