سوال 7503
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
من کان یعبد محمدا فان محمدا قد مات
عبادت محمد کی کیا توجیہ ہوگی؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس میں غالباً تنبیہ اور نصیحت مراد تھی۔ مقصدِ حیات اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے، اور اللہ حیٌّ لا یموت ہے۔ محمد کریم ﷺ بندگی کا طریقہ سکھانے آئے تھے، اپنی بندگی کروانے نہیں آئے تھے۔
لہٰذا جس شخص نے اپنی بندگی کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا کہ جب تک وہ ہیں تب تک بندگی ہے، تو اسے اس خیال سے باز آ جانا چاہیے۔
اصل پیغام یہ تھا کہ ہر بشر نے بالآخر جانا ہوتا ہے، چاہے وہ اللہ کا برگزیدہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے یاد دہانی اور تجدید مقصود تھی کہ مقصدِ حیات اللہ کی بندگی اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت ہے۔
عبادت کا دروازہ کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ان کی وجہ سے عبادت ہو رہی تھی، یا معاذ اللہ ان کی عبادت ہو رہی تھی، تو پھر اس دروازے کو بند کر دو۔ نعوذ باللہ! اللہ کے باغی ہو جاؤ، پھر دیکھنا اللہ تعالیٰ کا کیا امر آتا ہے تمہارے لیے۔
لہٰذا یہ دراصل ایک تنبیہ، ایک نصیحت اور مقصدِ حیات کی یاد دہانی تھی کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت و اتباع لازم ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




