سوال 7646

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَامَ بَصَرِي قِيلَ: نُدَاوِكَ وَتَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامًا؟ قَالَ: لَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ…
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِي فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ مَحْمُودٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ: رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِي وَسَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ. قُلْتُ: وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخْرَمِيُّ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

سید نا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں : جب میری بینائی کمزور ہو گئی، تو یہ کہا : گیا : ہم آپ کا علاج کرتے ہیں ، آپ کچھ دن تک نماز ترک کردیں، تو سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : “جو شخص نماز ترک کر دے گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر
غضبناک ہوگا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سهل بن محمود ہے ، جس کا ذکر ابن ابو حاتم نے کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : احمد بن ابراہیم دورقی اور سعدان بن یزید نے اس سے روایت نقل کی ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
یہ روایت ضعیف ہے
سماک عن عکرمہ روایت پر جرح مفسر ہے۔
تفصیل سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني :(4573) میں دیکھئیے۔
البتہ صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین نے کبھی کسی حالت میں نماز ترک نہیں کی ہے اور بے نماز جب تک سچی توبہ نہ کر لے رب العالمین کی ناراضگی لیے پھرتا ہے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ