سوال 7322

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک بہت اہم سوال ہے کہ نکاح کے وقت حق مہر کے علاؤہ کوئی شرط لگانا مثلاً اگر شوہر بیوی کو طلاق دے گا تو اس کو 10 لاکھ ادا کرنا پڑے گا آیا کہ یہ جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
بعض علماء نے ایسی شرط کو ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ طلاق کا اختیار مرد کو حاصل ہے۔
جبکہ بعض دیگر علماء نے احادیث کو ان کے عموم پر محمول کیا ہے۔ ان کا استدلال نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے ہے کہ:
“نکاح کے وقت جو شرطیں طے کی جائیں، انہیں پورا کیے جانے کا سب سے زیادہ حق ہے۔” (بخاری)
اسی طرح حدیث ہے: «المؤمنون على شروطهم»
یعنی: مسلمان اپنی طے شدہ شرطوں کے پابند ہوتے ہیں۔
اسی بنیاد پر بعض عرب علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ ایسی شرط جائز ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی حقِ مہر ہی کی ایک صورت ہے؛ یعنی ایک حق مہر وہ ہے جو نکاح کے وقت ظاہر کر دیا جاتا ہے، جبکہ دوسرا گویا مؤخر حق مہر ہے، جسے شرط کی صورت میں مقرر کر دیا جاتا ہے۔
لہٰذا اس مسئلے میں گنجائش موجود ہے۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ اس خاندان یا لڑکے میں پہلے سے ایسی شرارت یا زیادتی کا رجحان پایا جاتا ہے، یا اس حوالے سے کوئی سابقہ تجربہ موجود ہو، تو احتیاطاً ایسی مالی شرط یا جرمانہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ بظاہر فتویٰ بھی اسی رائے کی طرف معلوم ہوتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ