سوال 7489

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حالت نماز میں رکوع سجود یا تشہد میں اپنی زبان میں دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگرچہ ہر مسئلے کی طرح اس مسئلے میں بھی اختلاف ہے، لیکن اب تک ہمارا جو مطالعہ ہے، اس کے مطابق جمہور اہلِ علم، یعنی قرنِ اول سے لے کر آج تک اکثریت کا رجحان یہی ہے کہ نماز میں وہی دعائیں پڑھی جائیں جو منقول ہیں۔
سجدے میں جو دعائیں بتائی گئی ہیں، وہ پڑھی جائیں؛ رکوع میں جو دعائیں بتائی گئی ہیں، وہ پڑھی جائیں؛ اور تشہد میں جو دعائیں منقول ہیں، وہی پڑھی جائیں۔
البتہ سجدے اور تشہد میں زیادہ دعائیں پڑھ سکتے ہیں، کیونکہ حدیث میں سجدے اور تشہد کے بارے میں اس کی گنجائش ملتی ہے۔ لیکن یہ اضافہ بھی انہی دعاؤں میں سے ہو جو قرآن و سنت میں پہلے سے موجود اور منقول ہیں۔
یعنی ممکن ہے کوئی دعا قرآن و سنت میں کسی اور مقصد کے تحت آئی ہو، لیکن ہمیں اس وقت اس دعا کی ضرورت ہو اور ہم اسے سجدے میں پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں، اسی طرح تشہد میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
البتہ اپنی زبان میں دعا کرنے کے بجائے جو دعا منقول ہے، اسے اسی طرح پڑھا جائے۔ دلوں کے حال اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ